قارئین کرام: انسان اپنی تمام ضروریات خود بخود پوری نہیں کر سکتا ہے؛ بلکہ اپنی ضروریات اپنا مدعی دوسروں تک پہنچانے کے لیے اسباب کی ضرورت پڑتی ہے؛ اس کو "ذرائع ابلاغ"کہتے ہیں؛قدرت نے اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے دو قدرتی ذرائع عطا کیے؛ ایک "زبان" دوسرا "قلم" زبان تخاطب سے قریب کے لوگوں تک بات پہنچائی جا سکتی ہے جبکہ قلم و تحریر کے ذریعے دور دراز تک اپنا پیغام پہنچایا جا سکتا ہے ؛ انبیاء کرام نے بھی اس ذرائع کو استعمال کیا؛ جیسا کہ قران کریم میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا تذکرہ ہے کہ انہوں نے زبانی دعوت کے ساتھ تحریری دعوت ملکہ "سبا بلقیس" کو دیا اور "نامہ بر" کا کام ایک پرندے نے انجام دیا تھا؛ اسی "ذرائع ابلاغ" کو موجودہ وقت میں سوشل میڈیا سے تعبیر کیا جاتا ہے؛ کائنات میں ترقی شباب پر ہے؛ ہر صبح اپنے جلو میں ترقی کا ایک نیا پیغام لیکر آتی ہے؛ اور ہر شب کسی نئی حقیقت سے پردہ اٹھانے کا مُژدہ سناتی ہے؛ ترقی کا یہ سفر ذرائع ابلاغ بھی پوری قوت سے جاری ہے؛بلکہ اس میدان میں ٹیکنالوجی کی ترقی زیادہ تیز ہے؛قدیم زمانے میں ریڈیو ٹیپ ریکارڈر بڑی چیز تھی؛ فون اور ٹیلی فون کو حیرت و استعجاب کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا؛ لیکن آج اگر کوئی ان ایجادات کو حسرت سے دیکھے تو بچے بھی اس پر ہنسیں گے؛بد قسمتی سے انٹرنیٹ کی تیز رفتاری کے باعث ہمارے نوجوان نسل اور بچوں کے ذہنوں پر مسلسل کاری ضرب لگائی جارہی ہے ، ان کے مذہبی جذبات کو سرد کیا جارہا ہے، فحاشی، عربانی اور بے حیائی کو ان کے اندر فروغ دیا جا رہا ہے ، اخلاقی بگاڑ، ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج کرنے کی بھرپور کوشش جاری ہے ،انہیں ان کے اپنوں سے دور کیا جا رہا ہے؛ ایسے وقت میں اس کی ضرورت سے کسی کو انکار نہیں ہے؛ ہم نوجوان نسل پر لازم ہے کہ ہم اس کے مفید و مثبت پہلو کو اپنائیں؛ اور منفی پہلو سے اجتناب کریں ؛ مثلاً غلط پوسٹ کے بجائے اس کو دین کی تعلیم و اشاعت اور اخلاقی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے؛ اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں ہیں ان کو ردکیا جائے؛ لوگ جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں؛ ہم اس کے ذریعے سچ ثابت کریں؛ ظالم کے ظلم کو آشکار کریں؛ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر گہری نظر رکھے ؛ کہ بچے اس میں کیا دیکھ رہے ہیں ؛ اگر ایسا ہوا تو ہم اس کا بہتر فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؛نہیں تو نقصان کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں لگے گا؛ اللہ عمل کی توفیق دے


محمد ساحل جمال صدیقی کیسریا بہار