جس طرح نکاح کا مقصد خوشگوار زندگی اور نسلِ انسانی کی بقا ہے، اسی طرح شریعتِ اسلامیہ نے ضرورت کے وقت طلاق کی اجازت بھی دی ہے۔ نکاح جوڑنے کا نام ہے، جبکہ طلاق جدا کرنے اور آزاد کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اگر میاں بیوی کے درمیان سمجھانے، منانے اور افہام و تفہیم کے باوجود باہمی زندگی دشوار ہو جائے، اور دونوں میں سے کوئی ایک یہ محسوس کرے کہ اب نباہ ممکن نہیں رہا، تو شریعت نے طلاق کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ قرآن و حدیث میں طلاق کے تفصیلی احکام بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید کی تعلیم ہے کہ اگر بیوی نافرمان ہو جائے، زبان درازی کرے یا شوہر کے حقوق ادا نہ کرے، تو شوہر کو حکم دیا گیا کہ سب سے پہلے نصیحت کرے، اصلاح کی کوشش کرے۔ اگر وہ نہ سدھرے تو بستر الگ کر دے، اور پھر بھی بات نہ بنے تو ہلکی تنبیہ کی اجازت دی گئی ہے۔ اگر ان تمام کوششوں کے باوجود معاملہ حل نہ ہو، تو خاندان کے سمجھ دار افراد کو بیچ میں بٹھا کر صلح کی پوری کوشش کی جائے۔ اگر صلح ممکن نہ رہے، تو شریعت اجازت دیتی ہے کہ دونوں باعزت طریقے سے علیحدہ ہو جائیں۔ اسی طرح جس طرح شوہر کو طلاق کا حق دیا گیا ہے، بیوی کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر شوہر اس کا حق ادا نہ کرے، خرچ نہ دے یا ازدواجی ذمہ داریاں پوری نہ کرے تو وہ خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے، یعنی مہر یا کچھ مال واپس کر کے طلاق لے سکتی ہے۔ اور اگر شوہر نہ عدل کرے، نہ حق دے، نہ طلاق دے، تو شریعت نے بیوی کو یہ بھی حق دیا ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے فسخِ نکاح کا مطالبہ کرے۔ عدالت تحقیق کے بعد اگر ظلم اور حق تلفی ثابت پائے تو نکاح کو ختم کر سکتی ہے۔ اس طرح شریعت نے طلاق کو ظلم نہیں بلکہ انصاف کا دروازہ بنایا ہے، تاکہ کسی پر جبر نہ ہو اور دونوں اپنی زندگی عزت و سکون کے ساتھ گزار سکیں

 طلاق — غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح

   اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ نکاح کرنا، کروانا یا نکاح کے معاملات میں شریک ہونا عبادت ہے، کارِ خیر ہے اور موجبِ ثواب ہے — اور یقیناً یہ بات درست ہے، نکاح ایک عبادت بھی ہے اور سنتِ رسول ﷺ بھی۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ رشتہ توڑنے یا طلاق کے معاملات میں شریک ہونا گناہ یا باعثِ لعنت ہے۔ اسی غلط تصور کی وجہ سے لوگ اکثر ایسی محفلوں یا فیصلوں سے گریز کرتے ہیں جہاں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی یا طلاق کا فیصلہ زیرِ بحث ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی شخص شرارت یا سازش کے طور پر میاں بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالے تو وہ یقیناً کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ﴾ (البقرۃ: 102)یعنی ’’جو لوگ میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں، وہ گمراہ اور ظالم ہیں۔لیکن اگر کوئی صاحبِ فہم شخص یا خاندان کا معتمد فرد یہ دیکھے کہ دونوں کے درمیان نباہ ممکن نہیں، زندگی عذاب بن چکی ہے، اصلاح کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، اور جدائی ہی اب بہتر حل ہے تو ایسے موقع پر طلاق کے فیصلے میں شرکت یا مشورہ دینا گناہ نہیں بلکہ نیت درست ہو تو باعثِ ثواب ہے۔ کیونکہ شریعت نے طلاق کو ظلم نہیں بلکہ ضرورت اور رحمت کے طور پر رکھا ہے۔اگر طلاق بری چیز ہوتی تو قرآن مجید میں اس کے احکام نہ آتے، اور نہ رسولِ اکرم ﷺ نے اس کے متعلق تفصیلی ہدایات عطا فرماتیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:أبغض الحلال إلى الله الطلاق یعنی ’’اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ طلاق ہے‘‘ (ابو داود)۔یعنی یہ ناپسندیدہ ضرور ہے، مگر حرام نہیں؛ ضرورت کے وقت جائز اور بسا اوقات لازم بھی ہے۔خود نبی کریم ﷺ نے اپنے فیصلوں میں کئی بار طلاق کے مسائل بیان فرمائے، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان بھی طلاق کے واقعات پیش آئے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دی، حضرت حسن بن علیؓ نے بھی ضرورت کے وقت ایسا کیا۔ ان تمام واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ طلاق نہ کوئی شرارت ہے نہ لعنت، بلکہ ایک شرعی اجازت اور سماجی ضرورت ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کر کے دین کے متوازن تصور کو سمجھنا چاہیے، کیونکہ اسلام نے نکاح اور طلاق دونوں کو انسانی فطرت اور سماجی بھلائی کے عین مطابق رکھا ہے

