بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خالق کائنات نے نبی رحمت صلی علم کی حیات طیبہ کو اسوہ حسنہ اور بہترین نمونہ کے طور پر پیش کیا؟ کیوں کہ آپ صلی ساری انسانیت کے لیے کامل رہنما اور مثالی نمونہ ہیں، علم و عمل کے پیکر اور بہترین انسان ہیں ، آپ نے صرف اپنی نجات دہندہ تعلیمات و ہدایات کے ذریعہ امت کی رہنمائی پر اکتفا نہیں کیا؛ بلکہ اپنی تعلیمات پر خود عمل کر کے لوگوں کو بتایا کہ نجات اور کامیابی کے لئے فقط علم اور معلومات کافی نہیں عمل بھی ضروری ہے؟
چناں چہ امام الانبیاء محبوب کبریا سیم کی زندگی میں مسواک کا اس قدر اہتمام کہ حضرات صحابہ کرام کے بیان کے مطابق صبح ہو کہ شام صحت و سلامتی کی حالت ہو یا مرض اور بیماری کا زمانہ ہر حالت میں مسواک کی پابندی کیا کرتے تھے؛ چناں چہ زوجہ پیغمبر، بنت صدیق اکبر سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا گیا کہ سرور کائنات سالی سلام جب گھر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلا کام کیا کرتے؟ کس کام سے آغاز فرماتے؟) تو فرمایا: کہ ” جب کبھی آپ سلیم گھر میں تشریف لاتے تو سب سے ) پہلا کام مسواک کرتے“
شريح بن هَانِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دخل بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: بِالسَّوَاكِ
دن اور رات میں جب بھی نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک استعمال کرتے ؛ جیسا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول خدا سا لیم جب بھی رات اور دن میں نیند سے بیدار ہوتے تھے تو وضو کرتے وقت پہلے مسواک کرتے تھے، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا يَتَسَوَّلُ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّا
اسی طرح حضرت حذیفہ کا بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلہ ایک رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے:
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ
نیز ایک روایت میں حضور انور صلی یکم فرماتے ہیں کہ: ” میں نے اپنے آپ کو خواب میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا؛ چناں چہ اس دوران دو آدمی میرے پاس آئے ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا، میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دینی چاہی ، تو مجھے کہا گیا:
بڑے کو دو ، تو میں نے بڑے کو دے دی ۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّلُ بِسِوَالٍ فَجَانَّنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لى : كبر فَدَفَعَتِهِ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا (۲)
نبوی زندگی میں مسواک کا اہتمام اس قدر تھا کہ آپ سخت بیماری کے عالم اور مرض الوفات میں بھی اس سے غافل نہ ہوئے ، بخاری شریف کی روایت میں سیدہ عائشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ سلیم کی وفات میرے گھر میں ، میری باری کے دن ہوئی ، آپ اس وقت میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، جب آپ بیمار ہوئے تو ہم ) بار ہوئے تو ہم ( ازواج مطہرات ) آپ کی صحت کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے، اس بیماری میں بھی میں آپ کے لیے دعا کرنے لگی؟ لیکن آپ صلی پ صلی ا یکم فرمارہے تھے ( اور آپ کا سر آسمان کی طرف اٹھا ہوا تھا) في الرفيق الأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى اور اسی دوران حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک تازہ ٹہنی تھی ، آپ صلی سلیم نے اس کی طرف دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ علی ای ایلام مسواک کرنا چاہتے ہیں؛ چناں چہ وہ ٹہنی میں نے ان سے لے لی، پہلے میں نے اسے چبایا، پھر صاف کر کے آپ کو دے دی، آپ صلی کلیم نے اس سے مسواک کیا، جس طرح پہلے آپ مسواک کیا کرتے تھے، اس سے بھی اچھی طرح سے کیا، پھر آپ صلی سلیم نے وہ مسواک مجھے عنایت فرمائی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا ، یا ( راوی نے یہ بیان کیا کہ ) مسواک آپ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے میرے اور آپ صلی یہ علم کے تھوک کو اس دن جمع کر دیا جو آپ کی دنیا کی زندگی کا سب سے آخری دن اور آخرت کی زندگی کا سب سے پہلا دن تھا۔“
