Translation unavailable. Showing original.
اے آئی اور چیٹ جی پیٹی،تخلیقی صلاحیتوں کے لئے زہر ہلاہل
24 دسمبر، 2025
خدائی قدرت کی عظیم تر نشانی انسانی دماغ ہے جو خیالات کا محور اور وقائع کی حفاظت گاہ ہے
ہزارہا واقعات، لاکھوں علمی نکات اس چھوٹی سی جگہ میں سماجاتے ہیں، دماغ کا خاصہ ہے، حافظے کی خصوصیت ہے، جس قدر تھکے گا، کام میں لگےگا، استعمال میں آئے گا اسی قدر قوی ہوگا، اپنے جوہر دکھائےگا، اگر اسے علی حالہ چھوڑ دیاجائے، استعمال نہ کیا جائے تو کند ذہنی مقدر ہے!
علماء عظام کی سوانح عمری بتاتی ہے کہ مسلسل مطالعہ حافظے کو مضبوط سے مضبوط تر بناجاتاہے!
آج نئی ٹکنالوجی کی سہولت پسندی بلاواسطہ تخلیقی صلاحیتوں پر شبخوں مار رہی ہے، قلم و حرف نا آشنا افراد بھی ادیب بنے بیٹھے ہیں، تحقیقی ذوق ماند پڑ رہا ہے، شرعی مسائل اور فتاوی میں صحت و سقم کا امتیاز ناپید ہے، ادنی فکر و خیال بھی مصنوعی ذہانت کی نذر ہورہا ہے، کچھ سونچنا ہو یا لکھنا ہو، اوراق میں چھپے علم کے موتی تلاش کرنا ہو، کیا ضرورت ہے کہ زحمت اٹھائی جائے؟ اے آئی موجود ہے، ،چند سیکینڈ میں سارا مواد خدمت عالیہ میں موجود ہوتا ہے، اگر اس تحقیق کےلئے تگ و دو کی جاتی، اوراق چھانے جاتے، ورق گردانی کی جاتی، کتب خانوں کا چکر لگایا جاتا تو درست مواد کے ساتھ ہزارہا تجربے ہاتھ لگتے!
افسوس ہے، حیرت ہے کہ ایک صاحب تحقیق، اصول کرخی کی عبارت چیٹ جی پی ٹی پر تلاش کرتے ہیں، اسی پر اعتماد کرتے ہیں اور جب تلاش کرنے کےلئے نکلتے ہیں تو پوری کتاب میں عبارت کہیں دستیاب نہیں ہوتی، ایک بڑا طبقہ ہے جو اپنا ہر مضمون اسی کی زکوۃ و خیرات اور بھیک سے لکھا کرتا ہے، ہر حرف اسی کا منت کش ہے، جب بھی تقریر بنانی ہو، مضمون لکھنا ہو، یا چھوٹی سی اعلانیہ تحریر لکھنی ہو، وہ کشکول بہ دست چیٹ جی پی ٹی کی خدمت میں موجود ہوتا ہے، وہ خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم علمی ادبی تحریر لکھ رہے ہیں، لوگ تعریف کررہے ہیں، لیکن اہل ذوق دو سطر پڑھ کر اُکتا جاتے ہیں، اسلوب خشک سے خشک تر ہوتا ہے، سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب تک تحریر میں خون جگر شامل نہیں ہوگا، قاری پر خاطر خواہ اثر نہیں ہوسکتا!
اقبال کی زبانی یہ حقیقت بارہا سنی گئی ہے کہ
*دل سے جوبات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے*
*پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی یے*
مگر اے آئی کی بناوٹی تحریر بے اثر، بے اعتبار اور لا حاصل یے، صرف ذہنی عیاشی اور وقتی خوش فہمی کے سوا اور کچھ بھی نہیں!
