حالتِ حاضرہ میں ارتداد کو کیسے روکا جائے؟
بقلم ✍️ ابو عبیدہ ابن محمد اسلم الہ آبادی
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف روحانی بلکہ سماجی، معاشی، اور سیاسی میدانوں میں بھی انسانیت کو رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ایمان، اس دین کی بنیاد ہے اور ارتداد (یعنی اسلام چھوڑ دینا) ایک نہایت خطرناک رجحان ہے جو فرد، معاشرہ اور اُمتِ مسلمہ کے لیے تباہ کن نتائج پیدا کرتا ہے۔ حالتِ حاضرہ میں جہاں مادّہ پرستی، سوشل میڈیا کی یلغار، فکری انتشار اور دینی تعلیم سے دوری عام ہے، وہاں ارتداد جیسے فتنہ کا پھیلاؤ بھی ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔
ارتداد کا مفہوم اور اسباب
ارتداد کا لغوی معنی ہے: پیچھے ہٹنا یا لوٹ جانا۔ شرعی اصطلاح میں اس سے مراد ایک مسلمان کا دینِ اسلام کو ترک کرکے کسی اور مذہب یا نظریے کو اختیار کرنا ہے۔ قرآن کریم میں ارتداد کو نہایت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے اور وہ کفر کی حالت میں مر جائے تو ان کے اعمال دنیا و آخرت میں ضائع ہو گئے۔ (البقرہ)
آج ارتداد کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے پیچھے کئی اسباب کارفرما ہیں ـ
دینی تعلیم کی کمی: نئی نسل کو اسلامی عقائد، سیرتِ نبوی ﷺ، اور قرآن و سنت کی تعلیم صحیح طریقے سے نہیں دی جاتی۔ نتیجتاً ان کا ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔
مغربی افکار کی یلغار: سوشل میڈیا، فلمیں، ویب سیریز، اور مغربی فلسفہ مسلمانوں کے ذہنوں کو متاثر کر رہا ہے۔ الحاد، مادیت، سیکولرزم اور لبرلزم کے نظریات نوجوانوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔
علمائے کرام سے دُوری: معاشرے میں دینی قیادت سے بداعتمادی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ کچھ افراد علماء کو دقیانوسی سمجھ کر ان سے فاصلے پر رہتے ہیں، جس سے دینی سوالات کے جوابات غیر مصدقہ ذرائع سے حاصل کیے جاتے ہیں۔
معاشرتی دباؤ اور تعصب: بعض مغربی ممالک میں اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کے سبب نوجوان اپنے دین کو چھپاتے ہیں یا اس سے بیزار ہو جاتے ہیں۔
ارتداد کو روکنے کے عملی اقدامات
حالتِ حاضرہ میں ارتداد کے سدباب کے لیے صرف جذباتی نعروں یا سخت قانونی اقدامات پر اکتفا کرنا کافی نہیں، بلکہ ایک جامع، تدریجی اور فکری حکمتِ عملی اپنانا ہوگی-
دینی تعلیم کا احیاء
بچوں اور نوجوانوں کو اسکول اور کالج کی سطح پر اسلامی عقائد، سیرتِ طیبہ ﷺ، اور قرآن فہمی کی تعلیم دینا لازم ہے۔ صرف رٹّی رٹائی معلومات سے ایمان مضبوط نہیں ہوتا، بلکہ فہم، تدبر اور دلیل کے ساتھ دین سمجھانے کی ضرورت ہے۔
فکری و علمی مکالمہ
آج نوجوان سوال کرتے ہیں اور ان کے سوالات کا مدلّل جواب دینا ضروری ہے۔ علماء، اسکالرز اور دینی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ مناظرے کی بجائے مکالمے کا انداز اپنائیں۔ نوجوانوں کے شکوک و شبہات کو علمی بنیادوں پر دور کیا جائے، چاہے وہ سائنسی سوالات ہوں یا فلسفیانہ اعتراضات۔
سوشل میڈیا کا مثبت استعمال
ارتداد کے زیادہ تر اسباب جدید میڈیا کے ذریعے نوجوانوں تک پہنچ رہے ہیں۔ لہٰذا اسی میڈیا کو دعوتِ دین، عقائد کی اصلاح، اور فکری رہنمائی کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے۔ یوٹیوب، انسٹاگرام، پوڈکاسٹ، اور بلاگز کے ذریعے مؤثر اور پرکشش انداز میں دین کی دعوت دی جائے۔
خاندانی نظام کی اصلاح
گھریلو تربیت بچے کی شخصیت کی پہلی بنیاد ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی تربیت کو صرف دنیاوی کامیابی تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان کے دلوں میں ایمان، رسول اللہ ﷺ کی محبت، اور دینی غیرت پیدا کریں۔ والدین خود دینی شعور حاصل کریں تاکہ بچوں کے لیے عملی نمونہ بن سکیں۔
اسلامی مراکز کا قیام اور فعّال کردار
مساجد اور دینی مراکز کو صرف عبادت گاہ نہ رہنے دیا جائے بلکہ انہیں تربیتی، تعلیمی، اور فکری مراکز بنایا جائے۔ یہاں نوجوانوں کے لیے لیکچرز، سیمینارز، کیمپس، اور سوال و جواب کی نشستیں منعقد کی جائیں۔
بین الاقوامی سازشوں کا شعور
مسلمان نوجوانوں کو یہ شعور دیا جائے کہ اسلام کے خلاف بین الاقوامی سطح پر فکری جنگ جاری ہے۔ ان پر واضح کیا جائے کہ ارتداد کوئی علمی رجحان نہیں بلکہ استعمار کی فکری یلغار کا حصہ ہے جس کا مقصد مسلمانوں کی شناخت، تہذیب، اور عقیدے کو مٹانا ہے۔
قانونی اور اخلاقی نظام کی مضبوطی
اسلامی ریاستیں اگر موجود ہیں تو وہ ارتداد کو محض فکری چیلنج نہ سمجھیں بلکہ اس کا مقابلہ قانونی، عدالتی، اور تعلیمی نظام کے تحت کریں۔ اسلامی فقہ میں ارتداد کی سزا سخت ہے، مگر اس پر عمل سے پہلے دعوت، وضاحت، اور حجت قائم کرنا ضروری ہے۔
نتیجہ
ارتداد ایک فتنہ ہے جو نہ صرف انفرادی ایمان کو تباہ کرتا ہے بلکہ اُمتِ مسلمہ کے اتحاد، تشخص، اور استقامت کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ موجودہ دور میں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ فتنہ صرف تلوار یا قید سے نہیں بلکہ علم، دلیل، محبت، اور تربیت کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کرنی ہے جہاں ایمان محفوظ ہو، سوالات کو دبایا نہ جائے بلکہ سمجھایا جائے، اور نوجوانوں کو اسلام پر فخر محسوس ہو۔
جب تک ہم دینی و فکری میدان میں مضبوط نہیں ہوں گے، ارتداد کا فتنہ بڑھتا رہے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس فتنے کا مقابلہ جہالت سے نہیں بلکہ حکمت، بصیرت، اور محبت سے کریں۔ جیسا کہ قرآن حکیم فرماتا ہے
اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت سے بلاؤ، اور ان سے بہترین طریقے سے بحث کرو۔ (النحل)