بسم الله الرحمن الرحیم

اسلام سچا دین اور پاکیزہ مذہب ہے، جس نے اپنی پاکیزہ اور روشن تعلیمات و ہدایات کے ذریعہ بنی نوع آدم کو طہارت و نظافت اور پاکیزگی وستھرائی کا درس دیتے ہوئے اس کا پابند بنایا، اور پاکیزگی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہیں تو اُسے نصف ایمان قرار دیا تو کہیں نماز جیسی مہتم بالشان عبادت ) کے لئے کنجی اور چابی کی حیثیت بخشی ، صرف یہی نہیں؛ بلکہ حصولِ طہارت حب الہی کا موجب اور مغفرت و بخشش کا باعث بھی ہے؛ چناں چہ من جملہ اسباب طہارت کے ایک چیز مسواک بھی ہے ، لیکن مسواک ہے کیا؟ مسواک: رب کی رضا، ہر مرض سے شفا ، سنت انبیاء، تقاضئہ فطرت ، منہ کی صفائی ، از دیا راجر کا باعث اور قرب ملائک کا موجب ہے؛ علاوہ ازیں مسواک میں جسمانی اور طبی اعتبار سے جہاں بے شمار فائدے شامل ہیں تو وہیں روحانی پاکیزگی و نورانیت اور اخروی اجر و ثواب بھی مضمر ہے، اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرکار دو جہاں علی سلیم نے ارشاد فرمایا: مسواک منہ کی پاکی وصفائی اور رب کی رضا و خوشنودی کا ذریعہ ہے: "اَلسّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ وَمَرْضَاةٌ لِلرَّبِ،،

مسواک کرنا بالاتفاق مسنون عمل ہے، ( قطع نظر اس سے کہ وہ سنن وضو میں سے ہے کہ سنن نماز میں سے ) البتہ مسواک کی فضیلت اور خوبی میں اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوگی کہ یہ سید الانبیاء حضرت محمد صلای ایام کا محبوب عمل ہونے کے ساتھ ساتھ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی معمول بہا سنت بھی ہے، نیز محسن انسانیت علی ایم نے متعدد احادیث مبارکہ میں مسواک کی اہمیت و ضرورت، فضائل و فوائد، اور اس پر مرتب ہونے والے اجر و ثواب سے امت کو آگاہ کیا، اور یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ وضو کے سنن و آداب میں سے کسی اور عمل پر اتنی تاکید نہیں فرمائی گئی جتنی کہ مسواک کے تعلق سے، تقریباً چالیس احادیث مبارکہ مروی ہیں؛ چناں چہ سطور ذیل میں مسواک کی فضیلت کے تعلق سے سرور کونین سی کے چند ارشادات و فرمودات سپر دقر طاس کیے جاتے ہیں؛ تاکہ اندازہ ہو کہ عند اللہ اس کی مقبولیت و محبوبیت کا کیا مقام ہے؟

چناں چہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم علی ایم نے ارشاد فرمایا: ” مسواک کرنا منہ کی صفائی کا سبب اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا باعث ہے“ 

دوسری ایک روایت میں فرمایا: ”حضرت جبرائیل علیہ السلام جب بھی میرے پاس آتے تو مجھے مسواک کرنے کا حکم دیتے؟ یہاں تک کہ مجھے ڈر ہونے لگا کہ کہیں میں مسواک کی زیادتی کی وجہ سے اپنے منہ کے اگلے حصہ کو چھیل نہ ڈالوں ”مَا جَانَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَطُّ إِلَّا أَمَرَنِي بِالسِّوَاكِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أُحْفِيَ مُقَدِّمَ فِي ،،

سید الملائکہ حضرت جبرائیل امین کے اس قدر کثرت سے حکم دینے اور بار بار تاکید کرنے سے نبی اکرم صلی سلیم کو اس کی فرضیت کا احتمال ہو. ہونے لگا تھا، اور ان خیالات کا اظہار آپ نے متعدد دفعہ اس طرح فرمایا کہ ارشاد گرامی ہے کہ: ”اگر مجھے اپنی امت پر گرانی اور مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَا مَرُتُهُمُ بِالسِّوَاكِ عِندَ كُلِّ صَلَاةٍ ،،
 لیکن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم امت کے حق میں انتہائی رفیق شفیق اور رحیم و کریم ہیں؛ اس لیے آپ نے مسواک کو ضروری اور فرض ہونے کا درجہ نہیں دیا؛ ورنہ مسلمان تنگی اور مشقت میں پڑ جاتے، تغافل اور تکاسل کی وجہ سے عمل میں کوتاہی ہو جاتی اور امت گناہ گار ہو جاتی ؛ اس لیے اس کو بجائے فرض کے مسنون و مستحب قرار دیا۔

ایک روایت میں نبی مکرم علی سلیم کا فرمان عالی ہے: کہ میں نے تم سے مسواک کے

متعلق بہت کچھ بیان کر دیا ۔ لَقَدْ أَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِي السِّوَاكَ ،،

نیز مسواک کی برکت سے نماز کے درجات و مراتب کئی گنا بڑھ جاتے ہیں؛ چناں چہ اماں جان حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے ارشاد فرمایا: ” جو نماز مسواک کر کے پڑھی گئی وہ بغیر مسواک والی نماز سے ستر گنا ( ثواب میں ) بڑھ جاتی ہے۔“

تَفْضُلُ الصَّلَاةُ الَّتِي يُسْتَاكُ لَهَا عَلَى الصَّلَاةِ الَّتِي لَا يُسْتَاكُ لَهَا سَبْعِينَ ضعفا،،

الغرض مذکورہ بالا تمام روایات مسواک کی اہمیت و عظمت اور عند اللہ اس کی قدرومنزلت کی کھلی شہادت اور بین دلیل ہیں۔

مفتی صادق امین قاسمی