بسم اللہ الرحمن الرحیم
پہلی قسط
رجب المرجب کی عظمت
وقت کی گردش میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتے ہیں اور کچھ راتیں ایسی ہوتی ہیں جو صدیوں کے دلوں میں نور بھر دیتی ہیں۔ رجب المرجب کا مہینہ بھی انہی باعظمت مہینوں میں سے ہے جو حرمت والے مہینوں یعنی سیکرڈ منتھس، مقدس مہینے، میں شمار ہوتا ہے۔ یہ مہینہ محض دنوں اور تاریخوں کا مجموعہ نہیں بلکہ تاریخِ اسلام کا ایک روشن چیپٹر، باب، ہے جس میں کئی عظیم، فیصلہ کن اور ایمان افروز واقعات پیش آئے ہیں۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوا، یہی وہ مہینہ ہے جس میں امامِ اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اس دنیا سے رخصت ہوئے، یہی وہ مہینہ ہے جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ولادت باسعادت ہوئی اور یہی وہ مہینہ ہے جس میں وہ عظیم الشان معجزہ پیش آیا جسے معجزۂ معراج کہا جاتا ہے، جو اس مہینے کی سب سے نمایاں ہائلائٹ، نمایاں ترین واقعہ، ہے۔
معجزہ کا مفہوم اور اس کی حقیقت
معجزہ دراصل عجز سے بنا ہے اور عجز کے معنی ہیں کمزوری، بے بسی اور لاچاری، یعنی وہ امر جس کے سامنے عقل، طاقت اور قوت سب عاجز آ جائیں، اسی لیے ایسے خارقِ عادت کام کو معجزہ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت کو پروو کرنے، ثابت کرنے، کے لیے اپنے تمام نبیوں اور پیغمبروں کو مختلف معجزات عطا فرمائے، لیکن جب ہم دوسرے انبیاء کے معجزات اور ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا کمپیریزن، موازنہ، کرتے ہیں تو فرق بالکل واضح ہو جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے معجزات کی امتیازی شان
پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تھاؤزنڈز آف معجزات، ہزاروں معجزات، عطا فرمائے، اور دوسری بات یہ ہے کہ دوسرے انبیاء کے معجزات اپنے ایریا، علاقے، اپنی نیشن، قوم، اور اپنے ٹائم پیریڈ، زمانے، تک محدود تھے، جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات یونیورسل، عالمگیر، ہیں، پوری دنیا کے لیے ہیں، پورے خطوں کے لیے ہیں اور پوری انسانیت کے لیے ہیں۔ پھر ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ دوسرے انبیاء کے معجزات ان کی حیاتِ مبارکہ تک محدود رہے، لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض معجزات لائف ٹائم نہیں بلکہ لائف لانگ، ہمیشہ کے لیے، ہیں بلکہ قیامت تک باقی رہنے والے ہیں۔ قرآنِ مجید ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ زندہ معجزہ ہے جو آج بھی پڑھا جاتا ہے، سمجھا جاتا ہے، دلوں کو بدلتا ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔
معجزۂ معراج: وقت اور تاریخ
انہی بے شمار معجزات میں سے ایک عظیم معجزہ معجزۂ معراج ہے جو نبوت کے دسویں سال ستائیس رجب کو پیش آیا۔ لفظ معراج عروج سے بنا ہے اور عروج کے معنی ہیں اوپر چڑھنا اور بلندی کی طرف جانا۔ یہ وہ رات ہے جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک جرنی، سفر، فرمایا، وہ بھی بُراق کے ذریعے، پھر مسجدِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک معراج یعنی سیڑھی کے ذریعے تشریف لے گئے اور اس کے بعد سدرۃ المنتہیٰ سے عرشِ معلّیٰ تک رف رف نامی سواری کے ذریعے لے جائے گئے۔
سفرِ معراج کے تین مراحل
