*میلادِ النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے عدمِ جواز کے اعتراضات اور ان کے مدلل جوابات۔

عیدِ میلاد النبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انعقاد پر وقتاً فوقتاً علمی حلقوں میں بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے اس مباحثے کا ایک فریق اس کے عدمِ جواز کا قائل ہے، جبکہ جمہورِ امت اس کے جواز اور استحباب پر متفق ہیں، ذیل میں عدمِ جواز کے قائلین کے چار بنیادی اعتراضات اور ان کے مسلّماتِ شرعیہ اور اصولِ فقہ کی روشنی میں مختصر و مسکت جوابات پیش کیے جا رہے ہیں۔
*پہلا اعتراض عدمِ فعل (نبی و صحابہ کا عمل نہ کرنا)*
اعتراض: وہ کہتے ہیں کہ میلاد رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں منایا، نہ صحابہ نے اور نہ تابعین نے، لہٰذا اگر یہ کوئی خیر کا کام ہوتا تو وہ ہم سے پہلے اس پر عمل کرتے جب انہوں نے نہیں کیا تو نہ کرنا چاہیے۔
الــــــجــــــــواب بـــتــوفــیـق الـلـہ العــزیـز الـعـلـام۔
امت کے جمہور علماء کا متفقہ اصول یہ ہے کہ *محض کسی کام کا ترک (نہ کرنا) اس کے حرام یا ممنوع ہونے کی مستقل دلیل نہیں ہوتا* اگر ترکِ اولیٰ کو ہی حرمت کی دلیل مان لیا جائے تو بہت سے مستحسن امور کو چھوڑنا پڑے گا مثلاً تاریخی و شرعی مثال (جمعِ قرآن کا واقعہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قرآن مجید کو ایک کتابی شکل میں جمع کرنے کا مشورہ دیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تامل کرتے ہوئے فرمایا تھا *كيف أفعل شيئًا لم يفعله رسول الله صلیٰ اللہ علیہ وسلم؟* میں وہ کام کیسے کروں جو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا؟
اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے برجستہ جواب دیا *هو واللهِ خير* اللہ کی قسم! یہ سراسر خیر (بھلائی) کا کام ہے۔[صحیح بخاری]اس واقعے سے واضح ہوا کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کسی کام کو بالذات نہ کرنا اس کے ناجائز ہونے کی دلیل نہیں بنتا، بشرطیکہ اس کے جواز کے لیے شریعت میں کوئی عمومی یا اصولی دلیل موجود ہو، یہی اصول صحابہ اور تابعین کے ترکِ عمل پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
*دوسرا اعتراض ذکرِ رسول کو ایک دن تک محدود کرنا* اعتراض وہ کہتے ہیں کہ میلاد منانے میں نبی کی شان میں کمی ہے، کیونکہ اس میں آپ کا ذکر صرف ایک دن تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
الـــــــــــــــــــجـــــــــــــــــــــواب۔ یہ اعتراض حقیقت کے برعکس ہے اور محض *محلِ نزاع* کو خود ہی فرض کر لینے کے مترادف ہے میلاد کے قائلین کبھی بھی سرکار دو عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور ذکر کو کسی ایک دن کے ساتھ خاص نہیں کرتے، بلکہ پورا سال محافلِ نعت اور ذکرِ مصطفی کا اہتمام ہوتا ہے بارہ ربیع الاول کو خصوصی اہتمام دراصل شکرِ نعمت کا ایک اظہار ہے،سنتِ نبوی سے دلیل خود نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ولادت باسعادت کے دن (پیر کے روز) خصوصی عبادت یعنی روزے کا اہتمام فرما کر اس کی عظمت کو اجاگر کیا، جب آپ سے پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا *ذاك يوم وُلدت فيه، ويوم بُعثت أو أُنزِل عليَّ فيه* یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھے مبعوث کیا گیا یا مجھ پر وحی نازل ہوئی[صحیح مسلم] *قیاس مع الفارق*
کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ولادت کی نعمت کا شکر صرف پیر کے دن تک محدود کر دیا تھا؟ ہرگز نہیں اسی طرح یومِ عاشورا میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نجات پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے پس کسی خاص نعمت کی مناسبت سے کسی معین دن میں زیادہ شکر یا عبادت کرنا شریعت میں ممنوع نہیں۔