 طلاق کے احکام سے بے خبری اور اس کے نقصانات

    افسوس کی بات ہے کہ جس طرح مسلمانوں کو دین کے کئی اہم مسائل کا علم نہیں، اسی طرح نکاح اور طلاق کے احکام و مسائل سے بھی وہ بے خبر ہیں۔ شادی کے موقع پر دولت، حسن، خاندان اور رتبے کو ترجیح دی جاتی ہے، بے جا رسم و رواج کیے جاتے ہیں، فضول خرچیاں ہوتی ہیں، ویڈیو گرافی، گانوں اور نمود و نمائش میں مقابلہ کیا جاتا ہے۔ عالی شان شادی خانوں میں دعوتیں ہوتی ہیں، طرح طرح کے کھانے پکائے جاتے ہیں — مگر شریعت کا حکم کیا ہے، سنتِ نبوی ﷺ کیا ہے، اس کا کسی کو علم نہیں۔
نہ نکاح کے فرائض و واجبات معلوم ہیں، نہ اس کی سنتیں و مستحبات۔ نہ میاں بیوی کے حقوق کا شعور ہے، نہ طلاق کے شرعی طریقوں سے واقفیت۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی اختلافات بڑے فتنوں میں بدل جاتے ہیں، اور گھروں کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ نکاح سے پہلے ہی نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو نکاح، میاں بیوی کے حقوق، اور طلاق کے شرعی اصولوں کی تعلیم دی جائے۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ ازدواجی زندگی میں صبر، برداشت، محبت، عفو اور حسنِ اخلاق کس قدر ضروری ہیں۔ حتیٰ کہ شادی کے بعد کی خانگی زندگی، بچوں کی تربیت، اور باہمی برتاؤ کی بھی باضابطہ تعلیم دی جائے، تاکہ مضبوط اور باکردار خاندان وجود میں آئیں۔اسلام نے طلاق کی گنجائش رکھی ہے، لیکن انتہائی احتیاط اور ضرورت کے ساتھ۔ اگر کوئی شخص بلاوجہ طلاق دے یا پھر ضرورت کے باوجود غلط طریقے سے اس کا استعمال کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ طلاق اللہ کے نزدیک حلال چیزوں میں سب سےناپسندیدہ ہے، اور بلا وجہ طلاق دینے والوں پر اللہ کی لعنت برستی ہے۔ (سنن ابی داود)۔ایسی طلاق نہ صرف دو دلوں کو جدا کرتی ہے بلکہ پورے خاندان، حتیٰ کہ آنے والی نسلوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ بچے محبت و تربیت سے محروم رہ جاتے ہیں، خاندان بکھر جاتے ہیں، اور شیطان ایسے موقعوں پر خوش ہوتا ہے،جیسا کہ حدیث میں آیا:إن إبلیس يضع عرشه على الماء… فإذا فرّق بين المرء وزوجه أدناه منه وقال: نعم أنت» (مسلم)شیطان اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے، اور جب وہ کسی میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈلواتا ہے تو سب سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔اسی لیے شوہر کو چاہیے کہ طلاق کا فیصلہ کرنے سے پہلے بار بار غور کرے، اپنے بڑوں، علما اور نیک مشورہ دینے والوں سے رائے لے، اور پھر وہی راستہ اختیار کرے جو شریعت نے بتایا ہے۔
اسی طرح عورت کو بھی چاہیے کہ وہ معمولی باتوں پر طلاق کا مطالبہ نہ کرے، کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:أيما امرأة سألت زوجها الطلاق من غير بأس فحرام عليها رائحة الجنة» (ترمذی)جو عورت بغیر کسی معقول سبب کے طلاق کا مطالبہ کرے، اس پر جنت کی خوشبو حرام کر دی گئی ہے۔پس نہ شوہر جلد بازی کرے، نہ بیوی ضد پر آئے۔ طلاق کو آخری حل سمجھا جائے، نہ کہ جذباتی انتقام کا ذریعہ۔