یوں سفرِ معراج کے تھری فیز، تین مراحل، واضح ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک، دوسرا مرحلہ مسجدِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک اور تیسرا مرحلہ سدرۃ المنتہیٰ سے عرشِ معلّیٰ تک کا ہے۔ یہ پورا سفر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسٹیٹس، مقام، رینک، مرتبہ، عظمت، رفعت اور محبوبیت کا کھلا ہوا اعلان ہے، کیونکہ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی کہ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ، پھر ساتوں آسمانوں اور پھر عرشِ معلّیٰ تک کا اتنا طویل سفر رات کے ایک مختصر حصے میں طے ہو جائے۔
معراج: اللہ کی قدرت کا مظہر
یہ سب اللہ تعالیٰ کی پاور، قدرت، اور کپیسٹی، طاقت، سے ہوا، اسی لیے اس سفر کو معجزہ قرار دیا گیا۔ یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ یہ سفر نہ خواب میں ہوا اور نہ نیند میں بلکہ جسمانی طور پر ہوا، اسی لیے مکہ کے لوگوں نے اس پر تعجب کیا، اس کا انکار کیا اور سخت ری ایکٹ، ردعمل، ظاہر کیا۔ اگر یہ محض خواب کا واقعہ ہوتا تو انکار کی کوئی وجہ ہی نہ ہوتی۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں معراج
قرآن اور حدیث کے ریفرنسز، دلائل، اس بات کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ یہ سفر جسمانی تھا۔ قرآنِ مجید میں سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ نجم میں اس کا تذکرہ موجود ہے، اور معراج کی حقیقت کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے لیے ان دونوں سورتوں کی آیاتِ معراج پر تفاسیر کی کتابوں کا ڈیپ اسٹڈی، گہرا مطالعہ، کرنا ضروری ہے۔ پچاس سے زائد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے معجزۂ معراج منقول ہے۔
معراج اور انبیاء علیہم السلام کا مقام
حضرات علماء کرام بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب ہر نبی کو عطا کیا گیا، قربِ خاص ہر نبی کو ملا، لیکن وہ قرب زمین پر عطا ہوا کیونکہ تمام انبیاء کی نبوت زمین سے متعلق تھی، مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم رحمت للعالمین ہیں، زمین کے بھی نبی ہیں، آسمانوں کے بھی نبی ہیں، چاند کے بھی نبی ہیں، سورج اور ستاروں کے بھی نبی ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو عرشِ معلّیٰ پر معراج کروائی۔
معراج کی حکمتیں اور اسرار
علماء کرام نے معجزۂ معراج کی کئی حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اعلانِ نبوت کے بعد دس برس تک جو سخت تکلیفیں، اذیتیں اور آزمائشیں آئیں، ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو کنسولیشن، تسلی، دینے کے لیے عرشِ معلّیٰ پر بلایا۔ آپ کو جادوگر کہا گیا، دیوانہ کہا گیا، مجنون کہا گیا، آپ پر پتھر برسائے گئے، آپ پر گندگی ڈالی گئی، آپ کے صحابہ پر ظلم کیے گئے، طائف کے سفر میں آپ کو لہولہان کیا گیا، آپ کے دادا کا انتقال ہوا، آپ کے چچا کا سایہ اٹھ گیا اور آپ کی غمگسار، وفادار اور سچی رفیقۂ حیات حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا وصال ہو گیا۔ ایسے پرآزمائش حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو آسمانوں پر بلا کر آسمانوں کی سیر کرائی۔دوسری حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب کو اپنی خاص نشانیاں دکھانا چاہتے تھے، جیسا کہ قرآنِ مجید میں خود اس کی تصریح موجود ہے۔ تیسری حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ وعدہ لیا تھا کہ ایک آخری نبی آئیں گے اور تم سب ان پر ایمان لاؤ گے، شبِ معراج میں مسجدِ اقصیٰ میں تمام انبیاء کو جمع کر کے اس وعدے کو پورا فرمایا گیا اور سب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا۔ چوتھی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کو اپنے محبوب کا حسن و جمال دکھانا چاہتے تھے، اسی لیے اس رات پوری کائنات ساکت ہو گئی، گویا وقت بھی رک گیا۔ پانچویں حکمت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا دیدار کروانا چاہتے تھے، اسی لیے عرشِ معلّیٰ پر بلایا گیا، اور اس کے علاوہ نہ جانے کتنی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔
