وہ ایک گناہ جو آپ کی تمام عبادتوں کو کھا جاتا ہے!

تحریر:

ہم سب نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہماری جنت پکی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک ایسی بیماری بھی ہے جو خاموشی سے آپ کے نامۂ اعمال میں لگی نیکیوں کے ڈھیر کو ایسے جلا کر راکھ کر دیتی ہے جیسے آگ خشک لکڑی کو؟

وہ گناہ ہے "تکبر اور حقوق العباد کی پامالی"۔

ایک صحابیؓ نے پوچھا: "یا رسول اللہ ﷺ! فلاں عورت دن بھر روزہ رکھتی ہے اور رات بھر نفل پڑھتی ہے، مگر وہ اپنی زبان سے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی ہے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ جہنمی ہے۔" سوچیے! ماتھے پر سجدوں کے نشان ہوں مگر دل میں کسی کے لیے کینہ ہو، زبان پر تسبیح ہو مگر ہاتھ سے کسی کی عزت محفوظ نہ ہو، تو وہ سجدے رب کے ہاں منہ پر مار دیے جاتے ہیں۔ ہم خدا کو تو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر خدا کے بندوں کا دل توڑ کر سمجھتے ہیں کہ ہم بہت بڑے پارسا بن گئے ہیں۔

سبق:

اپنی نیکیوں پر ناز کرنا چھوڑ دیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آپ کی زندگی بھر کی نمازوں سے زیادہ رب کو کسی بے بس انسان کے چہرے پر لائی ہوئی آپ کی ایک مسکراہٹ پسند آ جائے۔

اشعار:

غرورِ بندگی نے کر دیا رسوا ہمیں "مسعود"

ورنہ سجدہ تو وہ تھا جو مٹی میں ملا دیتا

دل نہ دکھا کسی کا کہ یہ رب کا مقام ہے

کعبہ گرانے سے بھی بڑا گناہ یہ کام ہے

قارئین کے لیے ایک چیلنج (Engagement):

"دوستو! آج کی یہ تحریر آپ کے ضمیر کے نام ایک دستک ہے۔"

کمنٹ (Comment): کیا آپ نے کبھی کسی کا دل دکھانے کے بعد اس سے معافی مانگی ہے؟ 'ہاں' یا 'نہیں' میں جواب دیں، یا 'استغفراللہ' لکھیں۔

لائک (Like): اگر آپ اس بات سے متفق ہیں کہ انسانیت کا احترام ہی اصل دین ہے۔

فالو (Follow): اگر آپ اپنے ایمان کو تازہ رکھنے والی ایسی ہی کڑوی سچی تحریریں روزانہ پڑھنا چاہتے ہیں، تو ابھی مجھے فالو کریں۔

تحریر: محمد مسعود رحمانی ارریاوی (صدائے قلم)