مسواک کا استعمال مسلسل سنت اور شعارِ عمل ہے، ہر صاحبِ ایمان کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے، البتہ چند مسائل ہیں جن سے واقفیت ناگزیر ہے:
(۱) پیلو کی مسواک افضل ہے، اس کے بعد زیتون کا درخت ہے، انار اور بانس کی مسواک سے فقہاءِ کرام نے منع کیا ہے، نیم کی مسواک میں بھی کوئی حرج نہیں، بلکہ وہ طبی اعتبار سے مفید ہے۔
(۲) اگر مسواک دستیاب نہ ہو سکے تو ضرورتاً انگلی دانت پر رگڑ لینے سے مسواک کا ثواب حاصل ہو جائے گا؛ لیکن مسواک میسر ہونے کی صورت میں مذکورہ چیزوں سے سنت کا ثواب نہیں ملے گا۔
(۳) جس طرح مردوں کے لیے مسواک کرنا مسنون ہے، اسی طرح عورتوں کے لیے بھی مسواک کرنا سنت ہے؛ تاہم اگر کسی عورت کے دانت طبعی نزاکت کی وجہ سے مسواک کے
 متحمل نہ ہوں اور وہ مسواک کی نیت سے کوئی گوند یا مناسب منجن دانت کی صفائی کے لیے استعمال کرے تو اسے ان شاء اللہ مسواک کا ثواب حاصل ہو جائے گا۔
(۴) مسواک ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے برابر موٹی اور ابتدا میں ایک بالشت بھی رکھا مستحب ہے، بعد میں چھوٹی ہو جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۵) روزہ کی حالت میں بھی وضو میں مسواک کرنا سنت ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، مسواک اس سے مانع نہیں ہے۔
(۶) مسواک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مسواک دانتوں پر اس طرح پھیری جائے کہ چھوٹی انگلی سرے پر اور انگوٹھا اوپر کی جانب ہو اور باقی انگلیاں درمیان میں ہوں، پھر منہ کی چوڑائی میں دانتوں پر مسواک پھیری جائے، دائیں جانب سے ابتدا کریں، اور تین مرتبہ پانی میں بھگو کر عمل کریں۔

(۷) مسواک کرنے وقت خصوصیت کے ساتھ کوئی دعا ثابت نہیں ہے؛ البتہ علامہ عینیؒ نے شرح بخاری اور شرح ہدایہ میں لکھا ہے کہ مسواک کرتے وقت یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ فَمِيْ وَنَوِّرْ قَلْبِيْ وَطَهِّرْ بَدَنِيْ وَحَرِّمْ جَسَدِيْ عَلَى النَّارِ وَأَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ (۱)
’’اے اللہ! میرے منہ کو پاک و صاف کر دے، دل کو روشن فرما دے، میرے بدن کو بھی پاک کر دے، جہنم کی آگ اس پر حرام کر دے، اور مجھے محض اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما دے۔‘‘ چونکہ اس دعا کا معنی اچھا ہے، اس میں کوئی خرابی نہیں ہے؛ اس لیے فی نفسہٖ یہ دعا پڑھنے کی گنجائش ہے؛ لیکن یہ ’’سنت‘‘ نہ سمجھی جائے۔

(۱) عمدۃ القاری، باب السواک یوم الجمعۃ: ۱۸/۶۸۱، ہدایۃ السالکین: ۲۰۳/۱۔
سنت نبوی ﷺ اور ہماری زندگی — ۲۳


(۸) لیٹ کر مسواک کرنا مکروہ ہے، اس سے جگر بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔
(۹) مسواک مٹھی باندھ کر کرنا ایک تو سنت کے خلاف ہے، دوسرے (طبی نقطۂ نظر سے) بواسیر ہو جانے کا احتمال ہے۔ (۱)
(۱۰) مسواک کرتے وقت اسے چوس کر لعاب کو حلق کے نیچے نہ اتارناچاہیے؛ اس سے آنکھوں کی روشنی جانے کا خدشہ ہے۔ (۲)

