مدارس کا وقار سادگی میں پوشیدہ

✍: جلیل القاسمی
نائب قاضی و استاذ مدرسہ
بدرالاسلام بیگوسرائے، بہار

مدارسِ دینیہ امتِ مسلمہ کی فکری و روحانی تعمیر کے مراکز ہیں۔ یہاں علم کے ساتھ ساتھ سادگی، وقار، سنجیدگی اور خوفِ خدا کا وہ مزاج پروان چڑھتا ہے جو امت کی رہنمائی کا ضامن ہوتا ہے؛ مگر افسوس کہ حالیہ برسوں میں بعض دینی تقریبات، خصوصاً ختمِ بخاری، ختمِ مشکاۃ اور ختمِ قرآن جیسے بابرکت مواقع، رفتہ رفتہ اپنی اصل روح سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ تقریبات جو کبھی شکر، دعا اور تواضع کا مظہر تھیں، اب بعض مقامات پر دنیوی میلوں کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ ہار پہنائے جانا، گاڑیوں کے جلوس، ویڈیوز اور تصاویر، شور و ہنگامہ اور غیر ضروری اجتماع — یہ سب وہ امور ہیں جو نہ مسجد و مدرسہ کے تقدس سے ہم آہنگ ہیں اور نہ علم و علماء کے وقار کے شایانِ شان۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ انہی امور پر ہم عام سماجی تقریبات میں نکیر کرتے ہیں؛ مگر جب وہی چیزیں مدارس اور مساجد کے دائرے میں ہونے لگیں، تو اصلاح کا حق اخلاقی طور پر کمزور پڑ جاتا ہے۔ اگر دینی اعزاز کے نام پر یہ سب درست ٹھہرے، تو معاشرے کی دیگر تقریبات میں ان پر اعتراض کی بنیاد کہاں باقی رہتی ہے؟
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رُک کر سوچیں! ہم امت کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا علمِ دین کی تکمیل کا اظہار شور، نمائش اور ہجوم سے ہونا چاہیے یا سادگی، دعا اور اخلاص سے؟
اہلِ بصیرت علماء کی یہ متفقہ آواز ہے کہ ان مقدس مواقع کو درس کے اندر، سادہ اور باوقار انداز میں مکمل کیا جائے۔ جس استاد نے سال بھر پڑھایا، وہی اختتام کرائے، وہی دعا کرے، طالب علم کو دستارِ فضیلت مل جائے — بس! نہ بڑے اسٹیج کی حاجت، نہ تشہیر کی، نہ میلہ بننے کی۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ مدارسِ دینیہ خود کو معاشرے کے لیے نمونہ بنائیں، نہ کہ اسی بہاؤ میں بہہ جائیں جس پر وہ دوسروں کی اصلاح کرتے ہیں۔ سادگی ہی ہماری پہچان ہے، وقار ہی ہماری قوت، اور اخلاص ہی ہماری اصل متاع۔
آئیے! علم و دین کی تقریبات کو دوبارہ تقویٰ، سنجیدگی اور خاموش عظمت کے سانچے میں ڈھالیں، تاکہ مدارس کا وقار بھی محفوظ رہے اور امت کو درست سمت کا پیغام بھی ملے۔ رب کریم اخلاص و عمل کی توفیق دے۔آمین
17/01/2026