 طلاق کا سنت طریقہ اور اس کی اقسام

        اسلام میں طلاق کا ایک سنت طریقہ ہے، جسے طلاقِ احسن یا طلاقِ رجعی کہا جاتا ہے۔ جب دارالقضاء، خاندان یا محلے کے ذمہ داران اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ میاں بیوی کا ایک ساتھ رہنا ممکن نہیں، اور تمام کوششوں کے باوجود صلح کی امید باقی نہیں رہی، تو شوہر کو چاہیے کہ وہ طلاق کو شریعت کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ادا کرے۔ اس کے لیے ایک تحریر تیار کی جائے، دو معتبر گواہ مقرر کیے جائیں، اور شوہر اپنی بیوی کو پاکی کی حالت میں، جس میں اس سے ہمبستری نہ کی ہو، صرف ایک طلاق دے۔ یوں لکھے:میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی۔یہی وہ طلاق ہے جسے طلاقِ احسن یا طلاقِ سنت کہا جاتا ہے۔ اس طلاق کے بعد عورت کی عدّت شروع ہو جاتی ہے، اور دورانِ عدّت اسے بناؤ سنگھار اور زیب و زینت اختیار کرنے کی اجازت ہے، تاکہ شوہر کا دل مائل ہو اور وہ رجوع کر لے۔ اس صورت میں اگر شوہر عدّت کے دوران رجوع کر لیتا ہے، چاہے الفاظ سے ہو یا تعلقِ ازدواج سے، تو نیا نکاح کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ لیکن اگر عدّت پوری ہو جائے یعنی تین حیض گزر جائیں، یا حمل کی حالت میں ولادت ہو جائے تو نکاح ختم ہو جاتا ہے، اور عورت طلاقِ بائن کے حکم میں آ جاتی ہے۔ طلاقِ بائن کے بعد اگر دونوں دوبارہ زندگی گزارنا چاہیں تو نیا نکاح کیا جا سکتا ہے، حلالہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس کے برعکس، ایک دوسرا طریقہ ہے جو طلاقِ بدعت کہلاتا ہے ،اور یہ سخت ناپسندیدہ اور گناہ کے قریب ہے۔ اس میں شوہر غصے یا جہالت میں ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیتا ہے، یا ناپاکی کی حالت میں طلاق دیتا ہے، یا اس حالت میں طلاق دیتا ہے جس میں بیوی سے ہمبستری کی ہو۔ یہ تمام صورتیں شریعت میں منع ہیں۔ اگرچہ ایسی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لیکن یہ طریقہ خلافِ سنت اور مبغوض ہے۔آج بدقسمتی سے دینی علم اور اخلاقی تربیت کی کمی کے باعث اسی طلاقِ بدعت کا چلن بڑھ گیا ہے۔ مرد جذبات میں آ کر ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دیتے ہیں، جس کا انجام خاندان کے بکھرنے اور نسلوں کے بگاڑ کی صورت میں نکلتا ہے۔ شریعت میں ایسی طلاق کو طلاقِ مغلّظہ کہا گیا ہے۔ اس طلاق سے نکاح مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے، اور میاں بیوی دوبارہ ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں رہتے، یہاں تک کہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے، ازدواجی تعلق قائم ہو، پھر اگر دوسرا شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے دے، اور عدّت پوری ہو جائے، تب ہی پہلا شوہر دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔یہ حلالہ دراصل تین طلاق دینے والے شوہر کے لیے شرعی سزا ہے، تاکہ وہ دوبارہ ایسی غلطی نہ کرے۔ افسوس کہ بعض نادان مردوں کے غیر سنجیدہ فیصلے نہ صرف بیوی کے لیے صدمہ بن جاتے ہیں بلکہ بچوں اور خاندان پر بھی گہرے زخم چھوڑ جاتے ہیں۔ کئی خواتین ایسے واقعات کے صدمے سے جان گنوا بیٹھتی ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ امت کا اجماع، چاروں ائمۂ کرام — امام ابوحنیفہؒ، امام مالکؒ، امام شافعیؒ، امام احمدؒ — سب کا یہی متفقہ موقف ہے کہ ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوں گی، ایک نہیں۔ اس لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔پس مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ طلاق دینے میں جلدبازی، غصے اور جہالت سے بچیں، اور اگر طلاق کی نوبت آئے تو سنت کے مطابق، عدل اور دانائی کے ساتھ طلاق دیں۔ یہی طریقہ عافیت، حکمت اور ایمان کے قریب تر ہے۔

