*داڑھی کاٹنے کی نحوست*
اس پہلو کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہونا چاہیے۔ داڑھی کا رکھنا چوبیس گھنٹے کی نیکی ہے، اور داڑھی کا مونڈنا چوبیس گھنٹے کا گناہ۔
غور کیجیے، داڑھی مونڈنے میں وقت بھی لگتا ہے، مگر رکھنے میں کوئی وقت صرف نہیں ہوتا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ *پوری امت کا کتنا مال صرف داڑھی مونڈنے پر خرچ ہو رہا ہے!* ایک ایک آدمی داڑھی مونڈنے پر جو روپیہ خرچ کرتا ہے، اگر وہی رقم دین کے کاموں میں لگ جائے تو نہ جانے کتنے مکتب قائم ہو جائیں، کتنے مدارس آباد ہو جائیں، کتنی مساجد تعمیر ہو جائیں، کتنی بیواؤں اور یتیموں کی کفالت ہو جائے اور دین کے کتنے ضروری کام انجام پا جائیں۔
اس پر ہمیں دعا بھی کرنی چاہیے۔
حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے:
"جب میں کسی داڑھی مونڈنے والے کے جنازے کو دیکھتا ہوں تو مجھے خوف آتا ہے کہ یہ قبر میں حضرت رسول اللہ ﷺ کو کیسے پہچان پائے گا؟"
*اے عزیزو!* داڑھی محض ایک ظاہری شعار نہیں بلکہ سنتِ رسول ﷺ اور ایمان کی پہچان ہے۔ جو شخص محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ آپ ﷺ کی سنتوں کو اپنی زندگی میں جگہ دے۔
*یاد رکھیے!* ظاہری اصلاح کے بغیر باطنی اصلاح مکمل نہیں ہوتی۔ آج اگر ہم نے سنت کو تھام لیا تو کل یہی سنت ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بنے گی۔
اے اللہ! ہمارے دلوں میں اپنے نبی کریم ﷺ کی سچی محبت پیدا فرما، ہمیں سنتِ نبوی ﷺ پر چلنے کی توفیق عطا فرما، ظاہر و باطن کی اصلاح فرما، اور ہمیں اپنی رضا والے اعمال اختیار کرنے والا بنا۔ اے اللہ! ہماری کوتاہیوں کو معاف فرما اور ہمیں دین پر ثابت قدم رکھ۔
آمین یا رب العالمین 🤲