*تیسرا اعتراض: ولادت اور وفات کا ایک ہی دن ہونا* اعتراض وہ کہتے ہیں کہ آپ لوگ بارہ ربیع الاول کو میلاد کیسے مناتے ہیں، جبکہ یہی دن نبی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا دن بھی ہے؟
*الــــــجــــــــواب بتوفیق اللہ اس اعتراض کے دو علمی جوابات ہیں تاریخی اختلاف* اول تو بارہ ربیع الاول کو نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ظاہری ہونا تمام مؤرخین اور محدثین کے نزدیک متفق علیہ نہیں ہے، اس باب میں اور بھی اقوال موجود ہیں۔
*قرآن و سنت کا منہج*
 فرض کریں اگر ولادت اور وفات کا دن ایک ہو بھی جائے، تو کسی عظیم ہستی کی وفات کا دن اس کی ولادت کی نعمت اور عظمتِ شان کو ختم نہیں کر سکتا،*سنن نسائی میں فرمانِ عالی شان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک منقول ہے *إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة، فيه خُلق آدم، وفيه قُبض* تمہاری فضیلت والے دنوں میں بہترین دن جمعہ کا ہے، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے اور اسی دن ان کی وفات ہوئی۔
لہٰذا ایک ہی دن میں ولادت اور وفات کا جمع ہو جانا اس دن کی شان یا اس میں منائے جانے والے یومِ رحمت کے منافی نہیں۔
*چهارم اعتراض صحابہ کا عمل اور محبت کا معیار* اعتراض وہ کہتے ہیں کہ اگر میلاد منانا خیر ہوتا تو رسول اللہ خود مناتے، اور پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ لوگ صحابہ سے زیادہ نبی سے محبت کرتے ہیں؟
*الــــــجـــــــواب بعون الملک الوھاب*
یہ نکتہ اصولِ فقہ اور افعالِ صحابہ کے فہم پر پورا نہیں اترتا اس کی تائید درج ذیل تین مدلل امثلہ سے ہوتی ہے *ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا عمل حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں ما رأيت رسول الله سبَّح سبحة الضحى، وإني لأسبحها*(میں نے رسول اللہ کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، جبکہ میں خود اسے پڑھتی ہوں اب اگر *عدمِ فعل* کو دلیل بنایا جائے تو کیا حضرت عائشہ پر اعتراض کیا جائے گا؟ ہرگز نہیں، بلکہ یہ ان کا اجتہاد اور مستحسن عمل تھا،امام مالک رحمہ اللہ کا تعظیمی ادب امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ مدینہ منورہ کی زمین پر جانور کے سم کے چلنے کو بھی نبی کی تعظیم و محبت کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے کیا اس پر یہ کہا گیا کہ امام مالک صحابہ سے زیادہ محبت کا دعویٰ کر رہے ہیں؟ حالانکہ صحابہ مدینہ کی زمین پر جوتوں کے ساتھ چلا کرتے تھے، مخصوص اذکار کی تخصیص ابن قیم نے ابن تیمیہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ فجر کی سنت اور فرض کے درمیان *يا حي يا قيوم، لا إله إلا أنت* کو چالیس مرتبہ پڑھنے کی پابندی کے قائل تھے تاکہ اس سے دل زندہ ہو۔ اب یہ مخصوص تعداد اور وقت کی تخصیص نبی یا صحابہ سے منقول نہیں، تو کیا اس پر یہ کہا جائے گا کہ اگر یہ خیر ہوتا تو وہ کرتے؟
ان تمام مثالوں سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے کہ محض کسی فعل کا نبی یا صحابہ سے مروی نہ ہونا اس کی حرمت کی دلیل نہیں بنتا، میلاد النبی کے نام پر خوشی کا اظہار، قرآن مجید کی تلاوت، سیرتِ طیبہ کا بیان، درود و سلام کا نذرانہ اور کھانا کھلانا جیسے امور فی نفسہٖ قرآن و سنت کے عمومی احکام (جیسے ذکرِ الٰہی، اطعامِ طعام اور سرورِ نعمت) کے تحت مستحسن و جائز ہیں أسأل الله تعالى قواما في حياة المؤمن وحفظا عن الكفر والضلالة آمين یا رب العالمین بجاہ النبی الامین الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔
               *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*