Translation unavailable. Showing original.
"ہم ظاہر دیکھتے، اللہ باطن جانتا ہے"
14 اپریل، 2026
بعض أمور ایسے ہیں جسکا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے، جو اللہ کی حکمت و مشیت کے تحت ہوتے ہیں لیکن چونکہ ہم اللہ کی حکمت و مشیت کو سمجھ نہیں سکتے تو ہم اس پر صبر بھی نہیں کر پاتے۔
جیسا کہ قرآن میں سورۃ الکہف میں حضرت موسی علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے سفر کا ذکر کیا گیا ہے: جب وہ دونوں کشتی پر سوار سفر کر رہے تھے تو خضر علیہ السلام نے اس کشتی کے تختے کو توڑ ڈالا چونکہ موسی علیہ السلام کو اس کے پیچھے چھپی حکمت کا علم نہیں تھا تو ان کو یہ چیز نا گوار گزری کہ خضر علیہ السلام نے صحیح سالم کشتی کو کیوں توڑ ڈالا اس لئے وہ اس پر صبر نہ کر سکے اور اپنے علم و فہم کے مطابق اسے نہایت برا کام قرار دے دیا حالانکہ وہ کام امر الہی سے تھا تاکہ ان غریب کشتی والوں کی مدد ہو سکے کیونکہ کشتی چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے اور اس کشتی میں توڑ پھوڑ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ دریا سے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک صحیح سالم کشتی کو جبراً ضبط کر لیتا تھا، اب سوچیۓ کہ اگر وہ کشتی صحیح سالم اس بادشاہ تک پہنچ جاتی تو کیا وہ اس کشتی کو چھوڑتا؟ وہ اس کشتی کو ضبط کر لیتا تو وہ مسکین بڑے مسئلے میں پھنس جاتے ان کا کام بند ہو جاتا۔ انہیں نا جانے کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا، اللہ نے انہیں تھوڑا سا نقصان پہنچا کر بڑے نقصان سے بچا لیا، یہ کام اللہ نے ان کو بڑے نقصان سے بچانے کے لئے کیا۔
پھر انہوں نے اپنا آگے کا سفر شروع کیا اس سفر میں انہیں ایک لڑکا ملا اس لڑکے کو خضر علیہ السلام نے مار ڈالا پھر موسی علیہ السلام نے شرعی اعتبار سے اسے غلط سمجھا اور خضر علیہ السلام سے کہا کہ آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی وہ بھی کسی کے خون کے بدلے میں نہیں، یہ تو آپ نے بڑی ہی بے جا اور نا پسندیدہ حرکت کی، انہوں نے اس پر اعتراض کیا اور نہایت برا عمل سمجھا لیکن اس کے پیچھے بھی اللہ کی حکمت عملی پوشیدہ تھی جس سے موسی علیہ السلام لا علم تھے، جس لڑکے کو خضر علیہ السلام نے مار ڈالا تھا اس کے والدین نیک اور ایمان دار تھے اور ممکن تھا کہ وہ لڑکا مستقبل میں اپنی سرکشی اور کفر سے اپنے والدین کو عاجز و پریشان کرتا اس لئے انہوں نے اسے مار ڈالا تاکہ ان کا پروردگار ان کو اس کے بدلے اس سے بہتر پاکیزگی والا اور اس سے زیادہ محبت اور پیار والا بچہ عنایت فرماۓ۔ یہاں بھی اللہ نے ان کو اس آزمائش میں اس لئے ڈالا تاکہ انہیں بڑی آزمائش سے بچا لے۔
میں نے اکثر ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جن کے بچے اکثر لغویات میں پڑ جاتے ہیں، والدین کے نافرمان بن جاتے ہیں، انہیں اپنی غلط حرکتوں کی وجہ سے ذلیل کر کے رکھ دیتے ہیں۔ کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ والدین کو در بہ در کی ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں پھر وہ والدین یہ کہتے ہیں کہ ایسی اولاد سے تو بہتر تھا اللہ ہمیں بے اولاد ہی رکھتا... اس بچے کو خضر علیہ السلام نے اس لئے مار ڈالا تاکہ اس کے والدین اس دن کی اذیت سے بچ جائیں۔
یہی کام ہمارے ساتھ بھی ہوتا ہے کبھی ہمارا کوئی اپنا بیمار ہوتا ہے، کوئی بہت عزیز وفات پا جاتا ہے، کسی کا کاروبار تباہ ہو جاتا ہے، کبھی کسی کا ایکسیڈنٹ ہو جاتا ہے، کبھی ہمارا کوئی سامان چوری ہو جاتا ہے، کبھی ہمارا کوئی چھوٹا نقصان ہوتا ہے تو کبھی کوئی بڑا نقصان، یہ سب کچھ بإذن الہی اللہ کے حکم سے ہی ہوتا ہے اس لئے نہیں کہ وہ ہمیں تکلیف پہنچائے بلکہ اس لئے کہ وہ ہمیں اس سے زیادہ اذیت ناک تکلیف سے بچا لے، اس لئے کہ وہ ہمیں اس سے بہتر عطا کرے اور ہم اپنی کم عقلی کی وجہ سے اس پر صبر نہیں کر پاتے اور اللہ سے شکوے شکایتیں شروع کر دیتے ہیں، سوال کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ ایسا میرے ہی ساتھ کیوں ہوا؟
ہمیں کس بات کی سزا ملی ہے؟
یہ نقصان ہمارا ہی کیوں ہوا؟
یہ مصیبتوں نے ہمارے گھر کا راستہ دیکھا ہوا ہے کیا؟
اللہ نے غریبی کو ہمارے حصے میں کیوں ڈالا؟
اللہ نے ہم سے ہمارے پیارے کو کیوں لے لیا؟
اس طرح کے اور بھی بہت سارے اعتراضات ہوتے ہیں، ایسے مواقع پر کبھی ہماری زبان پر شکر کے کلمات نہیں آتے کہ اللہ نے جو کیا ہے اس میں ہمارے لئے کوئی بہتری ہوگی اللہ نے اگر ہمیں آزمائش میں ڈالا ہے، ہمارا کوئی نقصان ہوا ہے تو اللہ ہمیں اس سے بہتر اور اس سے بڑھ کر نوازے گا۔
جب بھی دل کہے "میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟"__ تب یاد کریں: کشتی کا مالک، بچے کے ماں باپ، اور ہم... سب اللہ کے احاطۂ علم میں ہیں۔ ہم انسانوں کا علم محدود ہے اور اللہ کی حکمت لا محدود! جیسے کشتی میں سوراخ کر کے مسکینوں کا روزگار بچا لیا گیا ویسے ہی اللہ کبھی ہم سے تھوڑا لے کر زیادہ عطا کر دیتا ہے، ہماری زندگی میں آنے والی وہ بیماریاں، وہ ناکامیاں، وہ جدائیاں، شاید کسی بڑی آزمائش کی ڈھال ہوں۔
جیسے خضر علیہ السلام کا کشتی توڑنا، بچے کو مارنا ظاہراً غلط لگا مگر حقیقت میں اس میں اللہ کی رحمت تھی۔
جیسا کہ ارشاد ربانی ہے "وَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ"
ترجمہ: ممکن ہے تم کسی چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔
کاش ہمارا ایمان اتنا مضبوط ہو جاۓ کہ ہم شکوے کی جگہ صبر اور شکر کرنا سیکھ جائیں۔
✍️بنت شہاب💫