یومِ جمہوریہ پر ایک ایسا سچ جو عام کتابوں میں نہیں ملتا
26 جنوری…
ہم اسے یومِ جمہوریہ کہتے ہیں، جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں، آئین کی تعریف کی جاتی ہے۔
مگر ایک سوال شاذ ہی پوچھا جاتا ہے:
کیا ہمیں واقعی معلوم ہے کہ جس آئین پر ہم فخر کرتے ہیں، اس کے لفظوں میں کن لوگوں کی سانسیں بسی ہوئی ہیں؟
ہندوستان کے آئین کو صرف دفعات اور شقوں کا مجموعہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے۔ یہ آئین دراصل مختلف تہذیبوں، زبانوں اور مذاہب کے تجربات کا نچوڑ ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نچوڑ میں مسلمانوں کا کردار شور نہیں، شعور کی صورت میں شامل ہے۔
اکثر لوگ نہیں جانتے کہ آئینِ ہند کی تیاری کے دوران سب سے زیادہ بحث مذہبی آزادی، شخصی قوانین اور اقلیتوں کے تحفظ پر ہوئی۔ یہاں مسلمانوں نے نعرے نہیں لگائے، بلکہ ایسے دلائل دیے جو آج بھی آئین کی روح میں زندہ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کا آئین کسی ایک مذہب یا طبقے کی جیت نہیں، بلکہ سب کی بقا کی دستاویز بن سکا۔
ایک اور کم معروف حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد جب ملک انتشار، خوف اور عدمِ اعتماد سے گزر رہا تھا، اس وقت مسلمانوں کی بڑی تعداد نے آئینی راستے کو ترجیح دی۔ نہ علیحدگی کی زبان، نہ انتقام کی سیاست — بلکہ قانون، جمہوریت اور اداروں پر یقین۔
یہ انتخاب کوئی کم قربانی نہیں تھا، مگر یہ قربانی خاموش تھی، اس لیے تاریخ کے شور میں دب گئی۔
یومِ جمہوریہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ مسلمان صرف ماضی کا حصہ نہیں، بلکہ آئین کے مسلسل محافظ ہیں۔ عدالتوں میں آئین کے حق میں دلائل، یونیورسٹیوں میں دستور کی تعلیم، اور گلی محلوں میں دستور پر یقین — یہ سب وہ کردار ہیں جن پر کبھی سرخیاں نہیں بنتیں، مگر جمہوریت انہی سے زندہ رہتی ہے۔
یہ کہنا شاید بہتوں کو چونکا دے، مگر سچ یہ ہے کہ
اگر مسلمان اس ملک کے آئین سے ہاتھ کھینچ لیں، تو سب سے پہلے جمہوریت کمزور پڑے گی۔
کیونکہ آئین پر سب سے زیادہ یقین وہی رکھتا ہے جس کے پاس طاقت کے سوا صرف قانون کا سہارا ہو۔
آج یومِ جمہوریہ پر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمانوں کی کہانی صرف قربانیوں کی نہیں، بلکہ آئینی بصیرت، صبر، اور اصولی وابستگی کی کہانی ہے۔
یہ وہ کہانی ہے جو کتابوں میں کم، مگر ہندوستان کی بنیادوں میں زیادہ لکھی گئی ہے۔
آئینِ ہند کی سب سے بڑی طاقت یہ نہیں کہ وہ لکھا گیا،
بلکہ یہ ہے کہ آج بھی کچھ لوگ اسے دل سے مانتے ہیں —
اور ان میں مسلمان نمایاں ہیں۔
از ✍️ محمد مسعود رحمانی ارریاوی