*رشتہ ایک انمول تحفہ ہے*
خاک پاۓ شما: محمد معصوم ارریاوی
دارالعلوم وقف دیوبند
_________________________________
رشتے انسان کی زندگی کی سب سے قیمتی دولت ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ ہم اکثر ان کی قدر اُس وقت سمجھتے ہیں جب یہ ہاتھ سے نکلنے کے قریب ہو جاتے ہیں۔ قرآنِ کریم ہمیں یاد دلاتا ہے:
﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾
(اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو)
ہم ذرا سی بات پر روٹھ جاتے ہیں، اور پھر انا کی ایک نادیدہ دیوار ہمارے اور اپنوں کے درمیان کھڑی ہو جاتی ہے۔ غصے میں کہے گئے چند بے سوچے سمجھے الفاظ نہ صرف دلوں کو زخمی کر دیتے ہیں بلکہ محبت کے انمول رشتوں کو دیمک کی طرح آہستہ آہستہ کھا جاتے ہیں۔ ہم اس خام خیال میں وقت ضائع کرتے رہتے ہیں کہ اگر ہم واقعی اہم ہیں تو دوسرا خود منانے آئے گا، حالانکہ محبت پہل کی محتاج نہیں ہوتی، وہ تو قربانی اور ایثار مانگتی ہے۔
یہ انا ہی تو ہے جو رشتوں کو توڑ دیتی ہے
ورنہ محبت تو جھکنے کا ہنر جانتی ہے
صاحب! ناراضگی ایک ایسی آگ ہے جو اگر دلوں میں سلگتی رہے تو محبت کے نرم اور نازک جذبات اُس کی تپش میں جل کر راکھ ہو جاتے ہیں۔ ابتدا میں دوری صرف ایک معمولی سا وقفہ محسوس ہوتی ہے، مگر وقت کے ساتھ یہی وقفہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ واپسی کے راستے دھندلا جاتے ہیں۔ شکوے، شکایتیں اور گلے جب حد سے بڑھ جائیں تو وہ زنجیروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، اور انسان رشتوں کی خوبصورتی محسوس کرنے سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔
قرآن ہمیں حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے:
﴿وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا﴾
(لوگوں سے اچھی بات کہو)
انسان کی فطرت ہے کہ جب اُسے یہ احساس ہونے لگے کہ سامنے والا اُس کی قدر نہیں کرتا، اُس کی عزت نہیں کرتا، بد زبانی اور بدتمیزی کو معمول بنا لیتا ہے، تو وہ بھی آہستہ آہستہ اپنے دل کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ یوں محبتوں کے چراغ بجھنے لگتے ہیں، اور رشتے محض نام کے رہ جاتے ہیں۔
لفظ اگر زہر بن جائیں تو رشتے مر جاتے ہیں
خاموشی بھی کبھی کبھی بڑا ظلم ہو جاتی ہے
زندگی کا اصل حسن رشتوں ہی میں پوشیدہ ہے، ماں باپ، بہن بھائی، میاں بیوی اور دیگر عزیز و اقارب۔ یہ رشتے وہ آئینہ ہیں جن میں ہم اپنی ذات کا اصل چہرہ دیکھتے ہیں۔ اگر ہم انا کے خول سے باہر نکل کر ایک قدم آگے بڑھا لیں تو بہت سے بکھرتے ہوئے تعلقات کو بچایا جا سکتا ہے۔ جھک جانا کمزوری نہیں، اور معافی مانگنا عزت گھٹنے کی علامت نہیں، بلکہ یہ محبت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ معاف کرنے سے انسان کی عزت ہی بڑھتی ہے۔
وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ اگر آج ہم نے اپنے رشتوں کو سنبھالنے کی کوشش نہ کی تو کل شاید یہ صرف یادوں کا حصہ بن کر رہ جائیں۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اپنی ناراضگیوں کو مٹا دیجیے، گلے شکوے ختم کر دیجیے، اور اُن محبتوں کو پھر سے زندہ کیجیے جو دم توڑنے کے قریب ہیں۔ کیونکہ محبت وہ خزانہ ہے جس کی خوشبو زندگی کو حقیقی لطف اور معنویت عطا کرتی ہے۔
خوبصورت رشتے ساتھ ہوں تو زندگی جنت ہے
ورنہ یہ دنیا بھی ایک ویران صحرا سے کم نہیں۔