زبان یا لغت ہونے کی حیثیت سے اولویت تو عربی زبان کو حاصل ہے، باقی اس کے بعد تبلیغِ دین، اشاعتِ اسلام، قرآن فہمی اور حقیقتِ حدیث تک رسائی کے لیۓ جو چیز بھی ذریعہ اور سبب بنے، اس کا حکم بھی وہی ہے جو مسبب (تبلیغِ دین اور اشاعتِ اسلام وغیرہ) کا ہے، مثلاً قرآن وحدیث کو سمجھنے کے لیے نحو، صرف، منطق اور فلسفہ وغیرہ کی ضرورت پڑے یا اسی طرح اشاعتِ دین کے لئے عربی، اردو، سریانی، انگریزی، ہندی اور پنجابی غرض جس زبان کی بھی ضرورت پیش آئے تو جتنا ثواب قرآن وحدیث سمجھنے یا اشاعتِ دین کا ہے اتنا ہی ان فنون اور ان زبانوں کا ہوگا جو ان کے لیے ذریعہ اور سبب بنیں، مشکوٰۃ المصابیح میں حدیث موجود ہے کہ "آپ صلی اللہ علیه وسلم نے یہودیوں پر اطمینان نہ ہونے کی وجہ سے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم فرمایا، چناں چہ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے صرف پندرہ دن میں سریانی زبان سیکھ لی"﴿ مشکوٰۃ المصابیح, حدیث نمبر:4659 / أیضاً سننِ ترمذی, حدیث نمبر: 2715 ﴾
مذکورہ حدیث سے صراحت کے ساتھ معلوم ہو گیا کہ دیگر زبانوں کو ترویجِ دین اور اشاعتِ اسلام کے لۓ استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، لہذا اسی طرح اشاعتِ دین کے لیے انگریزی پڑھنے اور سیکھنے میں کوئی حرج نہیں بل کہ باعثِ اجر وثواب ہے، اگر انگریزی سے نیت صاف ہو، مقصد نیک ہو اور آخر تک اس پر دوام واستمرار بھی رہے تو واقعی بہت ہی اچھی چیز ہے، لیکن عموماً دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ انگریزی پڑھنے سے شروع میں تو مقصد صحیح ہوتا ہے، بڑی نیک تمنائیں ہوتی ہیں، لمبی لمبی آرزوئیں ہوتی ہیں، مگر آہستہ آہستہ انگریزی زبان اپنی انگریزیت دکھانا شروع کر دیتی ہے، مقصد فوت ہو جاتا ہے، تمنا اور آرزوئیں فقط یادگار بن کر رہ جاتی ہیں۔
حضرت مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ انگریزی پڑھنے والوں کی مثال اس طرح دیا کرتے تھے کہ اگر لوہے کو ڈرم وغیرہ میں ڈال دیا جائے تو تو وہ فوراً تہ میں چلا جاتا ہے؛ مگر کچھ دنوں کے بعد اس میں زنگ لگ جاتا ہے جس سے اس کا وزن ختم ہو جاتا ہے اور وہ اپنی حقیقت و ماہیت کو کھو بیٹھتا ہے، نیز پھر وہ اوپر تیرنے لگ جاتا ہے؛ لیکن اگر اسی لوہے کا پینٹ کر کے پانی میں ڈالا جائے تو ایک مدتِ مدید گزر جانے کے باوجود بھی نہ تو اس میں زنگ لگے گا اور نہ اس کی حقیقت تبدیل ہوگی،
ٹھیک اسی طرح جو کورے وغیر ترتیب یافتہ علماء وطلباء یا اور دوسرے سادہ مسلمان انگریزی پڑھتے ہیں تو عموماً اپنی حقیقت بھول جاتے ہیں، اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں، ان گوروں سے مرعوب ہو جاتے ہیں، نظریات میں بڑی حد تک صیہونیوں کے مطیع وفرماں بردار ہو جاتے ہیں، خود مدرسہ کے فاضل ہونے کے باوجود مدارس ان کی نگاہوں میں کھٹکنے لگ جاتے ہیں، اکابر علماء سے بلاوجہ کی دشمنی اور مفت کا حسد وکینہ ان کا روز مرہ کا مشغلہ بن جاتا ہے، بعضے تو لباس کو تبدیل اور ڈاڈھی جیسی عظیم سنت کا بھی صفایا کر دیتے ہیں، لیکن اگر ٹھیک لوہے کی طرح ان کا بھی پینٹ کر دیا جائے تو یہ بھی ان سب مہلک امراض سے محفوظ ہو جاتے ہیں اور ان کا پینٹ ہے "بزرگوں کی صحبت" اگر کسی اللہ والے سے حقیقی تعلق ہو، کسی ولی اللہ کی رہنمائی ساتھ ہو، کسی حقیقی مشفق ومربی کا دستِ شفقت سر پے ہو تو پھر وہ ٹھیک اسی لوہے کی طرح انگریزیت اور اس کے اثراتِ بد سے محفوظ رہتے ہیں جس طرح پینٹ کیا ہوا لوہا۔ (مستفاد از شنیدۂ خاں صاحب)
