بہت سی کتابوں کے مصنف اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کےشاگرد *مولانا رفیع الدین صاحب مرادآبادی* 
کہا جاتا ہے کہ ان کا سفرنامۂ حج ہندوستان کا سب سے پہلا سفرنامۂ حج ہے'
١٨/ محرم ؁١٢٠١ھ میں اپنے وطن شہر مرادآبادسے روانہ ہوئے اور دوسال،دو ماہ دوہفتہ کے بعد ؁١٢٠٣ھ میں گھر واپس ہوئے ۔
انہوں نے اپنے سفرنامۂ حج میں اس دور کی ایک عجیب بات تحریر فرمائی ہے (جس سے اس زمانے میں اختلاف بین المسالک کی وسیع ترین خلیج کا پتا چلتا ہے)
لکھتے ہیں کہ: "حرم میں ہر مذہب کی الگ الگ جماعت کا رواج موجود پایا،فجر میں ابتدا شافعی امام سے ہوتی ہے،اس کے بعد ترتیب وارمالکی، حنبلی اور حنفی امام نماز پڑھاتے ہیں
 ظہر عصر اور عشاء کی نماز میں ابتدا مالکی امام سے ہوتی ہے اس کے بعد شافعی اور حنفی،
 مغرب میں حنفی امام ابتدا کرتا ہے اس کے بعد شافعی امام کی باری ہوتی ہے۔
 عموما ایسا ہوتا ہے کہ ایک نے سلام پھیرا اور دوسرے نے اقامت کہی؛مگر یہ اچھی بات نہیں ہے، یہ اہتمام سارا بدعت ہے اور جمعہ کی نماز اس پر گواہ ہے کہ سب ایک ہی کے پیچھے پڑھتے ہیں، جماعتوں میں سب سے زیادہ کثرت حنفی جماعت میں ہوتی ہے
۔