جاری ہے…
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا ۔
(دوسری قسط)
معجزۂ معراج کا رات میں پیش آنا
یہ بات نہایت قابلِ توجہ ہے کہ معجزۂ معراج دن میں نہیں بلکہ رات میں پیش آیا، اور اس کی بھی کئی حکمتیں اور مصلحتیں حضرات علماء کرام نے بیان فرمائی ہیں۔ ایک حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ ترتیب کے اعتبار سے رات دن پر مقدم ہے۔ اگر ہم عام بول چال پر غور کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے۔ عربی زبان میں کہا جاتا ہے لیل و نہار، اس میں بھی رات کو مقدم رکھا گیا ہے، فارسی میں کہا جاتا ہے شب و روز، اس میں بھی رات پہلے ہے، اگرچہ اردو میں عرف عام میں دن رات کہا جاتا ہے لیکن اصل ترتیب رات اور دن ہی کی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نظام میں رات کو ایک خاص تقدم اور خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
دوسری حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ تاریخِ ہدایت کے کئی عظیم واقعات رات ہی کے اندر پیش آئے ہیں۔ قرآنِ مجید کا نزول شبِ قدر میں ہوا، حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو کوہِ طور پر نبوت بھی رات ہی میں عطا کی گئی، اور نمازِ تہجد جیسی عظیم عبادت بھی رات ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ گویا رات ہدایت، راز اور قربِ الٰہی کا وقت ہے۔
تیسری حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر یہ سفر دن کے اجالے میں ہوتا اور پوری دنیا اسے دیکھ لیتی تو ایمان لانا دیکھ کر ایمان لانا ہوتا، جبکہ اللہ تعالیٰ کو ایمان بالغیب مطلوب ہے۔ رات کے اندھیرے میں یہ سفر ہوا، کسی نے آنکھوں سے نہ دیکھا، اور جو مانا اس نے بغیر دیکھے مانا، یہی ایمان بالغیب کی اصل روح ہے۔
معراج کا آغاز اور نزولِ ملائکہ
اس عظیم الشان سفر کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ اللہ رب العزت نے فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل امین علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حکم فرمایا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کئی ہزار فرشتوں کے ساتھ آسمان سے مکہ مکرمہ کی سرزمین پر تشریف لائے۔ اس وقت رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں آرام فرما رہے تھے۔ حطیم دراصل خانۂ کعبہ ہی کا ایک حصہ ہے، مگر جب قریش نے تعمیرِ کعبہ کے وقت حلال اور پاکیزہ مال کی کمی کی وجہ سے تنگی محسوس کی تو اس حصے کو باہر چھوڑ دیا گیا، اسی لیے وہ آج تک علیحدہ ہے۔
حضرت جبرائیل علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک کو اپنے نورانی پروں سے مس کیا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو فرشتوں نے نہایت عزت، احترام اور مکمل استقبال کے ساتھ آپ کو زمزم کے پاس لے گئے۔
شقِ صدر کا عظیم واقعہ
وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک کو چاک کیا گیا، یعنی سینے کے نرم حصے سے ناف تک پورا حصہ کھولا گیا، پھر آپ کا دل مبارک نکالا گیا اور زمزم کے پانی سے فرشتوں نے اسے دھویا۔ اس کے بعد جنت سے سونے کی ایک تشتری لائی گئی جس میں علم اور حکمت بھری ہوئی تھی، اور وہ علم و حکمت آپ کے قلبِ مبارک میں ڈال دی گئی، پھر سینۂ مبارک کو سی دیا گیا۔ اس واقعے کو شقِ صدر کہا جاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شقِ صدر کے یہ واقعات کئی مرتبہ پیش آئے تاکہ آنے والے عظیم حالات کے لیے آپ کے قلب و سینہ کو مضبوط اور تیار کیا جائے۔ یہاں حضرات علماء کرام نے ایک لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ زمزم افضل ہے یا آبِ کوثر؟ علماء فرماتے ہیں کہ زمزم افضل ہے، کیونکہ اگر آبِ کوثر زمزم سے افضل ہوتا تو جس طرح جنت سے سونے کی تشتری اور براق منگوایا گیا، اسی طرح آبِ کوثر بھی منگوایا جاتا، مگر ایسا نہیں ہوا، اس سے معلوم ہوا کہ زمزم کی فضیلت بہت عظیم ہے۔
براق کی سواری اور اس کی شان
جنت سے جو سواری لائی گئی اس کا نام براق ہے۔ براق نہایت حسین، خوبصورت اور تیز رفتار جانور تھا۔ براق برق سے بنا ہے اور برق کے معنی بجلی کے ہیں، مگر حقیقت میں اس کی رفتار اور اسپیڈ، رفتار، بجلی سے بھی ہزاروں بلکہ لاکھوں درجے زیادہ تھی۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاں میری نظر پڑتی تھی وہاں براق کا قدم پڑتا تھا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم براق پر سوار ہوئے تو وہ تھوڑا سا بدکا۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نے فرمایا اے براق! تجھے معلوم نہیں کہ تیری پیٹھ پر امام الانبیاء، سلطان الانبیاء سوار ہیں؟ براق عرض کرنے لگا آج مجھے شوخی کرنے دیجیے، کیونکہ بہت زمانوں کے بعد میری خواہش پوری ہو رہی ہے۔ جنت میں اللہ تعالیٰ نے ہزاروں براق پیدا فرمائے تھے اور اعلان فرمایا تھا کہ میں تم میں سے ایک کو منتخب کروں گا اور اس پر اپنے محبوب کو آسمانوں کی سیر کراؤں گا۔ ہر براق یہ امید کر رہا تھا کہ یہ سعادت مجھے ملے گی، مگر میں ایک کونے میں کھڑا رو رہا تھا کہ نہ معلوم مجھے یہ شرف ملے گا یا نہیں۔ میں عاجزی اور خوف کے ساتھ کھڑا تھا، اسی عاجزی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میرا انتخاب فرمایا۔
براق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! میری ایک خواہش ہے کہ حشر کے میدان میں جب آپ جنت کی طرف تشریف لے جائیں تو اس وقت بھی مجھے آپ کی سواری بننے کا شرف عطا ہو۔ چنانچہ قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے یہی درخواست فرمائیں گے کہ اسی براق کو میری سواری بنایا جائے جس پر میں شبِ معراج میں سوار ہوا تھا۔
زمین کا ادب اور سفرِ ارضی
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم براق پر سوار ہو کر سفر کا آغاز فرمانے لگے تو زمین نے آپ کے قدم مبارک پکڑ لیے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آج آسمانوں کو یہ اعزاز مل رہا ہے کہ آپ ان کی سیر فرما رہے ہیں، کل میرا ذکر نہیں ہوگا، اس لیے میری بھی سیر ہو جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ فرما کر زمین کے سفر کا ذکر فرمایا۔
راستے کی مبارک منزلیں
مسجدِ حرام یعنی بیت اللہ اور اس کے اطراف کی جگہ، جہاں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے اور جماعت کے ساتھ ستائیس لاکھ نمازوں کے برابر، وہاں سے آپ نے سفر کا آغاز فرمایا۔ پہلی منزل مدینہ منورہ تھی۔ حضرت جبرائیل امین نے فرمایا یہ مدینہ ہے، کھجوروں کا جھنڈ ہے، یہاں آپ ہجرت فرما کر آئیں گے، یہاں اتر کر دو رکعت نماز ادا کیجیے۔ آپ نے دو رکعت نماز ادا فرمائی۔
