(23)مضمون
بسم اللہ الرحمن الرحیم
_________________
بھارت بند اور مسلم
پرسنل لا بورڈ
________________
بقلم: محمودالباری
_____________
گزشتہ دنوں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے 3 اکتوبر کو ملک گیر ’’بھارت بند‘‘ کا اعلان کیا تھا، مگر بعد میں یہ اطلاع سامنے آئی کہ بورڈ نے عین موقع پر اس فیصلہ کو مؤخر کر دیا ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ چونکہ ان دنوں ہندو برادری کے تہوار ہیں، اس لیے ٹکراؤ کی فضا پیدا نہ ہو۔ بظاہر یہ عذر معقول معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ رویہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
کیا کسی بڑے احتجاج یا تحریک کی تاریخ طے کرتے وقت بورڈ کے ذمہ داران نے ملکی کیلنڈر پر ایک نظر نہیں ڈالی؟ کیا اتنے بڑے فیصلے سے پہلے اجتماعی مشاورت اور عوامی تیاریوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا؟ جب کوئی ادارہ عوام سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنی روزمرہ مصروفیات قربان کرکے احتجاج میں شریک ہوں تو یہ ایک امانت دارانہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ تاریخ کا اچانک مؤخر ہونا اس ذمہ داری کے ساتھ ناانصافی ہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ عوامی تحریکیں صرف نعروں سے نہیں، بلکہ منصوبہ بندی، اعتماد اور مستقل مزاجی سے کامیاب ہوتی ہیں۔ اگر آج ایک تاریخ طے ہو اور کل اسے بدل دیا جائے تو عوام کے دلوں میں سنجیدگی پر سوال اٹھتے ہیں۔ مزید خطرناک پہلو یہ ہے کہ مخالفین کو ہمارے اوپر ہنسنے کا موقع ملتا ہے اور وہ یہ باور کراتے ہیں کہ ’’یہ لوگ اپنی ہی صفوں کو منظم نہیں رکھ پاتے‘‘۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کی، اس کے قائدین نے دو باتوں کو کبھی کمزور نہ ہونے دیا: سنجیدگی اور استقامت۔ اگر ہم بار بار رعایت دینے کے نام پر اپنے ہی فیصلے بدلتے رہے تو نہ صرف ہماری تحریکیں غیر مؤثر ہوجائیں گی بلکہ عوامی اعتماد بھی متزلزل ہوگا۔
اس موقع پر بورڈ کو چاہیے تھا کہ ایک بار جو تاریخ طے ہو گئی ہے، اس پر ڈٹے رہتے اور اگر واقعی کسی ناگزیر مجبوری کی وجہ سے ملتوی کرنا ضروری تھا تو اس کا واضح اور مدلل اعلان کرتے۔ محض ’’تہوار‘‘ کے نام پر اتنا بڑا فیصلہ بدل دینا عوامی توقعات کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔
قوم آج سوال کر رہی ہے کہ: کیا ہماری قیادت واقعی مستقبل کے چیلنجوں کے لیے تیار ہے؟ یا پھر محض وقتی ردِعمل اور جذباتی فیصلے ہی ہمارا مقدر بنے رہیں گے؟
چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ (المائدہ: 1)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے وعدوں کو پورا کرو۔"
جب کوئی ادارہ عوام سے اعلان کرتا ہے کہ فلاں دن تحریک یا احتجاج ہوگا، تو یہ دراصل ایک عہد ہے۔ اس عہد کو بغیر ٹھوس وجہ کے مؤخر یا منسوخ کرنا وعدہ خلافی کے مترادف ہے، جو قرآن کی ہدایت کے سراسر خلاف ہے۔
رسول اکرم ﷺ کی سیرت میں ہمیں سبق ملتا ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی کسی عزم یا معاہدے کو بلاوجہ مؤخر نہیں کیا۔ صلح حدیبیہ اس کی روشن مثال ہے۔ مسلمانوں کے دل اس وقت آزردہ تھے، لیکن آپ ﷺ نے جو معاہدہ طے کیا تھا، اس پر ڈٹے رہے اور دشمن کو بھی یہ باور کرایا کہ مسلمان اپنے وعدے میں پکے ہیں۔ یہی استقامت بعد میں فتح مکہ کا پیش خیمہ بنی۔
اسی طرح تاریخ اسلام گواہ ہے کہ خلفائے راشدین نے عوامی اعتماد کو کبھی کمزور نہ ہونے دیا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا تھا:
"اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مر جائے تو میں ڈرتا ہوں کہ اللہ مجھ سے اس کا حساب نہ لے۔"
یہی احساسِ جوابدہی قیادت کی اصل بنیاد ہے۔
آج جب ہماری قیادت اپنے ہی فیصلوں کو بار بار بدلتی ہے، تو عوامی اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور مخالفین کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک سنجیدہ قوم ہیں جو اپنے فیصلوں پر قائم رہتی ہے، یا پھر ایسے لوگ جو وقتی دباؤ اور حالات کے بہانے بنا کر اپنی تحریکوں کو کمزور کرتے ہیں؟
قیادت کا حق تبھی ادا ہوگا جب وہ اپنے فیصلوں میں پختگی دکھائے۔ جو تاریخ طے ہو، وہی تاریخ رہے۔ اگر مجبوری پیش آئے تو وجہ شفاف اور مدلل انداز میں بیان کی جائے۔ عوام قربانی دینے کو تیار ہیں، لیکن وہ اس وقت تیار ہوں گے جب قیادت اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں استقامت دکھائے۔
تحریکیں کبھی نعرے اور تماشوں سے کامیاب نہیں ہوتیں، بلکہ سنجیدگی، استقامت اور یقین دہانی سے آگے بڑھتی ہیں۔ اگر مسلم پرسنل لا بورڈ واقعی مسلمانوں کی نمائندگی کا حق ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی قیادت کو مزید مضبوط، سنجیدہ اور جواب دہ بنانا ہوگا۔
: نوٹ:
یہ تحریر لکھنے کا مقصد اپنے قائدین پر تنقید یا الزام تراشی نہیں ہے، بلکہ مؤدبانہ طور پر ایک رائے پیش کرنا ہے۔ قیادت امت کی امانت اور سرمایہ ہے۔ ہماری نیت صرف خیر خواہی اور اصلاح کی ہے تاکہ ہماری صفیں مزید مضبوط ہوں اور ہماری تحریکیں زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکیں۔
اللہ رب العزت ہمارے قائدین کو بصیرت، حکمت اور استقامت عطا فرمائے، انہیں صحیح فیصلے کرنے کی توفیق بخشے، اور ہمیں سب کو ایک صف میں متحد ہو کر دین و ملت کی خدمت کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
mahmoodulbari342@gmail.com