بزمِ صحافت طلبۂ علاقۂ میوات مظاہر علوم (وقف)سہارن پور کے ماہ نامہ "التبلیغ" کی روداد


(قسطِ ششم) 


سالانہ مقالات کی جانچ 

اور مفتی محمد جابر میواتی 


       دو تین جگہوں سے مایوسی مقدر ٹھہری تھی، جس کی وجہ سے میں نے اپنے آپ کو تنہا محسوس کیا اور میں کافی پریشان ہو گیا کہ آخر جانچ کا مرحلہ بہت اہم ہے، دن صرف تین باقی ہیں، کروں تو آخر کیا ؟ دوپہر کی چھٹی کے بعد اسی کشمکش میں تھا اچانک خیال آیا کہ دارِ جدید مظاہر علوم سہارنپور میں ہمارے میوات کا قیمتی سرمایہ حضرت مولانا مفتی محمد جابر میواتی مظاہری حفظہ اللہ تعالی بھی تو ہیں، کیوں نہ ان سے مضامین کی جانچ کرا لی جائے، مفتی صاحب کا نام ذہن میں آتے ہی یہ خیال شدت پکڑتا چلا گیا اور مجھے تقریباً یقین ہو چلا تھا کہ ان شاءاللہ تعالی مفتی صاحب بہ خوشی قبول فرما لیں گے، چناں چہ میں نے فوراً بذریعۂ فون مفتی محمد جابر میواتی مظاہری سے رابطہ کیا، ملاقات کی درخواست کی، عرض قبول ہوئی، دارِ جدید کے صدر دروازے پر ملاقات ہوئی، میں نے بزم صحافت کا مختصر الفاظ میں تعارف کراتے ہوئے سالانہ مسابقۂ صحافت کے مقالات کی جانچ سے متعلق درخواست کی، جس سے مفتی صاحب بہت خوش ہوئے اور یقیناً خوش دلی سے قبول فرما لیا، مگر مسئلہ یہ تھا کہ پانچ مقالے مفتی ناصر الدین صاحب کو دے رکھے تھے اور اب باقی دس مفتی محمد جابر صاحب کو تو مفتی صاحب نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح تو نمبرات میں تفاوت کا امکان ہے اور یقیناً ہے، کیوں کہ ہر آدمی کا نمبر دینے کا مزاج الگ ہوتا ہے، اس سے پہلے میں یہ خدشہ مفتی ناصرالدین مظاہری کی خدمت میں بھی عرض کر چکا تھا، میں نے ہمت کرتے ہوئے مفتی محمد جابر میواتی صاحب سے عرض کیا کہ جی حضرت! آپ ہی تھوڑی ہمت کر کے مزید احسان فرما دیجیے کہ مفتی ناصر الدین صاحب کے چیک کرنے کے بعد وہ پانچ مضامین بھی آپ ہی کو دے دوں گا اور ان کو بھی آپ ہی جانچ لیجئے گا، اس طرح سارے مضامین آپ کے ذریعے ہی چیک ہو جائیں گے اور نمبرات و پوزیشن کا اعتبار آپ کی جانچ ہی پر ہوگا، اللہ تعالی جزاۓ خیر دے حضرت مفتی صاحب کو کہ مفتی صاحب نے بسیار مشغولیات کے باوجود تمام مقالات کی جانچ کا وعدہ فرما لیا، یہ حضرت مفتی محمد جابر میواتی مظاہری کی ہم طلبہ میوات پر بہت بڑی کرم فرمائی اور واقعی ایک بڑا احسان تھا کہ درمیانی ہفتے میں ڈھیروں مشغولیات کے باوجود ہماری اس درخواست کو قبول فرما لیا۔اللہ تعالی حضرت مفتی صاحب کو اس کے عوض أجرِ جزیل عطا فرمائے آمین۔


     اس کے دو دن بعد یعنی ١٠/ رجب المرجب بہ روز بدھ کی شام کو مفتی ناصرالدین مظاہری صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور مفتی صاحب سے ان پانچ مضامین کو لے کر بعدِ نمازِ عشاء مفتی محمد جابر میواتی مظاہری کی خدمت میں پہنچ گیا، صبح تیسرے گھنٹہ میں مفتی صاحب کا پیغام موصول ہوا کہ "کسی وقت آ کر وہ مضامین لے لینا" میں اس کے بعد جلد ہی حضرت مفتی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور یوں ہمارے سارے مقالے ایک ہی ممتحن کے قلم سے نتیجہ پر آ پہنچے، حضرت مفتی صاحب نے مزید احسان یہ فرمایا کہ ان مقالات کے ساتھ مولانا عبد العظیم بلیاوی دامت برکاتہم العالیہ کی تصنیف لطیف "الملخص فی علوم الحدیث" کے تین نسخے پوزیشن والے حضرات کے لیے عنایت فرمائے اور مزید یہ کہ ہماری حوصلہ افزائی کی خاطر آنے کا وعدہ یوں کہ کر فرمایا کہ میں ان شاءاللہ تعالی ضرور آؤں گا۔ جزاهم اللہ خیراً کثیرًا و احسن الجزاء (جاری) 


 

محتاجِ دعا: عبد اللہ یوسف 

 رجب المرجب ١٤٤٧ھ۔ 

اوائلِ جنوری ٢٠٢٦ء