"نوجوان: ملت کا سرمایہ اور اسلام کے علمبردار"
اس حقیقت سے کوئی ذی شعور نہ آشنا نہیں ہو سکتا کہ نوجوانی زندگی کا لب لباب ہوتی ہے، جوانی کی طاقت، جوانی کا وقت، جوانی کے جذبات، جوانی کے عزائم زندگی کے دیگر مراحل کے مقابلے میں ایک نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کیا اہل دنیا؛ کیا اہل دین؛ سبھی نے جوانوں کے حوصلوں کو اپنی محنت کا محور و میدان بنایا ہے تاریخ شاہد ہے یہی نوجوان جب اٹھے تو بڑی بڑی پرسکون حکومتوں کے تختے پل بھر میں الٹ دیے
نوجوان حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی منتشر طاقت جب توحید کے پلیٹ فارم پر مجتمع ہوئی تو قیصر و کسری کے پرخچے اڑ گئے مشرکین مکہ اور صنا دیدے قریش جو کسی طاقت کے سامنے سرنگوں ہونے کو تیار نہ تھے انہوں نے پاک باز اور باصفا جاں نثار پیکر صدق و وفا اور مجسمہ جود و سخا نوجوانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے
’’حزب النبی‘‘ کے کتنے ہی سپاہی اپنے پورے عنفوان شباب میں اپنی قدم ہی رکھے ہوئے تھے کہ اچانک میدان کارزار کا بگل بجا اور اپنا کل سرمایہ حیات لے کر محاذ پر نکل پڑے ان میں بعض تو وہ تھے جن کے نکاح کو ابھی ایک ہی شب گزری تھی مگر چونکہ ان کی صلاحیتوں کو صحیح سمت مل چکی تھی نگاہ نبوت کی پاکیزہ کرنے ان کے ناسوتی بدنوں کو چیرتی ہوئی درون دل میں اپنی جگہ کر چکی تھی اس لیے نہایت ہی قلیل عرصے میں مٹھی بھر نوجوانوں کی جماعت نے وہ نمایاں کارنامے انجام دیے، جو صرف تاریخ اسلام ہی کا نہیں بلکہ تاریخ انسانی کا بھی ایک نہایت روشن باب ہے٬
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد جب خلافت راشدہ کا ذریں دور شروع ہوا تب بھی اسلام کی بساط کے چہار دانگ عالم میں پھیلنے کا سہرا جن قدوسی صفات ہستیوں کے سر بندھتا ہے، وہ یہی نوجوان صحابہؓ اور تابعینؒ کی جماعت ہے۔ کہاں تک شمار کرائیں!!! ناموس اسلام پر مر مٹنے والے بطل توحید کی ایک سلسلہ وار کھیپ ہے جن کے ہاتھوں رب ذوالجلال نے ہر دور میں ’’اشاعت اسلام‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’حفاظت اسلام‘‘ کی گراں قدر خدمت لی ہے۔
نوجوانی اگر غفلت و خواہشات کی نذر ہو جائے تو تباہی ہے،
اور اگر ایمان و عمل کی راہ پر لگ جائے تو یہی جوانی دنیا بدل دیتی ہے۔
آج امت کو پھر ویسے ہی باکردار، باایمان اور باحوصلہ نوجوانوں کی ضرورت ہے
جو اپنی جوانی کو رب کے دین کے لیے وقف کر دیں،
اپنے خوابوں کو امت کے درد سے جوڑ دیں،
اور اپنی قوت کو ’’لا إله إلا الله‘‘ کے پیغام کی سربلندی کے لیے استعمال کریں۔
اے نوجوانو! اٹھو،
تمہاری آنکھوں کی چمک امت کی امید ہے،
تمہارا عزم اسلام کا مستقبل ہے،
اور تمہاری جوانی رب کے دین کی سب سے قیمتی امانت ہے۔
خاکپاۓ شما: محمد معصوم ارریاوی
شریک عربی پنجم دارالعلوم وقف دیوبند