*تبصرہ بر کتاب "مسلم سلاطین جنگ آزادی کوئز "*
مؤلف :مولانا محمد بن عبداللہ قاسمی
✍🏻 *گل رضاراہی ارریاوی*
ہندوستان کی تاریخ قدیم ترین ہے،اس کی تہذیب بھی پرانی ہے ،تہذیب فارس ،تہذیب یونان ،تہذیب مصر ،تہذیب بابل اسی طریقے سے تہذیب ہند بھی ہے، اس طرح یہ قدیم تہذیبوں والا ملکوں میں ایک ہے -
ہندوستان ان علاقوں میں ایک ہے، جس میں ابتدائی زمانہ سے انسان آباد ہے-
بعض لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ ہندوستان کو ہندوستان اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں ہندو مذہب کے لوگ رہتے ہیں، جب کہ درست بات یہ ہے ہند عربی زبان کا لفظ ہے ،جسے عربی میں الہند کہتے ہیں بعد میں چل کر یہ ہندوستان ہوگیا -
بعض مؤرخین نے اس کی توجیہ بیان کی ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی بہو" ہند" نے اس علاقے میں قیام کیا تھا، اس لیے اس کو ہندوستان کو کہتے ہیں -
کچھ مؤرخین کا کہنا ہےیہ وادئ ہند یا سندھ کی طرف منسوب ہے، اس وجہ سے اس کو ہندوستان کہا جاتا ہے ،بہر حال واقعہ جو بھی ہو لیکن عربی میں اس کو الہند کہاجاتا ،بعد میں جاکر آزادی کے بعد اس کو بھارت کہا گیا انگریزی میں اس کو انڈیا کہا گیا اردو اور فارسی میں اس کو ہندوستان سے تعبیر کیا گیا ،اس لیے یہاں کے باشندوں کو انڈین ، بھارتی اور ہندوستانی کہتے ہیں (تاریخ ہند ص19)
اسی لیے ہمارے ہندوستان کے مشہور مؤرخ سید غلام علی البلگرامی صاحب نے" سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان" میں لکھا ہے کہ اگر دیکھا جاۓ تو اس نقطۂ نظر سے ہندوستان سب سے پہلا دارالبشر ہے، کیونکہ آدم علیہ السلام کا نزول یہیں ہوا،سب سے پہلا دارالنبوۃ ہے کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام نبوت لے سب سے پہلے یہیں اترے،سب سے پہلا دارالاسلام ہے کیونکہ آدم علیہ السلام اسلام لے کر یہیں اترے ،اسی طریقے سے دارالعبادہ اور دارالاذان بھی ہے،کیوں کہ سری لنکا اس وقت ہندوستان کا حصہ تھا اور افغانستان،پاکستان،نیپال، بنگلہ دیش ،بھوٹان یہ سب ہندوستان میں شامل تھا
انگریزوں نے" لڑاؤ اور حکمرانی کرو "پالیسی کے تحت ریاست کے طور پر سب کو تقسیم کردیا اور اب یہ مختلف ممالک میں تقسیم ہے-
ہندوستان ظاہری نشو ونما،سادگی، آثار قدیمہ،مال ودولت کی فراوانی کی وجہ سے مشہور ومعروف تھا،اس پر ہمیشہ سلاطین وامراء اور محاربین کی نظر رہی ،اسی لیے اس پر مختلف زمانے میں مختلف لوگوں کی حکومت رہی -
ہندوستان کے گجرات میں اسلام کی آمد صحابہ کرام کے ذریعے بہت پہلے ہی ہوچکی تھی ،جس کے بارے میں کچھ تحقیق حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "ایک ہندوستانی صحابی " میں تذکرہ کیا ہے اور بھی دیگر مؤرخین نے الگ الگ تحقیق پیش کی ہے کہ سترہ اٹھارہ صحابہ ہندوستان تشریف لاۓ جن کے مزارات یہیں ہیں -
کیرالا کے ہندو دو گروہ نائر اور پولیار میں تقسیم تھے، نائر اونچی برادری کے تھے اور دوسرا پولیار حقیر برادری میں سمجھے جاتے تھے، ان چیزوں سے پریشان ہوکر پولیار کی ایک جماعت نے اسلام قبول کرلیا -
ایک راجہ کے بارے میں یہ بات مؤرخین نے لکھا ہے کہ معجزۂ شق القمر کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور چونکہ پہلے ہی بعثت محمدی کا شہرہ تاجروں کے ذریعے ہوچکا تھا ،جس کی وجہ سے انہیں یقین ہوا اور وہ اپنے رعایا کے ساتھ اسلام قبول کرلیا پھر حضور علیہ السلام سے ملاقات کےلیے عرب کا سفر کیا؛ مگر زہے نصیب کی پہونچنے سے قبل ہی راستے میں انتقال ہوگیا ـ
اسی طرح کا کچھ تذکرہ "تاریخ فرشتہ" میں بھی ملتا ہے
مسلمانون کی جانب سے ہندوستان پر پہلا حملہ 711ء میں محمد بن قاسم کے ذریعے راجا داہر کی حکومت میں کیا گیا،کیونکہ مسلمان مرد وعورت پر ظلم زیادتی بڑھ رہی تھی اور انہیں قید کرنے کی شکایت پہونچ رہی تھی ،پہلے تو یونہی سمجھا گیا مگر جھوٹ بولا جس کی وجہ سے حجاج بن یوسف نے حملہ کےلیے محمد بن قاسم کو ہندوستان بھیجا- ( آب کوثر تاریخ ہندوستان)
بات کو مختصر کو انداز میں پیش کرتے ہوۓ یہ عرض ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے باضابطہ حملہ شہاب الدین غوری نے 1193ء میں کیا پھر خلجی ،تغلق ، بابر ،اکبر ، ہمایوں کبیر، مغلوں سے ہوتے ہوۓ آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر پر حکمرانی ختم ہوئی ،
