نوجوان نسل کی اسلامی تربیت: وقت کی سب سے بڑی ضرورت


✍️ قاری محبوب الحسن مظفرنگری


نوجوان کسی بھی قوم کا اصل سرمایہ اور مستقبل کا ضامن ہوتے ہیں۔ اگر یہ نسل صحیح راستے پر گامزن ہو جائے تو قوم کے دن بدل جاتے ہیں اور اگر یہ گمراہی میں مبتلا ہو جائے تو پوری امت بحران میں گرفتار ہو جاتی ہے۔ آج کے دور میں جہاں سائنس و ٹیکنالوجی نے ترقی کی ہے، وہیں مغربی تہذیب نے ہمارے نوجوانوں کے ذہنوں اور دلوں پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ایسے وقت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اسلام کے بنیادی عقائد، عبادات اور اخلاقیات کی صحیح تعلیم دیں اور ان کے ذہنوں میں اسلام کی حقانیت کو مضبوط دلائل کے ساتھ بٹھائیں۔

اسلام کا پہلا اور سب سے اہم ستون توحید ہے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ کائنات کا مالک صرف اللہ ہے، اسی کی عبادت کرنی ہے، اسی پر بھروسہ کرنا ہے اور اسی کے آگے جھکنا ہے۔ اسی کے ساتھ رسالتِ محمدی ﷺ پر ایمان اور آخرت کے دن کی تیاری ایمان کی بنیاد ہے۔ اگر یہ عقائد پختہ ہوں تو کوئی طاقت ان کے دل کو متزلزل نہیں کر سکتی۔

نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج نوجوانوں کو روحانی طاقت اور عملی نظم و ضبط فراہم کرتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ آج کا نوجوان اکثر نماز سے غافل اور دینی فرائض سے دور ہے۔ والدین اور اساتذہ پر لازم ہے کہ وہ بچوں کو بچپن سے عبادات کی عادت ڈالیں، تاکہ ان کی زندگی اللہ کی یاد سے روشن ہو جائے۔

اسلام صرف عقائد اور عبادات تک محدود نہیں بلکہ اچھے اخلاق اور کردار کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو"۔ نوجوانوں کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ والدین کے فرمانبردار ہوں، بڑوں کا ادب کریں، چھوٹوں پر شفقت کریں، سچ بولیں، جھوٹ اور دھوکہ سے بچیں، اور حلال و حرام کی تمیز رکھیں۔

آج مغربی ثقافت نے فیشن، فلموں، ڈراموں، موبائل اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی ہے۔ یہ چیزیں بظاہر دلکش لگتی ہیں لیکن حقیقت میں ایمان، غیرت اور عزتِ نفس کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو بتایا جائے کہ اسلام کی سادگی ہی اصل حسن ہے اور مغربی تہذیب کی اندھی تقلید انہیں اپنی دینی جڑوں سے کاٹ دیتی ہے۔

اسلام محض ایک مذہب نہیں بلکہ زندگی کا مکمل نظام ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں نوجوانوں کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ اسلام عقل و فطرت کے عین مطابق ہے۔ سائنس اور عقل کی ہر ترقی دراصل اللہ کی قدرت کی نشانی ہے، اور اسلام کی تعلیمات آج بھی انسانیت کی فلاح کی ضمانت دیتی ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، علما، اساتذہ اور دانشور سب مل کر نوجوانوں کی فکری اور عملی تربیت کریں۔ انہیں عقائد کی پختگی، عبادات کی پابندی اور اخلاقی بلندی کی طرف لے جائیں۔ ساتھ ہی مغربی تہذیب کے نقصانات سے آگاہ کریں اور اسلام کی حقانیت کو مضبوط دلائل کے ساتھ ان کے دل و دماغ میں بٹھائیں۔ اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو بچا لیا تو ہمارا مستقبل روشن ہوگا، ورنہ اندھیروں کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔

قاری محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری استاذ مدرسہ بیت العلوم گوکل پور کمال پور گڑھ روڈ میرٹھ یوپی

رابطہ نمبر

8267863057