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِى وَنَحْرِي، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تُعَوِّذُهُ بِدُعَاءِ إِذَا مَرِضَ ، فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَقَالَ: "فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى " ، وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً فَأَخَذْتُهَا، فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا وَنَفَضْتُهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ مُسْتَنَّا ، ثُمَّ نَا وَلَنِيهَا فَسَقَطَتْ يَدُهُ أَوْ سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ، فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَۃ
مختصر یہ کہ پیغمبر خداسلام نے مسواک کو انبیاء ورسل کی مشترکہ سنت اور دائمی عادت میں شمار فرمایا، اور اپنی پوری حیات طیبہ مسواک کا اہتمام کر کے امت کو عملی دعوت دی ہے کہ ہر امتی پورے ذوق وشوق کے ساتھ مسواک کا صد فیصد اہتمام کریں محض غفلت وسستی کے بنا پر کوتا ہی نہ کریں ، اتباع سنت اور فضائلِ مسواک کے استحضار کی نیت سے مسواک کی عادت ڈالیں ۔
وَفَقَنَا الله
مفتی صادق امین قاسمی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خالق کائنات نے نبی رحمت صلی علم کی حیات طیبہ کو اسوہ حسنہ اور بہترین نمونہ کے طور پر پیش کیا؟ کیونکہ آپ صلی ساری انسانیت کے لیے کامل رہنما اور مثالی نمونہ ہیں، علم و عمل کے پیکر اور بہترین انسان ہیں، آپ نے صرف اپنی نجات دہندہ تعلیمات و ہدایات کے ذریعہ امت کی رہنمائی پر اکتفا نہیں کیا؛ بلکہ اپنی تعلیمات پر خود عمل کر کے لوگوں کو بتایا کہ نجات اور کامیابی کے لئے فقط علم اور معلومات کافی نہیں عمل بھی ضروری ہے؟
چناں چہ امام الانبیاء محبوب کبریا سیم کی زندگی میں مسواک کا اس قدر اہتمام کہ حضرات صحابہ کرام کے بیان کے مطابق صبح ہو کہ شام صحت و سلامتی کی حالت ہو یا مرض اور بیماری کا زمانہ ہر حالت میں مسواک کی پابندی کیا کرتے تھے؛ چناں چہ زوجہ پیغمبر، بنت صدیق اکبر سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا گیا کہ سرور کائنات سالی سلام جب گھر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلا کام کیا کرتے؟ کس کام سے آغاز فرماتے؟) تو فرمایا: کہ ” جب کبھی آپ سلیم گھر میں تشریف لاتے تو سب سے ) پہلا کام مسواک کرتے“
شريح بن هَانِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دخل بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: بِالسَّوَاكِ
دن اور رات میں جب بھی نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک استعمال کرتے ؛ جیسا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول خدا سا لیم جب بھی رات اور دن میں نیند سے بیدار ہوتے تھے تو وضو کرتے وقت پہلے مسواک کرتے تھے، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا يَتَسَوَّلُ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّا
اسی طرح حضرت حذیفہ کا بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلہ ایک رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے:
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ
نیز ایک روایت میں حضور انور صلی یکم فرماتے ہیں کہ: ” میں نے اپنے آپ کو خواب میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا؛ چناں چہ اس دوران دو آدمی میرے پاس آئے ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا، میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دینی چاہی ، تو مجھے کہا گیا:
بڑے کو دو ، تو میں نے بڑے کو دے دی ۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّلُ بِسِوَالٍ فَجَانَّنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لى : كبر فَدَفَعَتِهِ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا (۲)
