نبی اکرم ﷺ کا نسب - آپ ﷺ کا نسب محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر ہیں اور آپ کا نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔


عن واثلة بن الأسقع رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال :"إن الله اصطفى من ولد إبراهيم إسماعيل واصطفى من بني إسماعيل بني كنانة ،واصطفى من بني كنانة قريشا واصطفى من قريش بني هاشم واصطفاني من بني هاشم"

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے اسماعیل کو منتخب کیا، اور بنی اسماعیل میں سے بنی کنانہ کو منتخب کیا، اور بنی کنانہ میں سے قریش کو منتخب کیا، اور قریش میں سے بنی ہاشم کو منتخب کیا، اور مجھے بنی ہاشم میں سے منتخب فرمایا۔

(صحیح مسلم)


آپ ﷺ کے والد کا نام عبد اللہ بن عبد المطلب تھا۔

آپ ﷺ نے فرمایا: (أنا ابن الذبيحين) میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں

یعنی: پہلا ذبیح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں جنہیں اللہ کے حکم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربان کرنے کا ارادہ کیا تھا،

اور دوسرا ذبیح آپ ﷺ کے والد عبد اللہ ہیں۔

واقعہ یوں ہے کہ آپ ﷺ دو ذبح کیے جانے والوں کے بیٹے ہیں، ان میں سے ایک حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام ہیں ، جو آپ ﷺ کے جدِ امجد ہیں، اور ان کے ذبح کا قصہ مشہور ہے، ان کے فدیہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ایک مینڈھا بھیج دیا تھا جس کو ان کے بدلے ذبح کیا گیا ؛ اس لیے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا لقب ذبیح اللہ ہے، اور دوسرے ان میں سے آپ ﷺ کے والد ماجد "عبد اللہ" ہیں، ان کا قصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کے دادا عبدالمطلب نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے مجھے دس بیٹے عطا کیے تو میں ان میں سے ایک اللہ کے نام پر ذبح کروں گا، اور پھر اللہ نے انہیں دس بیٹے عطا کردیے تو انہوں نے بیٹوں میں سے کسی ایک کو ذبح کرنے کے لیے قرعہ ڈالا جس میں آپ ﷺ کے والد ماجد عبد اللہ کا نام نکلا تو عبدالمطلب نے انہیں ذبح کا ارادہ کیا ، ان کے ماموؤں نے منع کیا اور کہا کہ آپ اس کے بدلے سو اونٹ فدیہ میں دے دیں، چناں چہ عبد المطلب نے ایسا ہی کیا۔ بعض روایات میں ہے کہ جب عبد المطلب نے زمزم کے کنویں کے کھودنے کا ارادہ کیا تو اس میں انہیں مشقت کا سامنا کرنا پڑا، اس موقع پر انہوں نے نذرمانی کہ اگر اللہ نے اس میں آسانی فرمادی تو میں اپنے ایک بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کروں گا، چناں چہ زمزم کا کنواں جب تیار ہوگیا تو  انہوں نے قرعہ ڈالا جس میں آپ ﷺ کے والد ماجد عبد اللہ کا نام نکلا تو عبدالمطلب نے انہیں ذبح کا ارادہ کیا اور پھر بعد میں ان کے ماموؤں کے مشورہ پر سو اونٹ فدیہ میں دے دیے، اس لیے آپ کے والد ماجد کا لقب بھی "ذبیح" تھا۔


آپ ﷺ کے چچا

1۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ

2۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ

3۔ ابو طالب

4۔ زبیر

5۔ حارث

6۔ حجل

7۔ مقوم

8۔ ضرار

9۔ ابو لہب

ان میں سے حضرت حمزہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما مسلمان ہوئے۔


آپ ﷺ کی پھوپھیاں

1۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا

2۔ ام حکیم بیضاء

3۔ امیمہ

4۔ عاتکہ

5۔ ارویٰ

6۔ برہ

ان میں سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا مسلمان ہوئیں۔

عاتکہ اور ارویٰ کے اسلام لانے میں اختلاف ہے، بعض علماء نے ارویٰ کے اسلام کو درست قرار دیا ہے۔


جاری۔۔۔۔۔۔۔۔


✍🏻: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ

خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)

وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