دوسری منزل کوہِ طور تھی، جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے تھے۔ یہاں بھی آپ نے دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ تیسری منزل شہرِ مدین تھی، جہاں حضرت شعیب علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی، یہاں بھی دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ چوتھی منزل بیت اللحم تھی، جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی، وہاں بھی آپ نے دو رکعت نفل ادا فرمائے۔
مسجدِ اقصیٰ میں امامتِ انبیاء
اس طرح منازل طے کرتے ہوئے آپ مسجدِ اقصیٰ پہنچے اور براق کو ایک پتھر میں سوراخ کر کے باندھ دیا۔ اس میں یہ سبق ہے کہ اسباب اختیار کرتے ہوئے اللہ پر مکمل بھروسہ کرنا چاہیے۔ مسجدِ اقصیٰ میں تمام انبیاء کرام آپ کا انتظار فرما رہے تھے۔ حضرت جبرائیل امین نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت فرمائی۔
علماء فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی میں کبھی اذان نہیں دی، اس کی وجہ یہ ہے کہ اذان میں حی علی الصلاۃ یعنی نماز کی طرف آؤ کہا جاتا ہے، اگر نبی کی آواز پر کوئی لبیک نہ کہے تو کفر لازم آ جائے، اسی لیے آپ نے اذان نہیں دی۔
امامتِ انبیاء کے عظیم اسباق
مسجدِ اقصیٰ میں امامت سے کئی عظیم اسباق ملتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف نبی ہی نہیں بلکہ امام الانبیاء اور سید الاولین والآخرین ہیں۔ دوسری بات یہ کہ آپ آخری نبی ہیں، اس لیے امامت بھی آپ ہی نے فرمائی اور اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تیسری بات یہ کہ کسی نبی نے امامت کی خواہش ظاہر نہیں کی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کو عہدے کا طلبگار نہیں ہونا چاہیے۔
دودھ اور شراب کا انتخاب
جب آپ مسجد سے باہر تشریف لائے تو حضرت جبرائیل امین نے آپ کے سامنے دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ نوش فرمایا۔ حضرت جبرائیل امین نے فرمایا کہ آپ نے درست انتخاب کیا، اگر دوسرا پیالہ اختیار فرماتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
جاری ہے…
تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا
(تیسری قسط)
مسجدِ اقصیٰ سے آسمانوں کا سفر: براق کی صرصر رفتاری یا رفعتِ زینہ؟
جب مسجدِ اقصیٰ کی حدود میں امامتِ انبیاء کا وہ آفتابِ عالم تاب منظر طلوع ہو کر اپنے کمال کو پہنچا، تو اب بساطِ عالم سے پرے اس سفر کا آغاز ہوا جسے تاریخِ عشق 'معراجِ سماوی' کے نام سے پکارتی ہے۔ یہاں اہلِ علم کے درمیان ایک لطیف بحث چھڑی ہے کہ یہ سفرِ سدرہ براق کی صرصر رفتاری کا مرہونِ منت تھا یا کسی نورانی زینہ اور سیڑھی کا؟
حقیقت تو یہ ہے کہ عقلِ انسانی کے تنگ کوزے میں قدرتِ الٰہی کا یہ بحرِ بے کراں نہیں سما سکتا۔ آج کے اس جدید اور ماڈرن دور میں جب انسان نے برقی لہروں اور مشینی جادونگری سے فاصلوں کو سمیٹ لیا ہے، تو وہ رب جو خالقِ کائنات اور قادرِ مطلق ہے، کیا وہ اپنے محبوب ﷺ کے لیے کوئی ایسی نورانی سیڑھی تخلیق نہیں کر سکتا جو زمین و زماں کی قیود کو توڑ کر پلک جھپکتے میں فرش کے ذرے کو عرش کا تارہ بنا دے؟ یہ سفر عقل کی پرواز سے ماورا سہی، مگر قدرت کے اعجاز سے باہر ہرگز نہیں۔
پہلے آسمان کی دہلیز اور جدِ امجد سے ملاقات