نبوی زندگی میں مسواک کا اہتمام اس قدر تھا کہ آپ سخت بیماری کے عالم اور مرض الوفات میں بھی اس سے غافل نہ ہوئے ، بخاری شریف کی روایت میں سیدہ عائشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ سلیم کی وفات میرے گھر میں ، میری باری کے دن ہوئی ، آپ اس وقت میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، جب آپ بیمار ہوئے تو ہم ) بار ہوئے تو ہم ( ازواج مطہرات ) آپ کی صحت کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے، اس بیماری میں بھی میں آپ کے لیے دعا کرنے لگی؟ لیکن آپ صلی پ صلی ا یکم فرمارہے تھے ( اور آپ کا سر آسمان کی طرف اٹھا ہوا تھا) في الرفيق الأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى اور اسی دوران حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک تازہ ٹہنی تھی ، آپ صلی سلیم نے اس کی طرف دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ علی ای ایلام مسواک کرنا چاہتے ہیں؛ چناں چہ وہ ٹہنی میں نے ان سے لے لی، پہلے میں نے اسے چبایا، پھر صاف کر کے آپ کو دے دی، آپ صلی کلیم نے اس سے مسواک کیا، جس طرح پہلے آپ مسواک کیا کرتے تھے، اس سے بھی اچھی طرح سے کیا، پھر آپ صلی سلیم نے وہ مسواک مجھے عنایت فرمائی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا ، یا ( راوی نے یہ بیان کیا کہ ) مسواک آپ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے میرے اور آپ صلی یہ علم کے تھوک کو اس دن جمع کر دیا جو آپ کی دنیا کی زندگی کا سب سے آخری دن اور آخرت کی زندگی کا سب سے پہلا دن تھا۔“
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِى وَنَحْرِي، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تُعَوِّذُهُ بِدُعَاءِ إِذَا مَرِضَ ، فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَقَالَ: "فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى " ، وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً فَأَخَذْتُهَا، فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا وَنَفَضْتُهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ مُسْتَنَّا ، ثُمَّ نَا وَلَنِيهَا فَسَقَطَتْ يَدُهُ أَوْ سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ، فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَۃ
مختصر یہ کہ پیغمبر خداسلام نے مسواک کو انبیاء ورسل کی مشترکہ سنت اور دائمی عادت میں شمار فرمایا، اور اپنی پوری حیات طیبہ مسواک کا اہتمام کر کے امت کو عملی دعوت دی ہے کہ ہر امتی پورے ذوق وشوق کے ساتھ مسواک کا صد فیصد اہتمام کریں محض غفلت وسستی کے بنا پر کوتا ہی نہ کریں ، اتباع سنت اور فضائلِ مسواک کے استحضار کی نیت سے مسواک کی عادت ڈالیں ۔
وَفَقَنَا الله
مفتی صادق امین قاسمی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
خالق کائنات نے نبی رحمت صلی علم کی حیات طیبہ کو اسوہ حسنہ اور بہترین نمونہ کے طور پر پیش کیا؟ کیونکہ آپ صلی ساری انسانیت کے لیے کامل رہنما اور مثالی نمونہ ہیں، علم و عمل کے پیکر اور بہترین انسان ہیں، آپ نے صرف اپنی نجات دہندہ تعلیمات و ہدایات کے ذریعہ امت کی رہنمائی پر اکتفا نہیں کیا؛ بلکہ اپنی تعلیمات پر خود عمل کر کے لوگوں کو بتایا کہ نجات اور کامیابی کے لئے فقط علم اور معلومات کافی نہیں عمل بھی ضروری ہے؟
چناں چہ امام الانبیاء محبوب کبریا سیم کی زندگی میں مسواک کا اس قدر اہتمام کہ حضرات صحابہ کرام کے بیان کے مطابق صبح ہو کہ شام صحت و سلامتی کی حالت ہو یا مرض اور بیماری کا زمانہ ہر حالت میں مسواک کی پابندی کیا کرتے تھے؛ چناں چہ زوجہ پیغمبر، بنت صدیق اکبر سیدتنا حضرت عائشہ صدیقہ سے پوچھا گیا کہ سرور کائنات سالی سلام جب گھر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلا کام کیا کرتے؟ کس کام سے آغاز فرماتے؟) تو فرمایا: کہ ” جب کبھی آپ سلیم گھر میں تشریف لاتے تو سب سے ) پہلا کام مسواک کرتے“
شريح بن هَانِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دخل بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: بِالسَّوَاكِ
دن اور رات میں جب بھی نیند سے بیدار ہوتے تو مسواک استعمال کرتے ؛ جیسا کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول خدا سا لیم جب بھی رات اور دن میں نیند سے بیدار ہوتے تھے تو وضو کرتے وقت پہلے مسواک کرتے تھے، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا يَتَسَوَّلُ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّا
اسی طرح حضرت حذیفہ کا بیان ہے کہ جب نبی اکرم صلہ ایک رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو اپنا منہ مسواک سے صاف کرتے تھے:
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ
نیز ایک روایت میں حضور انور صلی یکم فرماتے ہیں کہ: ” میں نے اپنے آپ کو خواب میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا؛ چناں چہ اس دوران دو آدمی میرے پاس آئے ، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا، میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دینی چاہی ، تو مجھے کہا گیا:
بڑے کو دو ، تو میں نے بڑے کو دے دی ۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّلُ بِسِوَالٍ فَجَانَّنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لى : كبر فَدَفَعَتِهِ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا (۲)
نبوی زندگی میں مسواک کا اہتمام اس قدر تھا کہ آپ سخت بیماری کے عالم اور مرض الوفات میں بھی اس سے غافل نہ ہوئے ، بخاری شریف کی روایت میں سیدہ عائشہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ سلیم کی وفات میرے گھر میں ، میری باری کے دن ہوئی ، آپ اس وقت میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، جب آپ بیمار ہوئے تو ہم ) بار ہوئے تو ہم ( ازواج مطہرات ) آپ کی صحت کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے، اس بیماری میں بھی میں آپ کے لیے دعا کرنے لگی؟ لیکن آپ صلی پ صلی ا یکم فرمارہے تھے ( اور آپ کا سر آسمان کی طرف اٹھا ہوا تھا) في الرفيق الأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى اور اسی دوران حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک تازہ ٹہنی تھی ، آپ صلی سلیم نے اس کی طرف دیکھا تو میں سمجھ گئی کہ آپ علی ای ایلام مسواک کرنا چاہتے ہیں؛ چناں چہ وہ ٹہنی میں نے ان سے لے لی، پہلے میں نے اسے چبایا، پھر صاف کر کے آپ کو دے دی، آپ صلی کلیم نے اس سے مسواک کیا، جس طرح پہلے آپ مسواک کیا کرتے تھے، اس سے بھی اچھی طرح سے کیا، پھر آپ صلی سلیم نے وہ مسواک مجھے عنایت فرمائی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا ، یا ( راوی نے یہ بیان کیا کہ ) مسواک آپ کے ہاتھ سے چھوٹ گئی ، اس طرح اللہ تعالیٰ نے میرے اور آپ صلی یہ علم کے تھوک کو اس دن جمع کر دیا جو آپ کی دنیا کی زندگی کا سب سے آخری دن اور آخرت کی زندگی کا سب سے پہلا دن تھا۔“
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِى وَنَحْرِي، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تُعَوِّذُهُ بِدُعَاءِ إِذَا مَرِضَ ، فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَقَالَ: "فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى " ، وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً فَأَخَذْتُهَا، فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا وَنَفَضْتُهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ مُسْتَنَّا ، ثُمَّ نَا وَلَنِيهَا فَسَقَطَتْ يَدُهُ أَوْ سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ، فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَۃ
مختصر یہ کہ پیغمبر خداسلام نے مسواک کو انبیاء ورسل کی مشترکہ سنت اور دائمی عادت میں شمار فرمایا، اور اپنی پوری حیات طیبہ مسواک کا اہتمام کر کے امت کو عملی دعوت دی ہے کہ ہر امتی پورے ذوق وشوق کے ساتھ مسواک کا صد فیصد اہتمام کریں محض غفلت وسستی کے بنا پر کوتا ہی نہ کریں ، اتباع سنت اور فضائلِ مسواک کے استحضار کی نیت سے مسواک کی عادت ڈالیں ۔
وَفَقَنَا الله
مفتی صادق امین قاسمی
बिस्मिल्लाहिर्रहमानिर्रहीम
ख़ालिक़ ए कायनात ने नबी ए रहमत सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम की हयात ए तैयबा को उसवा ए हसना और बेहतरीन नमूने के तौर पर पेश किया? क्योंकि आप सल्ली सारी इंसानियत के लिए कामिल रहनुमा और मिसाली नमूना हैं, इल्म ओ अमल के पैकर और बेहतरीन इंसान हैं, आपने सिर्फ अपनी निजात दहंदा तालीमात ओ हिदायात के ज़रिये उम्मत की रहनुमाई पर इक्तिफ़ा नहीं किया; बल्कि अपनी तालीमात पर खुद अमल कर के लोगों को बताया कि निजात और कामयाबी के लिए फ़क़त इल्म और मालूमात काफ़ी नहीं अमल भी ज़रूरी है?