مولانا ابولکلام آزاد کا اسلوب بلا کا سحر انگیز تھا کیوں؟ ہر لفظ دل کی گہرائی سے نکلتا ہے، ابن الحسن عباسی قدس سرہ نے واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک انگریزی مضمون کا ترجمہ کرتے کرتے آنکھ سے اشک جاری ہوئے، اس قدر آنسو بہتے کہ ترجمہ شدہ ورق بھیگ جاتا، تحریر مٹ جاتی، دوبارہ ترجمہ کرتے لیکن خود پر قابو رکھنا مشکل ہوجاتا، بڑی مشکل سے انہوں نے ترجمہ مکمل کیا پھر رسالے میں شائع کیا، اور ہم ہیں کہ مائک میں چند لفظ کہہ کر آڈر دیتے ہیں اور چند سکینڈ میں تحریر نمودار ہوجاتی ہے، ادنی کوشش سے بھی گریزاں ہیں، اثر انگیزی کہاں سے آئے گی؟
جب تک خون جگر نہ ہو، جہد مسلسل نہ ہو، فن و ہنر پر دسترس صرف خیال ہے، لاحاصل خواب ہے!
اس پر بھی اقبالی فکر مشہور ہے!
*رنگ ہو یا خِشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت*
*معجزۂ فن کی ہے خُونِ جگر سے نمود*
ایک شاگرد سالہا سال استاد کی صحبت اٹھاتا ہے، مشینی ہنر سیکھنے والا دھکے کھاتا ہے، گالیاں سنتا ہے، روز و شب محنتیں کرتا ہے، ایک محقق ایک لفظ کی تحقیق کےلئے ہزراہا صفحات کھنگال لیتا ہے، ایک محدث ایک لفظ سمجھنے کےلئے بادیہ پیمائی کرتا ہے، دور دراز کا سفر کرتا ہے، تب جاکر انہیں کچھ ہاتھ آتا ہے!
*بے کوشش و جہد ثمر کس کو ملا ہے*
*بے خون پئے لقمہ تر کس کو ملا ہے ؟*
اے آئی کی افادیت سے انکار نہیں ، بے شمار کام پلک جھپکتے انجام پارہے ہیں، وہ تن تنہا پوری ٹیم کا کام کررہا ہے، لیکن اس حقیقت کا بھی اعتراف کرنا ہوگا کہ ہزارہا محنت طلب تخلقی صلاحیتیں جو جہد مسلسل سے حاصل ہوا کرتی تھیں، آج ان کا دور ختم ہونے کو ہے، دنیا میں انقلابات آتے ہیں، ایجادات کا زمانہ آتا ہے تو لوگ اعتدال سے منحرف ہوجاتے ہیں۔
آج ضرورت ہے اعتدال کی، ٹکنالوجی کے درست استعمال کی، یاد رکھنا چاہئے کہ ہر وہ استعمال جو فکر و عمل میں سستی اور کم کوشی کی طرف لے جائے اس سے ہزار قدم دور رہنا ہے، ہم ہر فکری کام کےلئے ذہن کو زحمت فکر دیں،
ورق گردانی درکار ہو تو فورا کتاب کی طرف رجوع کریں، کسی لفظ کی تحقیق درکار ہو یا حدیث کا حوالہ درکار ہو، خود مقدور بھر محنت کریں، اپنے مضامین اور علمی امور از خود انجام دیں، صرف دنیوی امور میں،کسی نئے مقام نئی ٹکنالوجی کے تعارف کےلئے محدود استعمال کریں!
میرے استاذ محترم نے بہت پہلے خبردار کیا تھا، کہ علمی امور کےلئے، تحقیقی کاموں کےلئے ہرگز اسے استعمال نہ کرنا
ذہن سست پڑ جائے گا، ذوق مطالعہ کم سے کم تر ہوجائے گا ، فکری قوت ماند پڑ جائے گی، تخیلقی صلاحیتوں کو زنگ لگ جائے گا!
خدائے کریم راہ اعتدال میسر کرے... !
✍🏻ابوالفضل حیدریؔ