جب سدرہ نشینِ ازل کے قافلہ سالار، حضرت جبرائیلِ امیں، حبیبِ کبریا ﷺ کو لے کر پہلے آسمان کی چلمن تک پہنچے، تو سکوتِ فضا ایک دستک سے ٹوٹا۔ پوچھا گیا: کون ہے جو اس حریمِ ناز کا در کھٹکھٹاتا ہے؟عرض کیا: جبرائیل ہوں اور ساتھ میں وہ آفتابِ نبوت ﷺ ہیں جن کے ذکر سے دو عالم منور ہیں۔دروازہ وا ہوا تو سامنے ابوالبشرحضرت آدم علیہ السلام جلوہ گر تھے۔ یہ ملاقات ایک شجرِ کہن اور اس کے سب سے معطر ثمر کی ملاقات تھی ،حضرت جبرائیل نے تعارف کی شمع روشن کی، تو نبی کریم ﷺ نے کمالِ بندگی اور تواضع کے ساتھ سلام میں پہل فرمائی۔ اس میں یہ حکمت پنہاں تھی کہ یہ ملاقات محض رسمی نہ تھی، بلکہ ہجرتِ مکہ کا ایک خاموش استعارہ تھی۔ جیسے آدم علیہ السلام کو جنت کی وسعتوں سے زمین کی آغوش میں آنا پڑا، ویسے ہی رحمتِ عالم ﷺ کو اپنے وطنِ مالوف سے ہجرت کی کٹھن راہوں سے گزرنا تھا۔
آسمانوں کے درجات اور انبیائے کرام کے اشارات
دوسرے آسمان پر مسیحِ دوراں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات اس بات کا یقین اور گیارنٹی کا مژدہ تھی کہ جیسے دشمنوں کی سازشیں عیسیٰ ابنِ مریم کے بال بیکا نہ کر سکیں، ویسے ہی ہجرت کی شب کفار کے ننگی تلواروں کے پہرے بھی آپ ﷺ کے گرد حصارِ الٰہی کو نہ توڑ سکیں گے۔تیسرے آسمان پر ماہِ کنعاں حسنِ یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ یہاں یہ اشارہ مقصود تھا کہ جس طرح اپنوں کی بے وفائی اور کنویں کی تنہائی یوسف کو مصر کے تختِ شاہی تک لے گئی، ویسے ہی اپنوں کی مخالفت آپ ﷺ کے لیے فتحِ مکہ کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔چوتھے آسمان پر پیکرِ ادریس،حضرت ادریس علیہ السلام، جو علم و قلم کے شناور تھے، سے ملاقات ہوئی۔ یہ اس بات کا کنایہ تھا کہ آپ ﷺ کی بعثت محض حاکمیت کے لیے نہیں، بلکہ نوعِ انسانی کے تزکیہ اور تعلیم کے لیے ہے۔ آپ ﷺ کی لائی ہوئی معلومات اور انفارمیشن دلوں کی بنجر زمین کو گلزار بنانے کا نسخہ ہے،پانچویں اور چھٹے آسمان پر حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ علیہما السلام سے ملاقات ہوئی۔ یہاں حلم، بردباری اور وقت کے فرعونوں سے ٹکرانے کا سبق تھا۔ یہ اس بات کی منصوبہ بندی اور پلاننگ تھی کہ راہِ حق میں پتھر بھی آئیں گے اور طعنوں کے تیر بھی، مگر فتحِ مبین کا علمِ نصرت آپ ﷺ ہی کے دستِ مبارک میں ہوگا۔ جس طرح حضرت ہارون علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کی سرکشی پر صبر اور تحمل سے کام لیا اپ کو بھی مکے والوں کی شرارتوں پر اسی طرح فی الحال صبر و تحمل سے کام لینا ہوگا، جس طرح حضرت موسی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرعون جیسی طاقت سے ٹکرایا اپ کوئی بڑی بڑی طاقتوں سے ٹکرانا ہے۔
ساتواں آسمان: خلیلِ خدا اور معصوم کلیوں کا نشیمن
ساتویں آسمان پر جب سفرِ معراج کا قافلہ پہنچا، تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہوئی۔ یہاں 'خلیل' اور 'حبیب' کا آمنا سامنا تھا۔ خلیل وہ جو سب کچھ دے کر رب کو پائے، اور حبیب وہ جسے رب سب کچھ عطا فرما کر اپنا لے،آپ بیت المعمور سے ٹیک لگائے تشریف فرما تھے۔ بیت المعمور وہ مقدس مقام ہے جو فرشتوں کا قبلہ ہے؛ اس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ روزانہ ستر ہزار فرشتے اس کا طواف کرتے ہیں، مگر فرشتوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ جس کی ایک بار باری آ جائے، اسے قیامت تک دوبارہ موقع نہیں ملتا۔ یہ نورانی گھر کرۂ ارض پر موجود خانۂ کعبہ کے بالکل عین اوپر واقع ہے، کہ اگر وہاں سے کوئی چیز گرے تو سیدھی بیت اللہ کی چھت پر آ ٹھہرے۔نبی کریم ﷺ نے وہاں ایک دلنشیں منظر دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اردگرد ننھے منّے معصوم بچوں کا ہجوم ہے۔ کچھ دائیں جانب ہیں اور کچھ بائیں، اور آپؑ کمالِ شفقت سے ان کا دل بہلا رہے ہیں۔ جب آپ ﷺ نے دریافت فرمایا، تو حضرت جبرائیل امینؑ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ وہ معصوم نابالغ بچے ہیں جو بچپن ہی میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ اب عالمِ برزخ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے مربی اور سرپرست ہیں، وہ ان کا دل بہلاتے ہیں اور ان کی تربیت فرماتے ہیں۔