चुनांचे इमाम उल अंबिया महबूब ए किबरिया सिम की ज़िन्दगी में मिसवाक का इस क़दर एहतिमाम कि हज़रात सहाबा ए किराम के बयान के मुताबिक सुबह हो कि शाम सेहत ओ सलामती की हालत हो या मर्ज़ और बीमारी का ज़माना हर हालत में मिसवाक की पाबंदी किया करते थे; चुनांचे ज़ौजा ए पैग़म्बर, बिन्त ए सिद्दीक़ अकबर सैय्यदतना हज़रत आइशा सिद्दीक़ा से पूछा गया कि सरवर ए कायनात साली सलाम जब घर में तशरीफ़ लाते तो सबसे पहला काम क्या करते? किस काम से आग़ाज़ फरमाते?) तो फरमाया: कि ” जब कभी आप सलीम घर में तशरीफ़ लाते तो सबसे ) पहला काम मिसवाक करते“
شريح بن هَانِ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دخل بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: بِالسَّوَاكِ
दिन और रात में जब भी नींद से बेदार होते तो मिसवाक इस्तेमाल करते ; जैसा कि हज़रत आइशा फरमाती हैं कि रसूल ए खुदा सा लीम जब भी रात और दिन में नींद से बेदार होते थे तो वज़ू करते वक़्त पहले मिसवाक करते थे, عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ إِلَّا يَتَسَوَّلُ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّا
इसी तरह हज़रत हुज़ैफ़ा का बयान है कि जब नबी ए अकरम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम एक रात को तहज्जुद के लिए उठते थे तो अपना मुंह मिसवाक से साफ़ करते थे:
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُّدِ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ
नीज़ एक रिवायत में हुज़ूर ए अनवर सल्ली यकम फरमाते हैं कि: ” मैं ने अपने आप को ख्वाब में मिसवाक करते हुए देखा; चुनांचे इस दौरान दो आदमी मेरे पास आए , उन में से एक दूसरे से बड़ा था, मैं ने उन में से छोटे को मिसवाक देनी चाही , तो मुझे कहा गया:
बड़े को दो , तो मैं ने बड़े को दे दी । عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّلُ بِسِوَالٍ فَجَانَّنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لى : كبر فَدَفَعَتِهِ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا (۲)
नबवी ज़िन्दगी में मिसवाक का एहतिमाम इस क़दर था कि आप सख्त बीमारी के आलम और मर्ज़ उल वफ़ात में भी इस से ग़ाफ़िल न हुए , बुखारी शरीफ़ की रिवायत में सैय्यदा आइशा का बयान है कि रसूल अल्लाह सलीम की वफ़ात मेरे घर में , मेरी बारी के दिन हुई , आप इस वक़्त मेरे सीने से टेक लगाए हुए थे, जब आप बीमार हुए तो हम ) बार हुए तो हम ( अज़वाज ए मुतहरात ) आप की सेहत के लिए दुआएं किया करते थे, इस बीमारी में भी मैं आप के लिए दुआ करने लगी? लेकिन आप सल्ली प सल्ली अ यकम फरमा रहे थे ( और आप का सर आसमान की तरफ़ उठा हुआ था) في الرفيق الأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الأَعْلَى और इसी दौरान हज़रत अब्दुल रहमान बिन अबू बक्र आए तो उन के हाथ में एक ताज़ा टहनी थी , आप सल्ली सलीम ने इस की तरफ़ देखा तो मैं समझ गई कि आप अली एई एलाम मिसवाक करना चाहते हैं; चुनांचे वो टहनी मैं ने उन से ले ली, पहले मैं ने उसे चबाया, फिर साफ़ कर के आप को दे दी, आप सल्ली कलीम ने इस से मिसवाक किया, जिस तरह पहले आप मिसवाक किया करते थे, इस से भी अच्छी तरह से किया, फिर आप सल्ली सलीम ने वो मिसवाक मुझे इनायत फरमाई और आप का हाथ झुक गया , या ( रावी ने ये बयान किया कि ) मिसवाक आप के हाथ से छूट गई , इस तरह अल्लाह ताला ने मेरे और आप सल्ली ये इल्म के थूक को इस दिन जमा कर दिया जो आप की दुनिया की ज़िन्दगी का सबसे आख़िरी दिन और आख़िरत की ज़िन्दगी का सबसे पहला दिन था।“
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي، وَبَيْنَ سَحْرِى وَنَحْرِي، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تُعَوِّذُهُ بِدُعَاءِ إِذَا مَرِضَ ، فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، وَقَالَ: "فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى " ، وَمَرَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَفِي يَدِهِ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ بِهَا حَاجَةً فَأَخَذْتُهَا، فَمَضَغْتُ رَأْسَهَا وَنَفَضْتُهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ بِهَا كَأَحْسَنِ مَا كَانَ مُسْتَنَّا ، ثُمَّ نَا وَلَنِيهَا فَسَقَطَتْ يَدُهُ أَوْ سَقَطَتْ مِنْ يَدِهِ، فَجَمَعَ اللَّهُ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَوَّلِ يَوْمٍ مِنَ الْآخِرَۃ
मुख़्तसर ये कि पैग़म्बर ए खुदा इस्लाम ने मिसवाक को अंबिया व रुसुल की मुश्तरका सुन्नत और दायमी आदत में शुमार फरमाया, और अपनी पूरी हयात ए तैयबा मिसवाक का एहतिमाम कर के उम्मत को अमली दावत दी है कि हर उम्मती पूरे ज़ौक़ ओ शौक़ के साथ मिसवाक का सद फ़ीसद एहतिमाम करें महज़ ग़फ़लत व सुस्ती के बिना पर कोताही न करें , इत्तेबा ए सुन्नत और फ़ज़ाइल ए मिसवाक के इस्तेहज़ार की नियत से मिसवाक की आदत डालें ।
وَفَقَنَا الله
मुफ़्ती सादिक़ अमीन क़ासमी