سوشل میڈیا کیا ہے؟


سوشل میڈیا آج کے دور کی سب سے بڑی آزمائش بن چکا ہے۔ ایک طرف یہ رابطے کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف یہ گناہوں کا دروازہ بھی کھول دیتا ہے۔ ایک نوجوان احمد کی کہانی ہے، جو دن کا بڑا حصہ موبائل پر گزارتا تھا۔ ابتدا میں وہ صرف معلومات اور دوستوں سے رابطے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرتا تھا، مگر آہستہ آہستہ وقت ضائع ہونے لگا، نظریں بے قابو ہونے لگیں اور زبان تبصروں میں سخت ہو گئی۔

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر بات بولنے سے پہلے سوچو، ہر خبر آگے بڑھانے سے پہلے تحقیق کرو، اور اپنی نگاہوں کی حفاظت کرو۔ احمد کو اس بات کا احساس اس دن ہوا جب اس نے ایک حدیث سنی: "جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔" اس نے اپنے دل کا جائزہ لیا اور سمجھ گیا کہ لائکس اور ویوز کی دوڑ نے اسے اصل مقصد سے دور کر دیا ہے۔

اس نے فیصلہ کیا کہ وہ سوشل میڈیا کو غلام نہیں بلکہ آلہ بنائے گا۔ اس نے فحش مواد سے اجتناب کیا، وقت مقرر کیا، فائدہ مند علم کو فروغ دینا شروع کیا اور بری بحث سے خود کو بچایا۔ کچھ ہی دنوں میں اس کے دل کو سکون ملا اور عبادت میں دل لگنے لگا۔

سوشل میڈیا بذاتِ خود برا نہیں، بلکہ اس کا غلط استعمال ہمیں گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر ہم نیت درست کر لیں، حدود کا خیال رکھیں اور اللہ کو حاضر ناظر سمجھیں تو یہی سوشل میڈیا نیکی پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