 طلاق کے غلط استعمال کا المیہ

      آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گھروں میں تین طلاقیں دینے کے باوجود نہ شوہروں کو کوئی افسوس ہوتا ہے اور نہ بیویوں کو کوئی فکر۔ دونوں یہ سمجھ کر ایک ساتھ رہنے لگتے ہیں کہ بچوں کی خاطر زندگی الگ نہیں کی جا سکتی، حالانکہ یہ سراسر گناہ اور حرام زندگی ہے۔ بعض لوگ تو اس مسئلے کو اتنا ہلکا لیتے ہیں کہ ہنسی مذاق میں کئی بار طلاق کے الفاظ کہہ دیتے ہیں، پھر فون پر علماء سے بے فکری کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ “کیا واقعی طلاق ہو گئی؟” — حالانکہ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ ایمان اور خاندان دونوں کا امتحان ہے۔ اگر کبھی ایسا معاملہ پیش آ جائے تو ضروری ہے کہ اپنے شہر یا بستی کے معتبر علماء کرام اور گہری نظر رکھنے والے مفتیانِ عظام سے رجوع کیا جائے، پورا واقعہ دیانت داری سے بیان کیا جائے اور سنجیدگی سے حل تلاش کیا جائے، کیونکہ بسا اوقات الفاظ اور احوال کے اعتبار سے مسئلے میں گنجائش نکل آتی ہے، اور بسا اوقات طلاق واقع بھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے جذبات کے بجائے شریعت کے اصولوں کے مطابق فیصلہ کرنا ہی عقل مندی ہے۔ ساتھ ہی جو علماء یا مفتیانِ کرام اپنے وقت اور علم سے آپ کی رہنمائی کریں، ان کے وقت کی قدر کرتے ہوئے کوئی ہدیہ یا معاوضہ پیش کرنا بھی دینی اخلاق کا تقاضا ہے۔ آج کے دور میں ایک اور خطرناک غلط فہمی یہ پھیلی ہوئی ہے کہ تین طلاقیں ایک ساتھ نہیں ہوتیں، یا ناپاکی، غصے اور نشے کی حالت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی، حالانکہ قرآن و حدیث اور ائمہ اربعہ کے متفقہ فیصلے کے مطابق تین طلاقیں ایک ساتھ بھی واقع ہو جاتی ہیں، چاہے کسی بھی حالت میں دی گئی ہوں۔ طلاق محبت میں نہیں بلکہ غصے میں ہی دی جاتی ہے، اس لیے غصے کا بہانہ بنا کر طلاق کا انکار کرنا دین کے ساتھ کھیل ہے۔ جہاں تک نشے کی حالت میں دی گئی طلاق کا تعلق ہے تو شریعت نے اسے بھی نافذ قرار دیا ہے، تاکہ یہ نشے جیسے گناہ کے لیے سزا اور تنبیہ بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے طلاق کو کھیل تماشا نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ عمل قرار دیا ہے۔

