سوال یہ ہے کہ معاشرے سے دن بدن لوگ نماز اور مسجد سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں ، اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟ 
موجودہ حالات و زمانہ میں روز بروز نمازیوں کی تعداد میں کمی محسوس ہوتی جارہی ہے بلکہ پورا معاشرہ غفلت کی چادر میں لپٹ کر بے پروا نیند کی آغوش میں سویا پڑا ہے ، غفلت کی یہ چادر معاشرے کے ہر ہر فرد کو اپنے لپیٹ میں لئے ہوئے ہے ، خواہ خواص ہو یا عوام ، علماء وحفاظ کی جماعت ہو یا عام دینداروں کا ٹولہ ہو یا پھر دانشمندوں اور اہل نظر کا گروہ ہو، خواہ چہرہ نور سے نورانی ہو یاچہرہ بےنور ہو ، کیا مرد اور کیا عورت ، سارا معاشرہ بے نمازیوں سے بھرا پڑا ہے ، 

اور بے نمازیوں کی نحوست کے منفی اثرات پورے معاشرے پر آفات و بلیات کی اور خشکی اور بری پر عذاب کی شکل میں مسلسل بارش ہو رہی ہے ، جس کا ہمیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہے ، مختلف انواع و اقسام کی برائیاں ہمارے معاشرے میں روز بروز جنم لے رہی ہیں ، جس کی وجہ سے ہماری روحیں اور جسمیں مختلف امراض و بیماریاں کا شکار بن رہی ہیں ، حتیٰ کہ ترک نماز سے سماج کے بڑے بوڑھے اور نوجوان نماز سے دور ہونے کے نتیجے پر شراب نوشی ، جوا ، سٹابازی ، سود خوری ، جھوٹ ، فریب ، دغابازی ، رشوت خوری ، بدنظری ، ہوٹل بازی ، اور شادی خانوں میں بے جا وقت کا ضائع کرنا ، موبائل فون پر بےجا چمٹے رہنا یہ سارے غیر شرعی امور سماج میں اپنی جگہ پکڑتی نظر آرہی ہیں، وغیرہ وغیرہ ، یہ سارے افعال ایمان و یقین ،کو مضمحل کرنیوالے ہیں اور پوری کی پوری بستی انوار و برکات سے بالکل محروم ، ویران اور شہر خموشاں کے مانند ہوچکی ہے ، نسل نو کے دل دماغ میں نماز کی اہمیت اور قدر و منزلت مدھم ہو گئ ہے ، 

بے نمازی ہونے کے چند اسباب یہ ہیں جو درج ذیل ہیں ، 

الف ،ترک نماز ،یعنی ایمان کے بعد سب سے مہتم بالشان عبادت نماز ہے ، نماز قائم کرنے سے مومن بے حیائ اور برائی سے محفوظ ہو جاتا ہے ، 
قال اللہ تبارک وتعالیٰ ، ان الصلاة تنهى عن الفحشاء و المنكر ، (سورۃ العنکبوت ، آیت 45)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، بے شک نماز بے حیائ اور بری باتوں سے روکتی ہے  ،

ب، دوسرا سبب رزق حلال کا اہتمام نا کرنا ، 

ج، تیسرا سبب ، بازار کی چیزوں کو اپنا غزا بنانا خواہ ماکولات ہوں یا مشروبات ہوں ، یہ سب قلوب و ایمان کیلئے مضر ثابت ہوتے ہیں ، 
د، سب سے اہم سبب نماز سے دور ہونے کا معرفت الٰہی کا فقدان عام کا پایا جانا ہے ، اور خشیت الٰہی کے ناہونے سے ہم نے آخرت پر دنیا کو ترجیح دی ہے ، اور آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں ، اللہ کے وعیدوں اور سزاؤں کو فراموش کر بیٹھے ہیں یعنی حساب و کتاب کے دن کا یقین بالکل کھو بیٹھے ہیں ، 
س، بے نمازی ہونے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ موت سے نفرت، زندگی سے پیار اور لقاء الہی کی یقین کی کمزوری ،

 
لوگوں کو نماز سے قریب کرنے کا سب سے مہتم بالشان طریقہ کار
 یہ ہے کہ علماء و خواص پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سارے نوافل (تہجد ، اشراق ،چاشت اوابین وغیرہ) کا اہتمام کرنا اور فرشتہ صفت بننا نہایت مؤثر عمل ثابت ہوگا انشاء اللہ ،
دوسرا طریقہ کار لوگوں کو صرف قرآنی آیات سے افہام و تفہیم کے ساتھ پند و نصائح کرنا
، قال اللہ تعالیٰ ، ،فذکر ان فعت الذکری،سیذکرمن یخشی

 فتنفع المؤمنین،
 

فذکر بالقرآن من یخاف،و عید،

تیسرا طریقہ کار یہ ہے کہ لوگوں میں توحید کی وضاحت پرزور طریقے سے کی جاۓ اور شرک کی قباحت علی الاعلان بیان کی جائے تاکہ احقاق حق اور ابطال باطل ہوجاے ،