غزہ کی سرزمین آج بھی لہو میں نہا رہی ہے۔ وہ گلیاں جہاں کبھی اذانوں کی صدائیں گونجتی تھیں، آج ملبے اور بارود کی بو سے بھری ہیں۔ ایک طرف ننھے معصوم بچے جن کی آنکھوں میں خواب تھے، وہ خواب آج دھوئیں میں دفن ہو گئے۔ دوسری طرف مائیں ہیں جو ایک ہاتھ سے بچے کو دودھ پلا رہی ہیں اور دوسرے ہاتھ سے شہید بیٹے کے کفن کو تھامے کھڑی ہیں۔

لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ مناظر صرف غزہ کے نہیں، یہ امت کے آئینے ہیں۔ یہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ دشمن تو اپنا کام کر رہا ہے، لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں؟


ہم روز ان خبروں کو دیکھتے ہیں، آنکھوں سے دو قطرے آنسو بہاتے ہیں، ایک افسوس بھرا جملہ کہتے ہیں، اور پھر اپنی مصروف زندگی میں کھو جاتے ہیں۔ گویا ہم نے غزہ کو صرف "ہیڈ لائن" بنا دیا ہے۔ لیکن کیا ہمیں خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ خاموشی بھی جرم ہے؟

قرآن نے ہمیں واضح حکم دیا:


وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ (الأنفال: 72)

"اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد کرنا فرض ہے۔"


آج غزہ کے بچے مدد مانگ رہے ہیں، غزہ کی عورتیں پکار رہی ہیں، لیکن ہم… ہم صرف ناظرین ہیں۔

دشمن کے بم ہمارے جسموں کو زخمی کر سکتے ہیں، مگر اصل زخم ہماری روح پر ہے — وہ روح جو مر چکی ہے۔ ہم نے دنیا کو اپنا سب کچھ بنا لیا، اور امت کے درد کو پسِ پشت ڈال دیا۔ غزہ کا سانحہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ اصل مسئلہ وہاں کی تباہی نہیں بلکہ یہاں کی غفلت ہے۔


اگر آج ہم نے اپنے حال پر غور نہ کیا تو یاد رکھیں! وہی وقت ہماری نسلوں پر بھی آ سکتا ہے، اور شاید کل ہماری بیٹیاں بھی ملبے تلے پکار رہی ہوں اور دنیا خاموش کھڑی ہو۔

ہم ہتھیار نہیں اٹھا سکتے، مگر دعا کا ہتھیار تو ہمارے پاس ہے۔ ہم میدانِ جنگ میں نہیں جا سکتے، مگر قلم، زبان اور کردار کے ذریعے حق کا ساتھ تو دے سکتے ہیں۔ ہم سیاست کے ایوانوں میں نہیں بیٹھے، مگر اللہ کے دربار میں جھک کر دعا کر سکتے ہیں، اور یہ سب سے بڑی طاقت ہے۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:


"المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضاً"

"مومن مومن کے لیے دیوار کی مانند ہے، ایک دوسرے کو سہارا دیتا ہے۔" (بخاری و مسلم)


اگر آج ہم سہارا نہ بنے تو پھر ہم ایمان کے کس درجے پر ہیں؟


غزہ کے بچے ہم سے یہ نہیں کہہ رہے کہ ہمارے لیے لڑو… بلکہ وہ کہہ رہے ہیں:


"ہم نے اپنے خون سے امت کا قرض ادا کیا، اب تم اپنی غفلت چھوڑ کر زندہ ہو جاؤ۔"

یہ پیغام ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے: اگر ہم آج بھی خاموش رہے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، اور کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے ہمارا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔


✍️ تحریر: عالیہ امّ اعراف

رامپور (یو-پی)