مفتی صادق امین قاسمی  مسواک کا استعمال لگاتار سنت اور شعارِ عمل ہے، ہر صاحبِ ایمان کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے، البتہ چند مسائل ہیں جن سے واقفیت ناگزیر ہے:
(۱) پیلو کی مسواک افضل ہے، اس کے بعد زیتون کا درخت ہے، انار اور بانس کی مسواک سے فقہاءِ کرام نے منع کیا ہے، نیم کی مسواک میں بھی کوئی حرج نہیں، بلکہ وہ طبی اعتبار سے مفید ہے۔
(۲) اگر مسواک دستیاب نہ ہو سکے تو ضرورتاً انگلی دانت پر رگڑ لینے سے مسواک کا ثواب حاصل ہو جائے گا؛ لیکن مسواک میسر ہونے کی صورت میں مذکورہ چیزوں سے سنت کا ثواب نہیں ملے گا۔
(۳) جس طرح مردوں کے لیے مسواک کرنا مسنون ہے، اسی طرح عورتوں کے لیے بھی مسواک کرنا سنت ہے؛ تاہم اگر کسی عورت کے دانت طبعی نزاکت کی وجہ سے مسواک کے
 متحمل نہ ہوں اور وہ مسواک کی نیت سے کوئی گوند یا مناسب منجن دانت کی صفائی کے لیے استعمال کرے تو اسے ان شاء اللہ مسواک کا ثواب حاصل ہو جائے گا۔
(۴) مسواک ہاتھ کی چھوٹی انگلی کے برابر موٹی اور ابتدا میں ایک بالش بھی رکھا مستحب ہے، بعد میں چھوٹی ہو جانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(۵) روزہ کی حالت میں بھی وضو میں مسواک کرنا سنت ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے، مسواک اس سے مانع نہیں ہے۔
(۶) مسواک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مسواک دانتوں پر اس طرح پھیری جائے کہ چھوٹی انگلی سرے پر اور انگوٹھا اوپر کی جانب ہو اور باقی انگلیاں درمیان میں ہوں، پھر منہ کی چوڑائی میں دانتوں پر مسواک پھیری جائے، دائیں جانب سے ابتدا کریں، اور تین مرتبہ پانی میں بھگو کر عمل کریں۔

(۷) مسواک کرنے وقت خصوصیت کے ساتھ کوئی دعا ثابت نہیں ہے؛ البتہ علامہ عینیؒ نے شرح بخاری اور شرح ہدایہ میں لکھا ہے کہ مسواک کرتے وقت یہ دعا پڑھیں:
اَللّٰهُمَّ طَهِّرْ فَمِيْ وَنَوِّرْ قَلْبِيْ وَطَهِّرْ بَدَنِيْ وَحَرِّمْ جَسَدِيْ عَلَى النَّارِ وَأَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ (۱)
’’اے اللہ! میرے منہ کو پاک و صاف کر دے، دل کو روشن فرما دے، میرے بدن کو بھی پاک کر دے، جہنم کی آگ اس پر حرام کر دے، اور مجھے محض اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما دے۔‘‘ چونکہ اس دعا کا معنی اچھا ہے، اس میں کوئی خرابی نہیں ہے؛ اس لیے فی نفسہٖ یہ دعا پڑھنے کی گنجائش ہے؛ لیکن یہ ’’سنت‘‘ نہ سمجھی جائے۔

(۱) عمدۃ القاری، باب السواک یوم الجمعۃ: ۱۸/۶۸۱، ہدایۃ السالکین: ۲۰۳/۱۔
سنت نبوی ﷺ اور ہماری زندگی — ۲۳


(۸) لیٹ کر مسواک کرنا مکروہ ہے، اس سے جگر بڑھ جانے کا اندیشہ ہے۔
(۹) مسواک مٹھی باندھ کر کرنا ایک تو سنت کے خلاف ہے، دوسرے (طبی نقطۂ نظر سے) بواسیر ہو جانے کا احتمال ہے۔ (۱)
(۱۰) مسواک کرتے وقت اسے چوس کر لعاب کو حلق کے نیچے نہ اتارناچاہیے؛ اس سے آنکھوں کی روشنی جانے کا خدشہ ہے۔ (۲)

مفتی صادق امین قاسمی