 طلاق کے الفاظ اور ان کے اثرات

       طلاق دینے کے لیے استعمال کیے جانے والے الفاظ دو طرح کے ہوتے ہیں: صریح (واضح) اور کنایہ (مجازی)۔صریح الفاظ وہ ہیں جن سے نکاح کے ختم ہونے کا مطلب صاف ظاہر ہوتا ہے، جیسے عربی میں طلاق، اردو میں تیرا میرا رشتہ ختم، یا انگریزی میں Divorce۔ ان الفاظ سے کبھی طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے، کبھی طلاقِ بائن اور کبھی طلاقِ مغلّظہ۔دوسری قسم الفاظِ کنایہ کی ہے، جو بظاہر عام جملے ہوتے ہیں مگر موقع و محل کے لحاظ سے طلاق کے معنی دے سکتے ہیں۔ مثلاً شوہر اگر غصے میں بیوی سے کہے “تو گھر سے نکل جا” — تو یہ کنائی جملہ ہے۔ اس میں شوہر کی نیت اور موقع کو دیکھا جائے گا۔ اگر اس وقت میاں بیوی کے درمیان طلاق کی گفتگو چل رہی تھی، تو یہ الفاظ طلاقِ بائن شمار ہوں گے۔ لیکن اگر طلاق کی بات ہی نہیں تھی، بلکہ کسی اور معاملے پر جھگڑا ہو رہا تھا، تو پھر شوہر کی نیت دیکھی جائے گی — اگر اس کا ارادہ طلاق دینے کا تھا تو طلاق واقع ہو جائے گی، ورنہ نہیں۔اسی لیے ضروری ہے کہ گھروں میں بحث و تکرار یا غصے کے وقت ایسے جملے استعمال نہ کیے جائیں جن سے طلاق کے معنی نکل سکتے ہوں۔ اکثر لوگ لاعلمی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ صرف لفظ “طلاق” کہنے سے ہی طلاق واقع ہوتی ہے، حالانکہ کنائی جملے بھی بعض اوقات اسی درجہ کے اثر رکھتے ہیں۔ شوہر اگر غصے میں کہہ دے “میں نے تجھے طلاق دے دی، جا نکل جا، میں نے تجھے چھوڑ دیا” — تو ان تینوں جملوں سے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں، اور نکاح فوراً ختم ہو جاتا ہے۔ افسوس کہ اکثر شوہروں کو اس حقیقت کا علم ہی نہیں ہوتا، اور جب بعد میں مسئلہ سمجھ میں آتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

 طلاق کے اقسام اور عدت کے احکام 

 طلاق کے بعد عدت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اور عدت مختلف عورتوں کی حالت کے اعتبار سے مختلف نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ بعض عورتیں وہ ہوتی ہیں جنہیں ماہواری آتی ہے، بعض وہ جو عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے ماہواری سے محروم ہوتی ہیں، اور بعض وہ جو حالتِ حمل میں ہوتی ہیں۔ ان تینوں کی عدت الگ الگ بیان کی گئی ہے۔
جن عورتوں کو ماہواری آتی ہو، ان کی عدت تین حیض (ماہواریاں) ہے، یعنی جب تین حیض گزر جائیں تو ان کی عدت مکمل ہو جاتی ہے۔ جن عورتوں کو ماہواری نہیں آتی، ان کی عدت تین مہینے ہے، یعنی تین مہینے گزرنے کے بعد ان کی عدت ختم ہو جائے گی۔ اور جن عورتوں کو حالتِ حمل میں طلاق دی گئی ہو، ان کی عدت وضعِ حمل (ڈلیوری) تک رہتی ہے، جب بچہ پیدا ہو جائے تو ان کی عدت ختم ہو جاتی ہے۔اسی طرح اگر کسی عورت کا شوہر انتقال کر جائے تو اس کی عدت چار مہینے اور دس دن ہے۔ لیکن اگر وہ عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت بھی وضعِ حمل تک رہے گی، یعنی جب وہ بچہ جن لے گی تو اس کی عدتِ وفات ختم ہو جائے گی۔عدت کے دوران تمام عورتوں کو چاہیے کہ وہ اسی مکان میں عدت گزاریں جہاں انہیں طلاق دی گئی ہو یا جہاں ان کے شوہر کا انتقال ہوا ہو۔ اس مدت میں عورتوں کے لیے بناؤ سنگھار اور زیب و زینت سے پرہیز لازم ہے، اور بلا ضرورت گھر سے باہر جانا ممنوع ہے۔ البتہ وہ عورت جسے طلاقِ رجعی دی گئی ہو، وہ زیب و زینت کر سکتی ہے تاکہ شوہر کا دل مائل ہو کر رجوع کر لے۔

