آج ایک تحریر نظروں سے گزری، جسے اگر لطیفہ کہا جائے تو بھی بے جا نہ ہوگا، اور اگر مزاحیہ انداز میں ایک لسانی نکتہ سمجھا جائے تو وہ بھی درست ہے:

اردو زبان کا ایک قاعدہ ہے کہ جب ’’خ‘‘ کے فوراً بعد ’’و‘‘ آتا ہے تو ’’و‘‘ سائلنٹ ہو جاتا ہے، جیسے:
خواہش، خواہ مخواہ، خواب وغیرہ۔
لیکن یہی ’’و‘‘ جب ’’خ‘‘ کے بعد ’’خواتین‘‘ میں آیا تو قطعاً خاموش نہ رہ سکا۔
اسے کہتے ہیں صحبت کا اثر۔ 🫢