ایک گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک شیر رہتا تھا۔ وہ واقعی بہت طاقتور تھا، مگر اس کی ایک عادت بہت خراب تھی۔ وہ خود کو سب سے زیادہ عقلمند سمجھتا تھا اور کسی کی بات غور سے نہیں سنتا تھا۔ ذرا سی بات پر غصے میں آ جاتا اور زور زور سے دھاڑنے لگتا۔
اسی جنگل میں ایک چھوٹی سی بکری بھی رہتی تھی۔ وہ کمزور ضرور تھی، مگر بہت سمجھ دار تھی۔ اسے معلوم تھا کہ مشکل وقت میں عقل سے کام لینا ہی سب سے اچھا طریقہ ہوتا ہے۔
ایک دن بکری دریا کے کنارے مزے سے ہری ہری گھاس کھا رہی تھی۔ اچانک جھاڑیوں میں زور کی آواز آئی اور شیر دھاڑتا ہوا باہر نکلا۔
’’آہا! آج تو بہت دنوں بعد تازہ ناشتہ ملا ہے!‘‘
شیر نے خوش ہو کر کہا۔
بکری گھبرائی نہیں۔ اس نے آہستہ سے گردن اٹھائی اور مسکرا کر بولی:
’’شیر بھائی! کھانے سے پہلے ایک چھوٹی سی بات مان لیں؟‘‘
شیر نے حیران ہو کر پوچھا:
’’کیا بات؟‘‘
بکری بولی:
’’آپ کے دانتوں میں کل کی دال پھنسی ہوئی ہے، اگر آپ مجھے کھائیں گے تو میرے دوست کہیں گے کہ شیر صفائی پسند نہیں۔‘‘
یہ سن کر شیر چونک گیا۔ وہ فوراً بولا:
’’اوہ! یہ تو بڑی شرمندگی کی بات ہے!‘‘
وہ تیزی سے دریا کی طرف بھاگا اور پانی میں اپنا عکس دیکھنے لگا۔ بار بار منہ کھول کر دانت چیک کرنے لگا، کبھی دائیں دیکھتا، کبھی بائیں۔ وہ اتنا مصروف ہو گیا کہ اسے یاد ہی نہ رہا کہ بکری پیچھے کھڑی ہے۔
ادھر بکری نے موقع دیکھا اور دل ہی دل میں بولی:
”عقل ہمیشہ طاقت سے آگے ہوتی ہے۔“
وہ ہنستے ہوئے چپکے سے جنگل کے اندر بھاگ گئی۔
کچھ دیر بعد شیر مطمئن ہو کر واپس آیا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، مگر بکری کہیں نظر نہ آئی۔
وہ سر کھجاتے ہوئے بولا:
’’ارے! بکری تو گئی! لگتا ہے آج میری طاقت نہیں، کسی اور کی عقل جیت گئی۔‘‘
شیر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس دن کے بعد اس نے یہ عادت بنا لی کہ غصے میں فیصلہ نہیں کرے گا اور ہر کسی کو کم عقل نہیں سمجھے گا۔
بکری بھی اپنی سہیلیوں کو یہ قصہ سناتی اور کہتی:
”مشکل وقت میں گھبرانا نہیں چاہیے، عقل سے کام لینا چاہیے۔‘‘
اور یوں جنگل کے سب جانور یہ بات سمجھ گئے کہ
طاقت بازوؤں میں نہیں، دماغ میں ہوتی ہے۔