انگریزوں نے 1490 سے ہی ہندوستان کو لوٹنے کے منصوبہ بندی شروع کردی تھی مگر پورے طور ایسٹ انڈیا کولے کر 1600ء میں یہاں آۓ اور اپنے منصوبہ تاجر کے بھیس میں آگے بڑھاتے رہے، رفتہ رفتہ انہوں نے حکومتی معاملات میں مداخلت شروع کردی،پھر حکومت کو آنکھیں دکھانا شروع کیا،مختلف ریاستوں کے حکمرانوں نے بہادری اور بے باکی سے جنگیں لڑی ،علی وردی ،نواب سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان شہید قابل ذکر ہے ،
ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد ان کو مزید ہمت ملی اور کہا کہ آج سے یہ ہندوستان ہمارا ہے، 1803 میں پورے طور پر ہندوستان پر قابض ہوگئے -
علماء کرام نے ان کے خلاف جہد و جہد کا آغاز تو شروع میں ہی کردیا تھا چنانچہ شاہ عبداالعزیز نے دارالحرب کا فتویٰ دیا پھر ان کے بعد شاہ اسماعیل شہید، سید احمد شہید ،مولانا قاسم نانوتوی،مولانا مظہر نانوتوی ،مولانا مملوک علی نانوتوی،مولانا رشید احمد گنگوہی،سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، وغیرہ حضرات نے جگیں لڑی -
1857 کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد دارالعلوم کا قیام عمل میں آیا، پھر یہاں کے طالب علموں نے اپنے اساتذہ کے مشن کو آگے لے کرچلے، مختلف تحریکیں چلیں جن میں تحریک ریشمی رومال ،تحریک خلافت اور تحریک ترک موالات بہت اہم ہے،پھر جمعیہ علماء ہند کا قیام عمل میں آیا ،جس سے لوگوں کو متحد کرنا آسان ہوگیا پھر مسلسل جد وجہد جاری رہی ،اس میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں میں مولانا محمود الحسن دیوبندی، مولانا حسین احمد مدنی، علامہ شبیر احمد عثمانی،علامہ ظفر تھانوی ،مولانا جعفر تھانیسری ، مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ ہیں ،ان کی فہم وفراست اور تدابیر اور متحدہ طاقت کے سبب یہ ملک 1947 کو آزاد ہوا -
یہ تاریخ کوئی افسانہ نہیں بلکہ تقریبا تین صدیوں کے ظلم وستم کرب والم کہ طویل داستان ہے ،جس کو پڑھ آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور قلب مضطرب ہو جاتا ہے-
یہ ہماری تابناک ماضی کا آئینہ دار ہے؛ مگر افسوس غیروں نے جو کیا سو کیا، ہمیں تو اپنوں سے گلہ ہے کہ وہ بھی اپنی تاریخ سے ناواقف ہے ،جو واقف بھی ہے ،اس میں بھی بعض کو پوری تاریخ پتا نہیں معدودے چند ہیں جن کو ہندوستان میں مسلمانوں کی تاریخ ،اور جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں یاد ہے -
اگر درست تاریخ محفوظ نہ کیا گیا اور نسل نو کے سامنے پیش نہ کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ مستقبل میں شاید ہی کوئی ہو جو تاریخ پر نظر رکھ سکے -
ایسے ماحول میں جب کہ عام طور پر مطالعہ کا شوق کم ہورہاہے ،پڑھنے کا رواج بھی ختم ہورہا ہے ،ضرورت ہے کہ تاریخ کی مختصر ؛مگر جامع کتاب نصاب میں شامل کیا جاۓ تاکہ مسلمان تاریخ یاد رکھیں -
راقم کچھ دن پہلے یہ سوچ بھی رہاتھا کہ جنگ آزادی کی مختصر کتاب یا رسالہ سامنے آۓ -
خدا کا تعالی بے پناہ شکر و احسان ہے کہ انہوں نے یہ خواہش حضرت مولانا محمد بن عبداللہ قاسمی کے ذریعے پوری کرادی -
محترم مؤلف نے مختلف کتابوں کے مطالعے سے" مسلم سلاطین اور جنگ آزادی کوئز" ترتیب دے کر نسل نو کےلیے آسانی پیدا کیاہے -
پندرہ اگست کو یہ محترم مؤلف نے ارسال کیا،اس کو پڑھا ،کئی مرتبہ پڑھا ،دل خوشی ہوگیا کہ کتنا مختصر انداز میں لکھا ہے کہ کچھ ہی منٹ میں یہ کتاب پڑھ ڈالی ،
اس میں بالترتیب مسلم حکمرانوں کی آمد کی تاریخ اور مدت حکومت کو بیان کیا،پھر برطانوی حکومت کی آمد ،مختلف اہم اہم جنگوں کا تذکرہ کیا گیا اور اس میں مسلمان اور علماء کاکیا کردار تھا اس کو بھی واضح انداز میں بیان کیا -
میری خواہش ہے کہ اس میں کچھ مزید اضافہ کرکے" تاریخ الاسلام " کے طرز پر مرتب کرکے نصاب میں شامل کیا جاۓ تو تاریخ کے کچھ دریچے ذہن میں ہمیشہ رہیں گے -
اللہ تعالیٰ محترم مؤلف کی تالیف لطیف قبول کو فرماۓ ،اس کا بہترین جزا عطاء فرمائے آمین