نوجوان، نکاح اور ہماری اجتماعی بے
حسی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
(ایک تڑپتا ہوا، ضمیر کو بیدار کرنے والا مضمون 75)
یہ تحریر نہ صرف غریب کے آنسوؤں کی آواز ہے اور نہ ہی صرف امیر کی ٹوٹی ہوئی امیدوں کا نوحہ. یہ ہر اُس نوجوان لڑکے اور لڑکی کی فریاد ہے جو نکاح کی عمر کو پہنچ چکا ہے مگر رشتوں کی ناکامیوں کی بھٹی میں جل رہا ہے۔ کوئی امیر ہے تو حسد، انا اور بے جا معیار اس کے رشتے کو نگل جاتے ہیں؛ کوئی غریب ہے تو جہیز، حیثیت اور سماج کی سفاک نظریں اس کے مقدر پر مہر لگا دیتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں انجام ایک ہی ہے: دل ٹوٹ جاتا ہے، خودی بکھر جاتی ہے، اور زندگی سوال بن جاتی ہے. آخر میرا قصور کیا ہے؟
ذرا سوچئے! ایک لڑکی جو ہر دن آئینے میں خود کو دیکھ کر اپنی جوانی کو ڈھلتا ہوا محسوس کرتی ہے، جس کے کان ہر دروازے کی دستک پر امید سے بھر جاتے ہیں اور ہر خاموشی پر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ ایک لڑکا جو باہر سے مضبوط نظر آتا ہے مگر اندر سے خود کو ناکام، بے قیمت اور بے سہارا سمجھنے لگتا ہے۔ یہ سب محض جذبات نہیں، یہ وہ زخم ہیں جو ہم سب نے مل کر لگائے ہیں. خاموشی سے، بے حسی سے، اور ذمہ داری سے بھاگ کر۔
سوال ہے :
کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ کتنے نوجوان صرف اس لیے بکھر گئے کہ ہم نے وقت پر ان کا ساتھ نہیں دیا؟ کتنی زندگیاں صرف اس لیے اجڑ گئیں کہ ہم نے کہا: یہ ہمارا مسئلہ نہیں!
ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ایک دینی سماج ہیں، مگر جب کسی امیر کے بیٹے کا رشتہ ضد کی بھینٹ چڑھتا ہے، یا کسی غریب کی بیٹی کا رشتہ جہیز کی نذر ہو جاتا ہے، تو ہم سب تماشائی بن جاتے ہیں۔ پھر جب وہی نوجوان غلط راستوں پر چلے جائیں، ذہنی مریض بن جائیں، یا زندگی سے ہی ہار جائیں، تو ہم اسٹیجوں پر کھڑے ہو کر رونے لگتے ہیں: نوجوان تباہ ہو رہے ہیں!
مگر سچ یہ ہے: نوجوان تباہ نہیں ہو رہے، انہیں تباہ کیا جا رہا ہے۔
الزام - - تلخ مگر سچا:
یہ الزام اُن بچولیوں پر ہے جو حسد اور دشمنی میں گھروں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ یہ الزام اُن خاندانوں پر ہے جو دین کو چھوڑ کر دولت کو معیار بنا لیتے ہیں۔ یہ الزام اُن سماجی رہنماؤں پر ہے جو تقریروں میں امت کے خیرخواہ بنتے ہیں مگر عملی میدان میں غائب رہتے ہیں۔ اور سب سے بڑا الزام ہم سب پر ہے - جو سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں، نہ کسی کے لیے بولتے ہیں، نہ کسی کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، مگر انجام پر آنسو ضرور بہاتے ہیں۔
یہ دراصل ہمارے ضمیر کی موت ہے۔ یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں، یہ پورے سماج کی شکست ہے۔ اگر آج ہم نے امیر اور غریب کا فرق ختم نہ کیا، جہیز اور انا کو دفن نہ کیا، اور نوجوانوں کے لیے راستے آسان نہ کیے، تو کل ہم سب مجرم ہوں گے - اللہ کے سامنے بھی اور تاریخ کے سامنے بھی۔
اے سماج کے ذمہ دارو! اے امامو،اے قاضیو؛ اور اے صاحبِ حیثیت لوگوں!
یاد رکھو، ہر ٹوٹا ہوا رشتہ تم سے سوال کرے گا، ہر بکھرا ہوا نوجوان تمہاری خاموشی کا گواہ بنے گا، اور ہر آنسو تمہارے ضمیر پر لکھا ہوا الزام ہوگا۔
آج اگر ہم نے ہاتھ نہ بڑھایا تو کل یہ سوال ہماری عدالت بن جائے گا:
جب نوجوان جل رہے تھے، آپ کہاں تھے؟
اور شاید اس سوال کا جواب ہمارے پاس کوئی نہ ہو۔
بقلم محمودالباری
mahmoo
mahmoodulbari342@gmail.com