یہ منظر جہاں اللہ کی رحمت کی خوشخبری تھا، وہیں ان والدین کے لیے تسلی کا پیغام بھی ہے جن کے جگر گوشے بچپن میں بچھڑ جاتے ہیں،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نہ صرف آپ ﷺ کا استقبال کیا، بلکہ کمالِ محبت سے عرض کیا کہ میری طرف سے اپنی امت کو سلام کہیے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ تذکرہ آتا ہے، تو ہم پر لازم ہے کہ کہیں: "وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ"۔ اس احسان کا بدلہ اور اس نسبت کی یاد ہم ہر نماز میں "درودِ ابراہیمی" کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔ آپؑ نے امت کو یہ معلومات بھی دیں کہ جنت کی زمین نہایت زرخیز اور ہموار ہے، اس میں سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کے پودے لگاؤ، تاکہ تمہارا ابدی باغ ہرا بھرا رہے۔
معراج کا یہ سفر محض سیرِ افلاک نہ تھی، بلکہ تاریخِ عالم کا وہ عملی نقشہ تھا جس میں مستقبل کی فتوحات اور آزمائشوں کے خدوخال واضح کر دیے گئے تھے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب بندہ رب کی رضا کی سیڑھی پر قدم رکھتا ہے، تو زمین کی پستی اس کا راستہ نہیں روک سکتی اور آسمان کی رفعتیں اس کے تلوے چومنے لگتی ہیں۔
تیری معراج کہ تو لوح و قلم تک پہنچا
(تیسری قسط)
✍️ مفتی نذیر احمد حسامی
سفرِ سدرہ سے وصالِ یار تک
سدرۃ المنتہیٰ کائنات کی آخری سرحدہے، جب ساتویں آسمان کی وسعتیں بھی پیچھے رہ گئیں، تو قافلۂ معراج اس مقام پر پہنچا جسے سدرۃ المنتہیٰ کہا جاتا ہے۔ 'سدرہ' بیری کا وہ شجرِ نور ہے جو کائنات کا آخری بارڈر ہے۔ یہ وہ مقامِ فائنل ہے جہاں نیچے سے جانے والے اعمال ٹھہر جاتے ہیں اور اوپر سے اترنے والے احکامات کی منزل بھی یہی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اس عظیم الشان شجر کا مشاہدہ فرمایا جس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح وسیع اور پھل مٹکوں کے مانند گراں قدر تھے۔ اس درخت پر ایک عجیب نورانیت کا پہرا تھا۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ پروانہ صفت فرشتے تھے جو اپنے محبوب ﷺ کے دیدار کے مشتاق تھے اور اس شجر کو بساطِ بندگی کی طرح سجائے بیٹھے تھے۔
جبرائیلؑ کی معذرت اور 'رف رف' کی سواری
اسی مقام پر جبرائیلِ امیںؑ رک گئے، جن کے دم سے سارا سفر پرنور تھا۔ حضور ﷺ نے پوچھا: اے جبرائیل! تم تو میرے ہم سفر تھے، اب یہ کنارہ کشی کیوں؟ جبرائیلؑ نے عرض کیا:اگر یک سرِ مُو برابر پَرَم۔۔۔ فروغِ تجلی بسوزد پَرَم
یعنی اگر میں یہاں سے ایک بال برابر بھی آگے بڑھا تو تجلیاتِ الٰہی کی تپش میرے پروں کو جلا کر راکھ کر دے گی۔ یہیں سے آپ ﷺ کے لیے ایک خاص سواری 'رف رف' کا انتظام کیا گیا، جو آپ ﷺ کو زمان و مکاں کی قید سے نکال کر وہاں لے گئی جہاں کائنات کا ہر وجود، ہر فرشتہ اور ہر مادی شے پیچھے رہ گئی۔ اب کائنات تھم گئی تھی، اور محبوب ﷺ تنہا اپنے رب کی طرف رواں دواں تھے۔
عرشِ اعظم پر
صدائےیار اور ابوبکرؓ کی آواز کا راز
جب آپ ﷺ عرشِ معلیٰ کی تجلیات کے حصار میں پہنچے، تو پردۂ غیب سے ایک جانی پہچانی آواز آئی: "اے محمد ﷺ! ٹھہر جائیے، آپ کا رب آپ پر سلام بھیجنا چاہتا ہے۔" یہ آواز ہو بہو یارِ غار حضرت ابوبکر صدیقؓ کی آواز تھی۔ حضور ﷺ حیران ہوئے کہ کائنات کا ہر ذرہ تو سدرہ پر رک گیا، ابوبکرؓ یہاں کیسے پہنچ گئے؟
