ماں کی بے لوث محبت اوران کی عظیم قربانیاں
✍🏻 محمد عادل ارریاوی
______________________________
محترم قارئین ماں صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک احساس ہے جب بھی زبان پر لفظ ماں آتا ہے ایک الگ ہی سکون میسر ہوتا ہے جب جب ماں کی گود میں سر رکھتا ہوں دل کہتا فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ماں باپ وہ ہستیاں ہیں جن کی محبت بے لوث قربانی بے مثال اور دعائیں بے غرض ہوتی ہیں ان کی آغوش میں سکون ان کے قدموں میں جنت اور ان کی دعاؤں میں زندگی کی کامیابی پوشیدہ ہے جو ان کی قدر کر لے وہ خوش نصیب اور جو انہیں رنج پہنچائے وہ بدقسمت ہے والدین اللہ کی ایسی نعمت ہے جس کا بدل دنیا میں نہیں ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے والدین حیات ہیں اور وہ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کر کے ان کو راحت و آرام پہنچا رہے ہیں اور اللہ تعالی کی رضا کا پروانہ حاصل کر رہے ہیں اور اپنے کو جنت کا مستحق بنا رہے ہیں ۔ اسی طریقے سے نیک بخت ہیں وہ والدین جنہوں نے اپنے لخت جگر اور مہ پاروں کی اچھی تربیت کی ان کی تعلیم کا بندو بست کیا اچھے اخلاق سکھائے اپنے اور اللہ کے حقوق سے ان کو روشناس کرایا اور مہذب اور تعلیم یافتہ انسان بنایا دینی تعلیم اور قرآن وحدیث سے واقف کرایا اور باکردار اور با اخلاق انسان بنایا ایسے والدین کے لئے دنیا ہی میں جنت کی خوش خبری و بشارت ہے اور کل قیامت کے دن بھی وہ سرخرو ہوں گے انشاء اللہ اس کے برخلاف ایسے لوگ جو اپنے والدین کے نافرمان ہیں ان کو تکلیف پہنچاتے ہیں ان کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ان کے حقوق میں کوتاہی کرتے ہیں بدبختی ہے ان لوگوں کے لئے اور اللہ کی ناراضگی جو جہنم کا سبب ہے اور ایسے ہی وہ لوگ جنہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف دھیان نہیں دیا ان کو اخلاق نہیں سکھائے آداب و اصول اور حقوق سے واقف نہیں کرایا وہ دنیا ہی میں جہنم کے نمونے دیکھ لیتے ہیں۔ میں بچپن کا وہ وقت کبھی نہیں بھول سکتا جب شدید طوفانی بارش کے دوران ہمارے گھر کی چھت کا ایک حصہ اُکھڑ گیا تھا اور بارش کا پانی اندر آ رہا تھا میری ماں نے ہم سب بہن بھائیوں کو محفوظ جگہ سُلا دیا اور خود پوری رات جاگتی رہیں یہ منظر آج بھی میرے دل و دماغ میں محفوظ ہے میرے ماں باپ نے ہماری خاطر جو قربانیاں دیں ان کا حقیقی اجر تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے ہر طرح کی تکلیف برداشت کرتے ہیں اس لیے ہم سب پر لازم ہے کہ ان کا احترام کریں اور انہیں کبھی رنج نہ پہنچائیں بدقسمتی سے آج کچھ لوگ اس عظیم نعمت کی قدر نہیں کرتے جو نہایت افسوسناک بات ہے۔
ایک واقعہ یاد آگیا ایک مرتبہ ایک 16 سالہ لڑکے نے اپنی ممی سے کہا کہ ممی مجھے میرے 18 سال کے سالگرہ پر کیا گفٹ دوگی؟ تو اس لڑکے کی ممی نے اس سے کہا کہ بیٹا جب تیرا 18 سال ہو گا تو الماری کے اوپر دیکھ لینا اس میں تیرا گفٹ رہے گا اب بتا دوں گی تو گفٹ کا مزہ نہیں آئے گا کچھ دن بعد وہ لڑکا بیمار ہو گیا اسے ممی پاپا ہسپتال لے کر گئے جانچ پڑتال کے بعد ڈاکٹر نے لڑکے کے والدین سے کہا کہ اس کے دل میں سوراخ ہے یہ اب 2 ماہ سے ذیادہ نہیں جی پائے گا دو سال بعد لڑکا ٹھیک ہوکر گھر گیا تو اسے پتہ چلا کہ اس کی ماں نہیں رہی اسے یہ پتہ چلتے ہی اس نے الماری کھولی اور اس نے دیکھا کہ الماری میں ایک گفٹ پڑا تھا اس نے جلدی سے وہ گفٹ کھولا اس گفٹ میں ایک پرچی تھی اس پرچی میں لکھا تھا کہ میرے جگر کے ٹکڑے اگر تو یہ پرچی پڑھ رہا ہے تو تو بالکل ٹھیک ہونگے تجھے یاد ہے جب تو بیمار ہوا تھا تب ہم تجھے ہسپتال لے کر گئے تھے ڈاکٹر نے کہا کہ تیرے دل میں سوراخ ہے تو اس دن میں بہت روئی اور فیصلہ کیا کہ میں اپنا دل تجھے دوں گی یاد ہے ایک دن تو نے کہا تھا کہ ممی مجھے 18ویں سالگرہ پر کیا دوگی تو بیٹا میں نے تجھے اپنا دل دے دیا اس کو ہمیشہ سنبھال کر رکھنا سالگرہ مبارک ہو بیٹا ایک ماں اپنے بیٹے کے لیے مر گئی تاکہ اس کا بیٹا جی سکے دنیا میں ماں سے بڑا دل کسی کا نہیں ماں کے دل جیسا دنیا میں کوئی دل نہیں
اللہ ربّ العزت سب کے والدین کو دنیا میں لمبی زندگی عطاء فرمائے اور جن کے والدین اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین یارب العالمین ـ