سورۃ بقرہ آیت نمبر 30؛34 میں انسان کی خلافت ارضی کا ذکر آیا ہے ، اسی موقع پر ملائکہ نے خود کو خلافت ارضی کے لیے پیش کیا تھا ، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمادیا تھا کہ میں اس بات کو زیادہ جان تا ہوں جس کو تم نہیں جانتے ،
پھر جب اللہ نے سب کو معرضِ امتحان میں کھڑا کر دیاتھا تو ملائکہ اشیاء عالم کی حقیقت نہیں بتلا سکے تھے ،اور حضرت آدم علیہ السلام نے سب باتیں فر فر بتا دیں تھیں ،پھر حضرت آدم علیہ السلام کو مسجود ملائکہ بنادیا گیا ، اور مسجود ساجد سے افضل ہوتا ہے ،
پس اس واقعہ سے انسان کی یا کم از کم انبیاء کی ملائکہ پر فضیلت ثابت ہوتی ہے ، علاوہ ازیں (أولئك هم خير البرية) سے بھی انسان کی فضیلت پر استدلال کیا گیا ہے
، اسی طرح سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 70 میں ارشاد ہے ،
(ولقد كرمنا بنى آدم) اس سے بھی انسان کے اشرف المخلوقات ہونے پر استدلال کیا گیا ہے ، اور چونکہ انبیاء تمام انسانوں سے افضل ہیں ، اسلئے وہ تمام فرشتوں سے بھی افضل ہیں ،،،
اس مسئلہ میں تحقیقی بات یہ ہے کہ ،
عام مومنین صالحین جیسے اولیاء اللہ وہ عام فرشتوں سے افضل ہیں ، اور خواص ملائکہ جیسے حضرت جبرئیل ، اور حضرت میکائیل علیہم السلام وغیرھم عام مومنین صالحین سے افضل ہیں ، اور خواص مومنین جیسے انبیاء کرام علیہم السلام وہ خواص ملائکہ سے بھی افضل ہیں ،
اور کفار و فجار فرشتوں سے تو کیا افضل ہوتے وہ تو جانوروں سے بھی اصل مقصد (فلاح و نجاح) میں افضل نہیں بلکہ کفار کالانعام ہیں ،