 حقِ حضانت ، بچوں کی پرورش کا حق

       طلاق یا علیحدگی کے بعد سب سے اہم مسئلہ بچوں کی پرورش و دیکھ بھال کا ہوتا ہے۔اسلام نے اس معاملے میں عدل و حکمت سے بھرپور نظام دیا ہے،جس میں اصل مقصد بچے کا تحفظ، تربیت اور بھلائی ہے، نہ کہ والدین کی ضد یا انا۔
فقہِ حنفی کے مطابق چھوٹے بچوں کی حضانت سب سے پہلے ماں کا حق ہے،کیونکہ ماں کی آغوش میں ہی بچہ محبت، دیکھ بھال اور سکون پاتا ہے۔یہ حق اسی وقت تک قائم رہتا ہے جب تک ماں دین دار، شریف اور پرورش کے قابل ہو۔اگر وہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے یا بچے کے لیے ماحول ناموزوں ہو،تو یہ حق نانی، دادی یا دیگر قریبی خواتین کو منتقل ہو جاتا ہے،
اور آخر میں ضرورت پڑنے پر باپ یا قریبی مرد رشتہ دار کو دیا جاتا ہے،بیٹے کی حضانت ماں کے پاس سات سال کی عمر تک اور بیٹی کی حضانت اس وقت تک رہتی ہے جب تک وہ نکاح کے قابل نہ ہو جائے۔بعد ازاں اگر بچہ سمجھ دار ہو تو اس کی مرضی اور دینی مصلحت کو بھی دیکھا جاتا ہے۔بچے کی پرورش چاہے ماں کے پاس ہو یا باپ کے،اس کا نان و نفقہ باپ کے ذمہ ہوتا ہے،
یعنی تعلیم، خوراک، لباس اور علاج کا مکمل خرچ باپ برداشت کرے گا۔
اگر ماں نکاحِ ثانی کر لے تو عام طور پر اس کا حقِ حضانت ختم ہو جاتا ہے،مگر بعض خاص حالات میں استثنی دیا جا سکتا ہے۔

مال مہر یا جہیز کے احکام

   طلاق یا علیحدگی کے وقت ایک اہم مسئلہ مالی حقوق کا ہوتا ہے۔ شریعت نے شوہر کو پابند کیا ہے کہ اگر مہر ابھی تک ادا نہیں کیا گیا تو وہ پوری دیانتداری کے ساتھ عورت کو اس کا حق فوراً ادا کرے۔ یہ مہر محض رقم نہیں، بلکہ ایک عزت کا قرض ہے جو شوہر کے ذمے باقی رہتا ہے۔ اسی طرح اگر شوہر نے نکاح کےدوران بیوی کو تحفے، زیورات یا نذرانے دیے ہوں تو وہ عورت کی ملکیت شمار ہوں گے، انہیں واپس لینا یا ان پر ناحق قبضہ کرنا شرعاً درست نہیں۔
اسی طرح اگر عورت اپنے والدین کے گھر سے کچھ سامان یا زیور بطور جہیز لائی ہو تو وہ بھی اس کی ملکیت ہے، شوہر کا اس پر کوئی حق نہیں۔یہ وقت ایسا ہوتا ہے جب جذبات بھڑک اٹھتے ہیں، مگر یہی موقع ہوتا ہے کہ کردار کی بلندی اور ایمان کی پختگی آزمائی جاتی ہے۔ شریعت یہ چاہتی ہے کہ علیحدگی کے باوجود باہمی عزت باقی رہے، کوئی فریق دوسرے کے حق کو پامال نہ کرے، اور نہ ہی انتقام یا تکبر کا رویہ اپنائے۔آخر میں ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ نکاح صرف ایک رشتہ نہیں، ایک عہد ہے، جو محبت، اعتماد اور ذمہ داری پر قائم ہوتا ہے۔ اگر کبھی حالات جدائی تک پہنچ جائیں، تو بھی شریعت ہمیں عدل، حلم، اور شرافت کے ساتھ معاملہ کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔یوں زندگی کا یہ سبق ہمیشہ دل میں رہے، نکاح محبت سے ہو، جدائی عزت سے ہو۔