سورۃ الفاتحہ مکی سورت ہے، اس میں ایک رکوع اور سات آیتیں ہیں، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ،
ترجمہ شروع کر تا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ،بسم اللہ ،،،،،،،،،،، ایک مستقل آیت ہے،

ایک لطیف نکتہ ،،،،،

مفسرقران امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ بسم اللہ کا حرف ب جس سے قرآن کا آغاز ہو رہا ہے اور قرآن کریم کی آخری آیت کی آخری حرف س ہے چونکہ حرف ب اور حرفِ س کے ملانے کے بعد اس کا تکلم ،،بس،، ہوگا، اسلیے ثابت ہوا کہ پوری نوع انسانی کے رشد و ہدایت کے لئے فقط قرآن مجید ہی ،
،کافی و وافی و شافی ہے 

الحمدللہ رب العالمین ،
اصل تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کے پروردگار ہیں ،
حمد کہتے ہیں، اپنے اختیار سے حاصل کیے ہوئے کمالات پر جو تعریف کی جاتی ہے وہ حمد کہلاتی ہے اسلیے کہ سارے اختیارات صرف اللہ عزوجل کو ہے بندے کو جو کمالات حاصل ہیں وہ سب اللہ عزوجل کا ہی عطاء کردہ ہے ، لفظ، اللہ،،، اللہ کا ذاتی نام ہے 
 اس کا مطلب ہے ذات واجب الوجود ، وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا ،لفظ رب کا معنی ہے پروردگار اور پالنہار ،العالمین یہ عالم کی جمع سالم ہے جس کا مفہوم ہے کیی عالم کا مجموعہ مثلاً عالم ملایکہ ،عالم انسان ،وغیرہ وغیرہ
 
الر حمٰن الرحیم بڑا مہربان نہایت رحم والا ،رحمن و رحیم اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں رحمن صفت مشبہ کا صیغہ ہے مبالغہ کیلئے جس کا مطلب بہت زیادہ شفقت و مہربانی کرنیوالا اور رحیم بھی صفت مشبہ کا صیغہ ہےمبالغہ کیلئے ہے جس کا مطلب ہے نہایت ہی شفقت و مہربانی کرنیوالا ، ،،،،
رحمن اور رحیم میں بنیادی تین فرق ہے ،ایک، رحمن کے الفاظ زیادہ ہے بالمقابل رحیم کے اور قاعدہ ہے جس کے الفاظ زیادہ ہوں اس کے معانی بھی زیادہ ہوں گے اسلیئے رحمن ورحیم کا مفہوم یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ رحمن الدنیا اور رحیم الآخرۃ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے صفت رحمت (رحمن )سے ساری مخلوق فایدہ اٹھا رہی ہے بالخصوص بنی آدم خواہ مومن ہو یا کافر اور صفت رحیم یعنی رحیم الآخرۃ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزوجل آخرت میں فقط مومن پر ہی رحم و مہربانی کا فیصلہ فرما یگا اور کافر پر قطعانظر کرم نہیں فرمائیگا،
دوسرانکتہ، رحمن باعتبار لفظ خاص اور باعتبار معنی عام ہے اور رحیم باعتبار لفظ عام اور باعتبار معنی خاص ہے اسلیے کسی بندے کا نام عبد الرحیم ہو تو اسے صرف رحیم کرکے پکار سکتے ہیں لیکن اگر عبد الرحمن نام ہو تو اسے صرف رحمن کہہ کر پکارنا جائز نہیں ہوگا،
نکتہ وفرق یہ ہے رحمن اسے کہتے ہیں ،،،جو بن مانگے عطاء کرے ،،،اور رحیم وہ ہے ،،،جو اس سے نامانگے تو وہ ناراض ہو جائے مثلاً انسان جو اپنے وجود کا سوال اللہ سے نہیں کیا پھر بھی اللہ نے اسے دنیا میں بھیجدیا ،،،

ملک یوم الدین ،روزجزا کا مالک ہے ،
ویسے تو ساری کائنات کا مالک اللہ ہی ہے لیکن عارضی و ظاہری طور پر عالم دنیا کا مالک انسان ہے لیکن حقیقتاً اللہ ہی کی ملکیت ہے مگر آخرت میں حقیقتاً ظاہراً و باطناً مالک تو اللہ ہی ہونگے، آیت مبارکہ کایہ ٹکڑا دلالت کرتا ہے ،لمن الملک الیوم ،لللہ الواحد القھار ،دوسری آیت وللہ میراث السموات والارض