اے نوجوانو! سگریٹ نہیں، خود کو چنو
بسم اللہ الرحمن الرحیم. مضمون (73)
اے میرے عزیز نوجوانو!
آپ وہ قوت ہیں جس پر امت کی امیدیں قائم ہیں، آپ وہ چراغ ہیں جن سے آنے والی نسلیں روشنی لیتی ہیں، آپ کی سوچ، آپ کا کردار، آپ کی عادتیں صرف آپ کی ذات نہیں بلکہ پورے معاشرے کی سمت طے کرتی ہیں۔ مگر افسوس! آج آپ میں سے بہت سے نوجوان ایک ایسی آگ کو اپنے ہاتھ سے اپنے سینے میں لگا رہے ہیں جو نہ صرف جسم کو جلا رہی ہے بلکہ ارادوں کو بھی کمزور کر رہی ہے. اور وہ ہے سگریٹ نوشی۔
سوال یہ نہیں کہ آپ سگریٹ کیوں پیتے ہیں، سوال یہ ہے کہ آپ خود کو کیوں جلنے دے رہے ہیں؟
اے نوجوان! قرآن آپ سے کیا کہتا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيمًا.
(اپنے آپ کو قتل مت کریں، بے شک اللہ آپ پر بہت مہربان ہے النساء: 29)
سوچیے! کیا سگریٹ اپنے آپ کو آہستہ آہستہ قتل کرنا نہیں؟
کیا یہ جان بوجھ کر اپنے جسم کو زہر پلانا نہیں؟
پھر فرمایا: ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة.
(اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالیں. البقرہ: 195)
اے نوجوان!
جب آپ سگریٹ جلاتے ہیں تو دراصل آپ اپنے ہاتھ سے خود کو ہلاکت کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں۔
نبی ﷺ آپ کو کیا نصیحت کرتے ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: - لا ضرر ولا ضرار.-نہ خود نقصان اٹھائیں، نہ کسی کو نقصان دیں (سنن ابن ماجہ 2341)
سگریٹ:-آپ کو نقصان دیتی ہے
آپ کے والدین کو دکھ دیتی ہے
آپ کے بچوں کو زہر دیتی ہے
آپ کے اردگرد والوں کی سانسوں کو آلودہ کرتی ہے
تو کیا یہ حدیث آپ کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں؟
اے نوجوان! یہ فیشن نہیں، فریب ہے
آپ سمجھتے ہیں:
یہ اسٹائل ہے
یہ اسمارٹ لگنے کا طریقہ ہے
یہ ٹینشن کم کرتی ہے
مگر حقیقت یہ ہے: یہ نہ اسٹائل ہے، نہ اسمارٹنیس، نہ سکون
یہ صرف غلامی ہے. نکوٹین کی غلامی
جو چیز آپ کو بار بار اپنی طرف کھینچے،
جو آپ کے بغیر نہ چھوٹے،
وہ شوق نہیں - زنجیر ہوتی ہے
مال کا ضیاع: شیطان سے دوستی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين.
(فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں - الاسراء: 27)
اے نوجوان! سوچیے:
مہینے کے کتنے پیسے دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں؟
وہ پیسہ کتاب بن سکتا تھا
ماں باپ کی خدمت بن سکتا تھا
کسی غریب کا سہارا بن سکتا تھا
مگر آپ اسے راکھ بنا رہے ہیں۔
صحت: امانت ہے، آپ کی ملکیت نہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: -نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس: الصحة والفراغ.
دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ خسارے میں ہیں: صحت اور وقت. (ترمذی 2304)
اے نوجوان!
صحت آپ کی ملکیت نہیں،
یہ اللہ کی امانت ہے۔
اور جو امانت میں خیانت کرے،
وہ کل قیامت میں جواب دہ ہوگا۔
اصل مسئلہ: سگریٹ نہیں، آپ کی سوچ ہے
سچ یہ ہے: آپ یقیناً سگریٹ نہیں چاہتے،
آپ سکون چاہتے ہیں۔
آپ دھواں نہیں چاہتے،
آپ اہمیت چاہتے ہیں۔
آپ نشہ نہیں چاہتے،
آپ پہچان چاہتے ہیں۔
مگر یہ سب سگریٹ نہیں دے سکتی،
یہ سب اللہ سے تعلق دے سکتا ہے۔
لہٰذا :- آج، ابھی، اسی لمحے اس ناسور لت سے توبہ کیجئے
اے پیارے نوجوانو!
یہ مت کہیے: "کل چھوڑوں گا"
یہ مت کہیے: "آہستہ آہستہ چھوڑوں گا"
شیطان کا سب سے خطرناک ہتھیار :
لفظِ - کل ہے.
آج عہد کیجیے:
. اے اللہ! میں اپنے جسم کو نہیں جلاؤں گا
میں اپنے والدین کو نہیں رُلاؤں گا
میں اپنی زندگی کو دھوئیں میں نہیں اڑاؤں گا"
آپ کون ہیں؟اپنے آپ کو آپ پہچانیں.
آپ وہ ہیں:
جن کی پیشانی سجدے کے لیے بنی ہے
جن کے ہاتھ قرآن تھامنے کے لیے بنے ہیں
جن کی سانس ذکر کے لیے بنی ہے
اے امتِ اسلامیہ کے بہادر نوجوانو!
آپ کی جوانی دھوئیں کے لیے نہیں، دین کی سربلندی کے لیے ہے۔
آپ امت کا فخر ہیں، ہمارے سر کا تاج ہیں،
آپ کی سانسوں میں، زہر نہیں۔ذکر ہونا چاہیے.
آپ وہ نسل ہیں جس سے تاریخ بننی ہے،
راکھ نہیں، انقلاب آپ کی پہچان ہے۔
آپ کی رگوں میں ایمان دوڑتا ہے،
نکوٹین (نشہ آور اشیاء ) نہیں، یقین آپ کا سرمایہ ہے۔
آپ کی پیشانی سجدوں کے لیے بنی ہے،
سگریٹ کے کش لگانے کے لیے نہیں۔
آپ کی آواز میں حق کا اعلان ہونا چاہیے،
کھانسی کی آہ نہیں۔
آپ اپنے رب کے سپاہی ہیں،
کسی نشے کے غلام نہیں۔
آپ کی جوانی امت کی امانت ہے،
اسے دھوئیں میں مت اڑنے دیجیے۔
آپ اگر سنبھل گئے تو نسلیں سنبھل جائیں گی،
آپ اگر جل گئے تو تاریخ روئے گی۔
اگر آپ نے آج سگریٹ چھوڑ دی،
تو آپ نے صرف ایک عادت نہیں چھوڑی،
آپ نے:
اپنی جان بچائی
اپنے والدین کی دعائیں کمائیں
اپنے رب کو راضی کیا
اپنی اصل پہچان واپس پائی
یاد رکھیے: جو نوجوان خود پر قابو پا لیتا ہے،
وہ پوری دنیا پر قابو پا سکتا ہے۔
آئیے آج یہ عہد کریں:
"ہم سگریٹ نہیں پئیں گے،
ہم خود کو نہیں جلائیں گے،
ہم اپنی زندگی کو عزت، صحت اور ایمان کے ساتھ گزاریں گے۔
اللہ ہمیں سچی توبہ، مضبوط ارادہ اور پاکیزہ زندگی عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com