مظاہر علوم آنے سے پہلے ہی یہاں پڑھنے والے دوست واحباب کے ذریعہ معلوم ہوا تھا کہ یہاں سہارن پور کے قریب کوئی دیہاتی گاؤں ہے، جہاں کے باشندے سال میں ایک مرتبہ مظاہر علوم کے تمام طلبہ واساتذہ اور تمام ملازمین کی دیہاتی انداز میں دعوت کرتے ہیں، جس میں وہ خاص طور پر گنا کے رس کی کھیر پیش کرتے ہیں اور ساتھ میں اب تو سالوں سے بریانی کا نظم ہے (ممکن ہے پہلے کوئی اور چیز رہتی ہوگی) نیز اس کے علاوہ فری چاۓ یا کافی کا انتظام اور خواہش رکھنے والوں کو پان بھی، یہ سن کر دارالعلوم دیوبند کے اساتذہ کی اس دعوت کی یاد آ جاتی تھی جسے دیوبند کے کوئی نیک دل عامی شخص اپنے سالانہ محنت ومشقت کی کمائی کے حاصل نفع سے اختتامِ سال پر کیا کرتے تھے اور سبھی اساتذہ نہ صرف یہ کہ اس میں بہ خوشی شرکت کرتے بل کہ اس کا انتظار کرتے تھے، یہی حال اور یہی جذبات یہاں کے طلبہ اور اور اساتذہ میں اس دعوت کے حوالہ سے پاۓ جاتے ہیں، شروع سال سے ہی خود میں نے کئ مرتبہ ساتھیوں سے اس دعوت کا تذکرہ کیا اور بڑے ذوق وشوق سے اس دعوت اس کا انتظار تھا۔


    انتظار کرتے ہوئے رجب کی تاریخیں آ گئ اور مظاہر علوم وقف سہارن پور میں جلسۂ دستار بندی کا بھی اعلان ہو گیا، انہیں دنوں کسی نے اطلاع دی کہ ٢٣/ رجب مطابق ١٣/ جنوری بہ روز منگل کو مظاہر علوم دارِ جدید والوں کی دعوت ہے اور آئیندہ منگل یعنی ٣٠/ رجب مطابق ٢٠/ جنوری کو مظاہر علوم قدیم اور اس کی شاخوں کی، اس اطلاع کے بعد دعوت کے دن کا بڑی خوشی ومسرت سے انتظار کرنے لگے اور اس دعوت کے آنے تک اس کے تذکرے سے خوب لطف اندوز ہوتے رہے، تاآں جامعہ کی جانب سے باقاعدہ "اعلانِ دعوتِ کھیر" کے عنوان سے اس دعوت کا اعلان بھی دیوار کی زینت بن گیا۔


دابکی کے لئے روانگی 

    سچ تو یہ ہے کہ جس دن اس دعوت کی تاریخ کا تعیین کے ساتھ علم ہوا، اسی دن سے بہت ہی ذوق وشوق کے ساتھ اس دعوت کا انتظار کرنے لگے، بلآخر منگل کی وہ صبح بھی طلوع ہوئی جو اپنے ساۓ تلے دعوت کو چھپائے ہوئے تھی، صبح سے ہی دعوت کا تصور ذہن ودماغ پر چھایا ہوا تھا، سواری کا انتظام بھی من جانب باشندگانِ "دابکی" تھا، جس میں انہوں نے کئ بسیں صرف طلبہ کی آمد ورفت کے لئے خاص کی تھیں، صبح ساڑھے نو بجے سے روانگی کا آغاز تھا، وقتِ متعینہ کے کچھ بعد ہی راقم بھی دو ساتھی(محمد اکرم اور محمد اسعد) سمیت نیچے صدر دروازے پر اتر آیا، یہاں آ کر پتہ چلا کہ ایک دو بس تو طلبہ سے بھر کر روانہ ہو چکی ہیں اور اب ان کے واپس آنے میں آدھا گھنٹہ لگ سکتا ہے، خیر اس طرح انتظار میں تقریباً گیارہ بج گئے، اب جا کر ہمیں بس میں جگہ ملی اور واقعی جگہ ہی ملی تھی، بس میں صرف کھڑے ہونے کی ہی جگہ تھی، ہجوم دیکھ کر سیٹ پر بیٹھنے کا تو خیال تک بھی نہیں آیا، خیر پندرہ سے بیس منٹ میں ہم دابکی پہنچ گئے، بس سے اتر کر کچھ دور پیدل چلے، کھانے کا انتظام مسجد کی بالائی سہ دری میں تھا، راستوں میں اھلا وسہلا اور خوش آمدید کے بینرز ذہن ودماغ کو جلا بخش رہے تھے، مسجد میں پہنچے تو بڑا زبردست ہجوم تھا، طلبہ کچھ کھا کر واپس ہو رہے تھے، کچھ کھانے کے لئے جا رہے تھے اور کچھ انتظار میں مسجد اور صحنِ مسجد میں بیٹھے اپنی باری کے منتظر، ہم بھی باری کے انتظار میں مسجد اور صحنِ مسجد کا چکر لگاتے رہے، انتظار نے طول پکڑا اور بھوک بھی اپنے عروج پر، غرض خوب ہی لمبے انتظار کے بعد ہمارا نمبر دسترخوان پر آ پایا، اس وقت طلبہ کی آخری نشست تھی اور شاید اس آخری نشست میں بھی ہم آخری تھے۔


 گنے کے رس کی کھیر: ایک نیا ذائقہ 

     موقع پاتے ہی ہم نے دسترخوان پر اپنی جگہ بنائی، سب سے پہلے ہمارے سامنے بالٹی میں گنے کے رس کی کھیر پیش کی گئ اور ساتھ میں ذائقہ دار دودھ جو بالکل دیہاتی انداز میں لوٹوں میں بھرا ہوا تھا، گنے کی یہ کھیر بہت سوں کے لئے تو دلیا کے علاوہ کوئی الگ چیز نہیں تھی، ان کے نزدیک گنے کی یہ کھیر دلیا پر محض دودھ کا اضافہ تھا، کچھ نئے مگر خوش ذائقوں کے لئے کھانے سے پہلے تو منہ چرانے کی ایک چیز تھی، مگر کھانے کے بعد ان کے ذکر اور تذکرہ کا محور ہی یہ گنے کی کھیر تھی، کھانے سے پہلے اور بعد کے تبصروں میں تفاوت غیر معمولی تھا، کھیر کے بعد بل کہ ساتھ ہی بریانی بھی دسترخوان کی زینت بنی، خوب من بھر کر دونوں چیزوں سے لطف اندوز ہوۓ، اس کے علاوہ صحنِ مسجد میں کافی کا انتظام بھی بڑا خوش کن تھا، گاؤں والوں کی اس قدر محبت، سخاوت اور فیاضی سے بڑے متأثر ہوئے اور خوب ہی دعائیں نکلی۔ 

جزاھم اللہ خیرا کثیرا و احسن الجزاء 


عبد اللہ یوسف 

شعبان المعظم ١٤٤٧ھ۔ 

آواخرِ جنوری ٢٠٢٦ء۔