کسی انسان کے ساتھ سخت لفظ اور جارحانہ انداز میں گفتگو کرنا اس کو ڈانٹنا جھڑکنا اس پر طنز کرنا یہ کسی بھی طرح الفاظ کے تیر برسانا تلخ کلامی کہلاتا ہے ،
تلخ کلامی ایک ایسا تیر ہے ،جس کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے ،تلوار کا زخم تو بھر جاتا ہے مگر تلخ کلامی کے ذریعے دیۓ جانے والا غم اتنی جلدی نہیں بھرتا ۔۔۔۔۔لہذا کسی پر تیر چلانے سے پہلے پل بھر یہ ضرور سوچ لیں کہ،اگر الفاظ کے ان تیروں کا رخ آپ کی طرف ہوتا تو آپ پر اس کا کتنا اثر ہوتا۔۔۔۔۔
یاد رکھیں حقوق العباد میں سے یہ بھی ہے کہ انسان دوسرے انسان سے نرم گفتگو کرے اور اپنی زبان اور ھاتھ سے اسے کسی صورت پے تکلیف نہ پہونچاۓ،،،اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ کا فرمان عالیشان ہے ۔۔۔۔۔
مسلمان وہ ہے جن کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔۔۔۔۔
نرمی دلوں کو جیت لیتی ہے چاہے وہ گفتگو ہو یہ معاملات میں۔۔۔۔
نرمی دل جیتنے کا نسخہ ہے۔۔ ( یہی وجہ ہے کہ لوگ سامان لینے بازار جاتے ہیں تو انکی مطلوبہ چیز اگرچہ بہت ساری دوکان پر دستیاب ہوتی ہیں ، مگر وہ اسی دوکان سے لینا پسند کرتی ہیں جن کا برتاؤ یہ بات کرنے کا انداز اچھا ھو)
حدیث پاک میں اللہ تعالٰی اس پر رحم فرمائے کہ بیچے تو نرمی کرکے کچھ خریدے تو کرے،اور تقاضا کرے تب بہی نرمی کرے۔۔۔۔۔۔۔لہذا ہر ایک کو گفتگو کرنے میں نرمی اختیار کرنا چاہیے، ،،خصوصا نیکی کی دعوت دینے والے کو جب تک شریعت واجب نہ کرے نیکی کی دعوت کا انداز نرمی والا ہو نرمی اور محبت ♥ بھرے انداز میں دی جانے والی نیکی کی دعوت تلخ اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے انداز سے زیادہ پر اثر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مشہور بقول ہے ۔۔۔۔۔۔۔میٹھی زبان والے کی 🌶 مرچیں بہی بک جاتی ہیں، ،،،جب کی کڑوی زبان والے کا شہد 🍯 بہی نہیں بکتا۔۔۔۔۔۔
ازقلم
زکری پرویز۔۔۔🥰