جمعہ کا دن اہل ایمان کے لیے محض ایک ہفتہ وار اجتماع کا عنوان نہیں بلکہ تاریخ رسالت کے وہ بابرکت لمحات ہیں جن میں ساعتِ اجابت کی بشارت دی گئی۔۔۔ وہ لمحہ جس میں دعا زمین سے اٹھ کر آسمان کو چیرتی ہوئی عرش کے دربار میں پہنچتی ہے اور قبولیت کا جامہ پہنتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جس کے انتظار میں صادقین اپنے دلوں کو جھکاتے اور صدیقین اپنی زبانوں کو پکار سے بھگوتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اس کے بارے میں احادیث میں مختلف اقوال آئے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق یہ امام کے منبر پر بیٹھنے اور نماز کے ختم ہونے کے درمیان ہے (صحیح مسلم، کتاب الجمعہ)، بعض کے نزدیک یہ عصر کے بعد کا وہ لمحہ ہے جب سورج ڈھلنے کو ہوتا ہے (سنن ابی داؤد) اور بعض اقوال میں پورے جمعہ کو ہی گھیرے میں لیا گیا ہے کہ گویا یہ ساعت مختلف پہلوؤں سے اپنے راز کھولتی ہے۔۔۔ محدثین نے اس کے بارے میں بڑی باریک بحثیں کی ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے تعین میں جو اختلاف ہے وہ خود رحمت ہے تاکہ مومن ہر گھڑی دعا میں جٹا رہے۔۔ کبھی منبر کے خطبے کے سائے میں، کبھی سجدے کی وسعت میں اور کبھی عصر کے بعد کے غروب آفتاب کے قریب لمحوں میں۔ اور یہی راز ہے کہ جمعہ کے دن کی گھڑیاں اپنی وسعت میں رحمت کا سمندر ہیں۔ ایک طرف قرآن نے اس دن کو یوم الجمعہ کہہ کر یاد کیا جس میں اہل ایمان کے لیے ذکرِ الٰہی کا خصوصی حکم ہے اور دوسری طرف رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن ایک ایسی ساعت ہے جس میں بندہ جو کچھ مانگے اللہ اسے ضرور عطا فرماتا ہے (بخاری، مسلم)۔۔۔ بس یہی وقت ہے جس کے لیے اہل دل اپنی تمناؤں کو باندھتے ہیں، رقت آمیز آنکھوں سے رب کو پکارتے ہیں اور زمین و آسمان گواہ رہتے ہیں کہ یہ لمحہ رد نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔
عرفاء نے اس کو یوں سمجھایا کہ یہ وہ وقت ہے جب کائنات کی سرگوشیاں بند ہو جاتی ہیں اور دربارِ الٰہی کے دروازے کھل جاتے ہیں کوئی دل اگر اس وقت سچائی سے پکارے تو اس کی پکار تقدیر کے دفتر میں لکھی جاتی ہے۔۔۔۔ اہل ایمان کا یہی سرمایہ ہے کہ وہ جمعہ کی گھڑیوں کو بے قدری میں نہ گنوائیں بلکہ اپنی دعاؤں کو ابدیت کے زادِ راہ بنا لیں کہ شاید یہی وہ ساعت ہو جو ان کی زندگی بدل دے، یہی وہ گھڑی ہو جس میں امت کی غلامی کے اندھیروں سے نکلنے کی دعا قبول ہو اور یہی وہ ساعت ہو جس میں مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے بہایا گیا آنسو رحمت کا مینہ بن جائے۔۔۔۔۔۔۔
- ✍🏻 محمد پالن پوری
https://whatsapp.com/channel/0029Vb6ClOvDuMR