انگریزی پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ انگریزیت سے محفوظ رہے، انگریزی عصرِ حاضر کی ضرورت ہے، مگر اس سے قبل صحبتِ بزرگاں لازمی چیز ہے، انگریزی پڑھیں، مگر انگریزی نظریات سے احتراز کریں، انگریزی سیکھیں ، مگر اس کے مہلک اثرات سے دور رہیں، انگریزی پڑھیں، مگر انگریزوں کی روش پر نہ چلیں، مناسب یہ ہے کہ انگریزی الفاظ کا تکلم بھی بوقتِ ضرورت ہو۔
یہاں اکبر الہ آبادی یاد آتے ہیں:
تم شوق سے کالج میں پڑھو پارک میں پھولو
جائز ہے غباروں میں اڑو چرخ پہ جھولو
پر ایک سخن بندۂ عاجز کا رہے یاد
اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو
مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ واقعہ پڑھ کر بڑا مزہ آیا، مولانا ابوالکلام آزاد کے پاس واۓ سراۓ ہند تشریف لائے، ساتھ میں ایک ترجمان بھی تھا، جو دونوں کی طرف سے ترجمانی پر معمور تھا، ایک جگہ ترجمان سے کچھ چوک ہو گئ تو مولانا ابوالکلام آزاد نے فوراً انہیں ٹوک دیا اور کہا کہ اس طرح نہیں اس طرح ہے تو گفتگو کے اختتام پر واۓ سراۓ ہند صاحب کہنے لگے کہ جب آپ کو انگریزی آتی ہے تو پھر آپ نے خود انگریزی میں بات کیوں نہیں کی، ترجمان کو واسطہ کیوں بنایا ؟ مولانا ابوالکلام آزاد صاحب نے خاندانی جواب دیا: "آپ پان سو میل دور سے آ کر اپنی زبان نہیں چھوڑ سکتے تو میں اپنے گھر میں رہ کر اپنی زبان کیسے چھوڑ دوں ؟ اس واقعہ میں ان لوگوں کے لۓ بہت اہم سبق ہے جو دو چار انگریزی لفظ جان کر سمجھتے ہیں کہ "ہم چوں ڈنگرے دیگرے نیست"
١٣٢٨ھ۔ مطابق 1910شمشی کے ایک جلسہ میں صاحب زادہ آفتاب احمد خاں نے یہ تجویز پیش کی کہ "دارالعلوم کے تعلیم یافتہ علی گڑھ میں انگریزی پڑھنے جایا کریں اور علی گڑھ کے گریجویٹ عربی پڑھنے کے لئے دیوبند آیا کریں"
یہ تجویز نہایت بہت مبارک خیال کی گئ، اگرچہ اس کا ثمرہ نہایت تلخ تھا۔
یعنی پہلی مرتبہ جو علی گڑھ سے انگریزی حاصل کرنے کے لئے آۓ وہ انگریز کے سی آئی ڈی تھے، جنہوں نے حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کو گرفتار کرانے میں وطن دوستی اور قوم پروری کا حق ادا کر کے انگریز بہادر سے سپرنٹنڈنت سی آئی ڈی کا عہدہ حاصل کر لیا۔(علماء حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے,ج,1 ص, 131)
اس معاہدہ پر ہمارے ایک استاذِ محترم نے تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا: علی گڑھ سے تو کوئی دیوبند آیا نہیں(اگر آیا بھی تو وہ مہلک اور مضر ثابت ہوا) اور دیوبند سے جو بھی علی گڑھ گیا وہ لوٹ کر نہیں آیا۔
اکبر الہ آبادی پھر یاد آ گۓ:
شیخِ مرحوم کا قول اب مجھے یاد آتا ہے
دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے
خلاصہ یہ کہ انگریزی زبان پڑھیں، سیکھیں، سمجھیں، مگر خود انگریز نہ بنیں، اپنی قدر جانیں، اپنا مرتبہ پہچانیں، احساسِ کمتری سے نکلیں، انگریزی الفاظ کا استعمال بوقتِ ضرورت اور بقدرِ ضرورت ہی کریں، کیوں کہ الفاظ اثر اندوز ہوتے ہیں، انگریزی سے قبل کسی شیخِ کامل سے اپنا تعلق ضرور قائم کریں، بزرگوں کے ساتھ بیٹھنے کو اپنی سعادت سمجھیں، ان کے ساتھ گزرے لمحات کو اپنی زندگی کے قیمتی ترین لمحے تصور کریں، اپنے پاس موجود علمی وعملی دولت کی حصول یابی پر سجدۂ شکر ادا کریں۔
فاالحمد للہ علی ذلک.
عبد اللہ یوسف
٧/ربیع الثانی ١٤٤٧ھ۔
بہ روز سہ شنبہ