*سوشل میڈیا پر رابطے کی سہولت*

سوشل میڈیا پر روابط کی سہولت نے تعلقات کی راہ کو مزید آسان بنادیا ہے۔ یہاں ہر فریق کو سوائے خدا خوفی اور آخرت کی جوابدہی کے کسی قسم کی نگرانی، سختی اور پابندی نہیں بچا سکتی۔اور ان ہی اوصاف کا پیدا کرنا بہترین حل ہے۔کسی سے طویل گفتگو، کسی کے جذبات سے کھیلنا، وقت گزاری کرنا، رجھانے کے لیے لڑکیوں کو اپنی ڈی پی میں اپنی ذات کا اظہار کرنا، یہ ساری کوششیں انسان کے باطن میں رذالت پیدا کردیتی ہیں۔سوشل میڈیا پر جنس مخالف سے کھلی اور چھپی گفتگو ،اللہ کے سامنے جوابدہی اور خدا ہر جگہ دیکھ رہا ہے کی فکر سے بے نیاز ہونے کی علامت ہے۔یہاں حضرت لقمان علیہ السلام کی وہ نصیحت زیادہ کھلتی ہے کہ’’اے میرے بیٹے!اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر ہو (تو بھی اسے معمولی نہ سمجھنا،وہ عمل ) کسی پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہویا پھر زمین کے اندر(زمین کی تہہ میں چھپا ہوا ہو ) اللہ تعالیٰ اسے ظاہر فرمائیں گے،بے شک اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین وباخبر ہے۔‘‘
کھلے چھپے میں برائی کو برائی سمجھنے کا تصور ہی کسی فرد کو بچا سکتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ باطل قوتوں کی کھلی اور چھپی ہر سازش کا جواب اپنی نسلوں کی تربیت کا نظام ہے۔ تربیت کا نظام انفرادی اور اجتماعی کوششوں کےنتیجے میں انجام پاتا ہے ۔انفرادی کوشش کے طور پر ہم اپنے خاندانوں میں اسلامی اقدار اور احکام خداوندی کا شعور پروان چڑھائیں۔ نہ صرف یہ کہ ہم اپنے گھر کو بچانے کی فکریں ،بلکہ سماج کے تحفظ کے لیے بھی اقدام کریں،ہماری انفرادی کوشش اور گھر کی تربیت ہمیں سماج اور معاشرے سے بے نیاز نہ کردے، کیونکہ جب آگ باہر بھی لگی ہو تو ہماری دہلیز کب تک محفوظ رہے گی؟ اس لیے ہم تماشائی بننے سے اللہ کی پناہ چاہیں!