(سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے)
انسان کی عادت ہے کہ جب وہ کسی سے نفرت کرتا ہے تو اپنا غصہ نکالنے کے لیے ہاتھا پائی کرنے لگ جاتا ہے۔ایسا ہی مشرکین مکہ نے بھی کیا کہ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ مسلمان بڑھتے ہی جا رہے ہیں تو انہوں نے آنحضرتؐ پر قید و بند کی صعوبتیں اور طائف کا وہ درد ناک منظر، ایسے ایسے ظلم کیے کہ انسان ان کے تصور سے ہی کانپ جاتا ہے۔
وادئ طائف کا صبر آزما سفر:
یہ نبوت کے دسویں سال ماہ شوال کا واقعہ ہے کہ
مکہ والوں کو بہت سمجھانے کے باوجود بھی جب وہ اسلام دشمنی سے باز نہ آئے تو اللہ پاک کے حکم سے آنحضرتؐ اپنے منہ بولے بیٹے زید کے ساتھ مکہ سے کچھ دور پر فضاء بستی طائف میں تبلیغ کے لیے گئے۔
جب طائف پہنچے تو بستی میں داخل ہونے سے پہلے وہاں کے تین مشہور سردار جو آپس میں بھائی تھے، آنحضرتؐ کو ملے۔ آنحضرتؐ نے انہیں توحید کی دعوت دی لیکن تینوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ پھر آنحضرتؐ 10 دن طائف میں لوگوں کو بت پرستی سے رک جانے کا کہتے رہے۔ لیکن ایک بندے نے بھی آنحضرتؐ کی بات نہ مانی۔
حتٰی کہ آپ ﷺ واپس چل پڑے یہ لوگ ایسے ظالم تھے کہ جب حضورﷺ واپس جا رہے تھے تو ان میں سے بدتمیز اوباش لوگ حُضور ﷺ کو گالیاں دینے لگے۔ اسی پر بس نہ کی بلکہ حُضور ﷺ کا مذاق اڑانے لگے پھر پتھر مارنے شروع کردیئے۔
وہ کیا المناک منظر ہوگا کہ جب وہ بدقسمت افراد حضور اکرم ﷺ پر پتھر مار رہے تھے اور میرے پیارے نبی مکرم ﷺ کا جسم مبارک لہولہان ہو رہا تھا۔ دنیا کے سب سے عظیم نبی مكرم انہی کے فائدہ کی بات بتانے انہیں میلوں کا سفر کر کے گئے اور ان بداخلاقوں نے مہمان کی عزت کرنا تو دور کی بات ان پر پتھر برسائے۔
تین میل دور ایک باغ نظر آیا تو آپ ﷺ اس میں داخل ہو گئے۔ وہاں پر عداس نامی ایک غلام نے آپ ﷺ کو انگور پیش کیے یہ غلام حضرت یونس علیہ السلام کے علاقے نینوا کا رہنے والا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے بتایا کہ وہ بھی نبی تھے اور میں بھی نبی ہوں۔ وہ بڑا خوش ہوا اور حضورِ پُر نور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور دست مبارک كو چُوما۔
کچھ دیر بعد آپ ﷺ وہاں سے واپس چل پڑے تو راستے میں اللہ پاک کے حکم سے جبرائیل اور پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور کہا کہ اگر آپ حکم دیں تو دو پہاڑوں کے درمیان اس طائف کی بستی کو پیس ڈالا جائے۔
مگر قربان جائیں ہم اپنے پیار کرنے والے پیارے نبی مُکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ انہوں نے بددعا دینے کی بجائے دعا کی کہ
مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہرائے گی۔
سب جانتے ہیں کہ بر صغیر میں اسلام پھیلانے میں جس شخص کا سب سے زیادہ کردار ہے وہ محمد بن قاسم تھے۔ ان کے آبا و اجداد طائف کے تھے۔ اگر آپ ﷺ طائف والوں پر بد دعا کر دیتے اور وہ ہلاک ہو جاتے تو پھر کون محمد بن قاسم پیدا ہوتا اور بر صغیر میں اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالتا۔
اللہ تعالی ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ آمین
جب آنحضرتؐ واپس آرہے تھے تو راستے میں ایک بستی ہے جس کا نام نخلہ ہے۔ وہاں آپ ﷺ کے پاس کچھ جن آئے جنہوں نے آپ ﷺ سے قران مجید سنا اور ایمان لائے۔
نبی پاک ﷺ جب مکہ کے قریب پہنچے تو آپ کو کوئی بھی شخص پناہ دینے کے لیے راضی نہ تھا۔ اتنے میں ایک ادمی جس کا نام مطعم بن عدی تھا اس نے نبی پاک ﷺ کو پناہ دینے کا اعلان کر دیا۔
آپ ﷺ ہمیشہ سے ہی احسان شناس تھے۔ غزوہ بدر میں جب یہی کافر جو آپ کو تکلیف دیتے تھے اور طائف سے واپسی پر مکہ میں داخل نہ ہونے دے رہے تھے، جب یہ قیدی بنا کر محسنِ کائینات ﷺ کے پاس لائے گئے تو آپ ﷺ نے اس وقت فرمایا کہ
اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا پھر مجھ سے ان لوگوں کے بارے میں بات کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو چھوڑ دیتا۔
اللہ تعالی ہمیں بھی حضورِ اکرم ﷺ کی عمدہ صفات، اور مکارمِ اخلاق کا عامل بنادے کہ جب کوئی ہم پر احسان کرے تو موقع آنے پر بھی اس کا اچھا بدلہ دینے والے بن جائیں۔ آمین یا رب العالمین