تب حق تعالیٰ کی طرف سے ندا آئی: اے محبوب! پریشان نہ ہوں، یہ آواز ابوبکرؓ کی نہیں بلکہ ایک فرشتے کی ہے جسے میں نے آپ کے معتبر دوست کا لہجہ دیا ہے تاکہ آپ اس عالمِ تنہائی میں خود کو مانوس محسوس کریں اور ابوبکرؓ کو یہ مقامِ عظیم عطا ہو کہ ان کا لہجہ عرش پر گونجے۔
وصالِ محبوب: "ثمّ دنا فتدلّیٰ" کا مقامِ رفیع
پھر وہ لمحہ آیا جسے قرآن نے 'دنا فتدلیٰ' (پھر وہ قریب ہوا اور جھک گیا) سے تعبیر کیا ہے۔ وہاں نہ کوئی حجاب تھا، نہ کوئی دوری۔ وہاں کوئی دوسرا نہ تھا؛ بس خالق تھا یا اس کا شاہکار، محبوب تھا یا اس کا محب۔ اس خلوتِ ناز میں حضور ﷺ نے بارگاہِ الٰہی میں تین عظیم تحفے پیش کیے: التحیات: تمام قولی و لسانی عبادتیں۔ الصلوات: تمام بدنی و جانی عبادتیں۔الطیبات: تمام مالی عبادتیں۔ اللہ ہی کے لیے ہے،جواب میں اللہ تعالیٰ نے بھی تین انعامات سے نوازا: السلام علیک ایہا النبی ورحمت اللہ وبرکاتہ"۔ اے نبی اپ پر سلام ہو اللہ کی رحمت اور اس کی برکت، مگر قربان جائیے رحمتِ عالم ﷺ پر، کہ اس مقامِ وصال پر بھی امت کو نہ بھولے اور عرض کیا: "السلام علینا وعلیٰ عباد اللہ الصالحین" (سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک بندوں پر)۔ فرشتوں نے جب یہ مکالمہ سنا تو پکار اٹھے: "اشہد ان لا الٰہ الا اللہ واشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ"۔ یوں یہ مکالمہ قیامت تک کے لیے تشہد کی صورت میں نماز کا حصہ بن گیا۔
راز و نیاز کی باتیں اور تین گراں قدر عطایاء
وہاں وہ راز و نیاز ہوئے جنہیں 'فاوحیٰ الیٰ عبدہ ما اوحیٰ' کے پردوں میں رکھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر وہ وحی کی جسے عام عقلیں نہیں سمجھ سکتیں۔ اس موقع پر خاص طور پر تین تحفے عطا ہوئے:
* سورہ بقرہ کی آخری آیات: (آمن الرسول...) جن کی تلاوت مومن کے لیے باعثِ برکت ہے۔ شفاعتِ کبریٰ کا مژدہ: اور یہ خوشخبری کہ شرک کے سوا ہر گناہ معاف کیا جا سکتا ہے۔
نماز کا عظیم تحفہ دیا گیا، ابتدا میں 50 نمازیں عطا ہوئیں، جو دراصل فرشتوں کی مختلف عبادات رکوع، سجود، قیام کا نچوڑ تھیں۔
حضرت موسیٰؑ کا مشورہ اور نمازوں میں تخفیف
واپسی پر چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ جب انہیں 50 نمازوں کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر عرض کیا کہ آپ کی امت کمزور ہے، وہ اتنی بڑی ذمہ داری نہیں نبھا سکے گی۔ آپ ﷺ نو مرتبہ اللہ کے حضور حاضر ہوئے اور ہر بار اللہ نے تعداد کم فرمائی، یہاں تک کہ 5 نمازیں رہ گئیں۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ اب مجھے مزید مانگتے ہوئے شرم آتی ہے۔ تب غیب سے آواز آئی: "اے محبوب! یہ گنتی میں تو 5 ہیں، مگر جو انہیں اخلاص سے ادا کرے گا، میں اسے 50 ہی کا ثواب دوں گا۔"
ایک نکتۂ معرفت
خلیل اور کلیم کا انداز
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ (خلیل اللہ) نے نمازیں کم کرانے کا کیوں نہیں کہا؟ علمائے حق فرماتے ہیں کہ خلیل وہ ہوتا ہے جو دوست کے ہر حکم پر سرِ تسلیم خم کر دے۔ جبکہ حضرت موسیٰؑ کلیم تھے، جنہیں کلام کا ملکہ حاصل تھا، اس لیے انہوں نے اپنی قوم کے تجربے کی روشنی میں یہ مشورہ دیا۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ دراصل بار بار آپ ﷺ کو اللہ کے پاس بھیج کر آپ کے چہرہِ انور پر چھائی ہوئی ربانی تجلیات کا فیض حاصل کرنا چاہتے تھے۔یوں آپ ﷺ 50 نمازوں کا ثواب اور دیدارِ الٰہی کی تپش لیے معراج سے واپس تشریف لائے۔
جاری ہے...