*دیوبند کی بابرکت فضاؤں میں ایک یادگار دن۔ نگار شات بک اسٹور دیوبند*
*خامہ بکف محمد عادل ارریاوی*
______________________________
آج قبل از ظہر مجھے نگار شات بک اسٹور دیوبند میں حاضری کا شرف حاصل ہوا جس میں درسی و غیر درسی ہر طرح کی بےشمار کتابیں دستیاب ہیں اس حاضری کا مقصد حضرت مولانا مفتی عبدالرحمٰن قاسمی صاحب سے ملاقات تھا جو کہ مفتی صاحب سے ملاقات کی خواہش مجھے کافی عرصے سے تھی۔ مگر مصروفیات کے باعث یہ سعادت حاصل کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ الحمدللہ آج اللہ ربّ العزت نے یہ موقع عطا فرمایا اور ملاقات ممکن ہو سکی۔
مفتی صاحب کے ساتھ خاصی دیر تک نہایت خوشگوار ماحول میں گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ جس میں علمی باتوں کے ساتھ ساتھ ہلکی پھلکی خوش طبعی بھی شامل رہی یہ نشست نہایت مفید اور یادگار رہی۔
دورانِ گفتگو حضرت مفتی صاحب نے نہایت شفقت کے ساتھ میری زیرِ تصنیف کتاب فتنۂ ارتداد کے بارے میں دریافت فرمایا کہ محمد عادل ارریاوی صاحب آپ کی یہ کتاب کب تک منظرِ عام پر آ رہی ہے؟ میں نے مؤدبانہ عرض کیا کہ ان شاء اللہ العزیز بہت جلد یہ کتاب شائع ہو جائے گی بس کچھ ضروری کام باقی ہیں جن کی تکمیل کے بعد اسے منظرِ عام پر پیش کر دیا جائے۔
بعد ازاں ہم نے یہ مناسب سمجھا کہ خالی ہاتھ واپس لوٹنا اچھا نہیں لہٰذا کسی کتاب کا انتخاب کیا جائے۔ اسی دوران میری نظر *اس بازار میں پر پڑی* جو کہ شورش کاشمیری صاحب کی تصنیف ہے۔ جیسے ہی میں نے اس کتاب کو ہاتھ میں لیا اس کا اسلوب اور موضوع نہایت دلکش محسوس ہوا۔ بلاشبہ یہ ایک بہترین اور لاجواب تصنیف ہے۔ چنانچہ میں نے اسے خرید لیا۔ویسے بھی میرا یہ معمول رہا ہے کہ جب بھی کسی کتب خانے میں جاؤں تو خالی ہاتھ واپس نہیں آتا بلکہ کوئی نہ کوئی کتاب ضرور خریدتا ہوں۔ اسی خوشی اور اطمینان کے ساتھ ہم واپس لوٹے۔
آخر میں میں اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ وہ حضرت مفتی صاحب کے کاروبار میں خیر و برکت عطا فرمائے اور دن رات ترقیات سے نوازے ہمیشہ شادوآباد خوش و خرم رکھیں آمین ثم آمین یا رب العالمین۔