حضرت ابو عبداللہ (سعید ابن یزید)ساجی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض صوفیوں نے کہا کہ ٫٫ اگر اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ کوئی ثواب ہوتا جس کی امید کی جائے اور نہ کوئی عذاب جس سے ڈرا جاۓ، تب بھی وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی سے بچا جا ۓ، اسے یاد کیا جائے بھلا یا نہ جائے ، یہ نہ تو ثواب کی خواہش میں ہو اور نہ ہی عذاب کے ڈر سے ہو ،بلکہ صرف اللہ  کی محبت کی وجہ سے ہو ،یہ( عبادت کی کیفیت) سب سے اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے ، کیا تم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول نہیں سنا کہ (وعجلت الیک رب لترضی)(طہ 84)اے میرے رب! میں تیرے پاس جلدی آگیا ؛ تاکہ تو راضی ہو جا پس (عبادت کے اس درجہ میں) ثواب و عذاب دونوں شامل ہوگئے (بلکہ ان دونوں سے بڑھ کر ہوگئے کیونکہ کہ جو اللہ کی عبادت اس کی محبت کی وجہ سے ہو وہ افضل ہےجواس کی عبادت خوف کی بنیاد پر ہو اور دنیا کا بھی معاملہ ایسا ہے جو محبت کی بناء پر اطاعت کرتاہے ، اس کے برابر کہاں ہوسکتا ہے جو خوف کی وجہ سے اطاعت کرتا ہو 
(ندائے شاہی ،جنوری 2026٫صفح43،ازقلم مولانا سلمان منصورپوری)