جسے قید خانہ سمجھ کر گزاری تھی برسوں، آج اسی قید خانے سے محبت ہو گئی
شعر
عجب کشش تھی اسیرِ قفس کی قسمت میں
رہائی مل گئی لیکن اداس بیٹھا ہوں
تمہید:
انسانی فطرت ہے کہ وہ آزادی پسند کرتا ہے اور جب اسے کسی نظم و ضبط یا ضابطے میں باندھا جاتا ہے، تو اسے وہ دیواریں قید خانہ نظر آنے لگتی ہیں۔ آج سے چند سال پہلے جب میں اس مدرسے کی چہار دیواری میں داخل ہوا تھا، تو یہاں کی پابندیاں، صبح سویرے بیدار ہونا، تکرار کی گھنٹیاں اور اساتذہ کی سختیاں مجھے ایک قید کی مانند لگتی تھیں۔ لیکن آج جب یہاں سے رخصت ہونے کا وقت آیا ہے، تو دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور احساس ہو رہا ہے کہ جسے میں قید خانہ سمجھتا تھا، وہ دراصل میری زندگی کا سب سے محفوظ اور نورانی ٹھکانہ تھا۔
پابندیوں میں چھپی محبت:
مدرسے کا وہ مخصوص نظام، وقت پر دسترخوان پر بیٹھنا، اسباق کی یاد دہانی اور رات گئے تک مطالعہ کرنا، شروع میں ایک بوجھ محسوس ہوتا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ کب یہاں سے نکلیں اور آزاد دنیا کی رنگینیوں میں کھو جائیں۔ مگر آج یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے کہ وہ "قید" دراصل ہمیں زمانے کے فتنوں سے بچانے کے لیے ایک ڈھال تھی۔ اساتذہ کی وہ ڈانٹ ڈپٹ جسے ہم سختی سمجھتے تھے، وہ ہمارے کردار کو تراشنے کے لیے ایک سنار کی چوٹ تھی۔
اس "قید خانے" کے ساتھیوں کے ساتھ ہنسنا، ایک ہی تھالی میں کھانا، راتوں کو چھپ کر باتیں کرنا اور امتحان کی تیاری میں ایک دوسرے کی مدد کرنا— یہ وہ زنجیریں تھیں جنہوں نے ہمیں ایک دوسرے کے دلوں سے باندھ دیا تھا۔ آج مدرسے کا ہر گوشہ، وہ مسجد کا صحن، وہ دار المطالعہ کی میزیں اور وہ پرانی کتابیں مجھ سے سوال کر رہی ہیں کہ "کیا واقعی تم اس قید سے آزاد ہونا چاہتے تھے؟"
آج جب سامان باندھ لیا ہے اور واپسی کا سفر سامنے ہے، تو دنیا کی وہ آزادی ایک خوفناک جنگل معلوم ہو رہی ہے۔ اب احساس ہو رہا ہے کہ باہر کی دنیا میں نفس کی غلامی ہے، جبکہ اس "قید خانے" میں رب کی بندگی اور سکون تھا۔ یہاں کی ہر پابندی میں ایک مٹھاس تھی اور ہر حکم میں ایک سبق۔
سچ تو یہ ہے کہ جس جگہ نے ہمیں انسان بنایا، جہاں ہم نے قرآن و حدیث کی روشنی پائی، وہ جگہ قید خانہ نہیں بلکہ جنت کا ایک ٹکڑا تھی۔ آج دل پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے کاش! میں اسی قید میں ہمیشہ کے لیے رہ جاتا۔ یہ جدائی نہیں بلکہ ایک عہد ہے کہ یہاں سے جو نور ہم نے حاصل کیا ہے، اسے پوری دنیا میں پھیلائیں گے، مگر اس "حسین قید خانے" کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں آباد رہیں گی۔
بچھڑ کر تجھ سے اب جائیں کہاں اے درس گاہِ جاں!
تیری دیوار و در میں آج اپنی زندگی چھوڑی
از ✍️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی