یہ جو دو ماہ کی عطائے بے حساب طلبہ کو نصیب ہوئی تھی، حقیقت میں وہ کوئی معمولی چھٹیاں نہ تھیں، بلکہ ایک مکمل دورِ حکومت تھا — ایسا دور جس میں ہر طالبِ علم خود کو سلطانِ بے تاج سمجھتا تھا۔ نہ سبق کی قید، نہ سبق نہ سنانے کا خوف، نہ استادِ محترم کی وہ ہیبتِ جلالی — بس آزادی ہی آزادی!
صبح کا آغاز کچھ یوں ہوتا تھا کہ سورج بیچارہ آدھا آسمان پار کرجاتا، مگر ہمارے حضرتِ طالبِ علم ابھی تک خوابوں کی وادی میں سیرِ بے خودی فرما رہے ہوتے۔ کوئی پوچھ بیٹھے:
“حضور! صبح ہو گئی!”
تو جواب ملتا:
"ہمارے لیے ابھی سحر کا ظہور نہیں ہوا!"
دوپہر کا وقت موبائل کی نذر، شام دوستوں کی محفل کے نام، اور رات فکرِ عظیم میں گزرتی — یعنی کل کہاں گھومنے جانا ہے!
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پوری کائنات کا نظام ہی بدل گیا ہے، اور طالبِ علم اب کسی نئے دستورِ حیات کے تحت زندگی بسر کر رہا ہے۔
مگر… ہر عروج کو زوال ہے، اور ہر عیشِ مسلسل کے بعد ایک نہ ایک دن اذانِ واپسی ضرور بلند ہوتی ہے!
اچانک ایک دن یہ خبر آتی ہے:
"مدارس کا افتتاح ہوچکا ہے، کل سے حاضری لازم!"
یہ سننا تھا کہ گویا دل پر بجلیِ ناگہاں گر پڑی۔ جو کل تک قہقہے لگا رہے تھے، آج خاموشی کے سمندر میں غرق۔ جو کل تک دوستوں کو پلان سنا رہے تھے، آج تقدیر کو کوس رہے ہیں۔
اب صبح کا منظر دیکھیے:
الارم بج رہا ہے، مگر طالبِ علم ایسے سو رہا ہے جیسے کسی غارِ اصحابِ کہف میں محوِ استراحت ہو۔ ماں کی پہلی آواز: “بیٹا اٹھ جا!”
دوسری آواز: “مدرسہ نہیں جانا؟”
اور تیسری آواز… وہ ہوتی ہے قیامتِ صغریٰ!
بستر سے اٹھتے وقت ایسی کیفیت ہوتی ہے جیسے کسی کو جلاوطنی پر بھیجا جا رہا ہو۔ وضو بھی ایسے کیا جاتا ہے جیسے کوئی رسمِ مجبوری ادا کی جا رہی ہو، اور چہرہ دیکھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ دل ابھی تک وادیِ تعطیلات میں ہی مقیم ہے۔
کتابیں، جو دو ماہ سے الماری میں گوشہ نشین تھیں، آج بڑے فخر سے نکالی جاتی ہیں۔ مگر طالبِ علم کے دل کی کیفیت کچھ یوں ہوتی ہے:
"اے کتبِ عزیز! تم سے ملاقات ہماری مرضی سے نہیں، بلکہ حالات کے جبر سے ہو رہی ہے!"
مدرسہ پہنچتے ہی پہلا منظر:
دوست ایک دوسرے کو دیکھ کر ایسے مسکرا رہے ہیں جیسے ہم دردِ مصیبت مل گئے ہوں۔ ہر ایک کی آنکھوں میں ایک ہی سوال:
"بھائی! یہ سب اچانک کیسے ہوگیا؟"
پھر استادِ محترم جلوہ افروز ہوتے ہیں، اور پہلا جملہ ارشاد فرماتے ہیں:
"چھٹیوں میں کیا پڑھا؟"
یہ سوال طالبِ علم کے دل پر ایسا اثر کرتا ہے جیسے کسی نے زخمِ کہنہ کو تازہ کردیا ہو۔ دل چیخ چیخ کر کہتا ہے:
"حضور! ہم نے تو صرف نیند کے مختلف اسباق یاد کیے ہیں!"
کچھ طلبہ تو بڑی جرأتِ رندانہ سے جواب بھی دیتے ہیں:
"حضرت! نیت تو بہت تھی، مگر حالات سازگار نہ تھے!"
حالانکہ حالات کا مطلب صرف یہی ہوتا ہے کہ نیند غالب آگئی تھی! 😄
الغرض، اب وہی پرانا نظام بحال ہوچکا ہے۔ سبق یاد کرنا، سبق سنانا، ڈانٹ کھانا، اور دل ہی دل میں اگلی چھٹیوں کے خواب دیکھنا!
مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ قیدِ مدرسہ دراصل ایک ایسی آزادی کا پیش خیمہ ہے جو انسان کو علم، شعور اور کامیابی کی بلند منزلوں تک پہنچاتی ہے۔
البتہ…
یہ فلسفہ طلبہ کو اُس وقت سمجھ آتا ہے جب اگلی چھٹیاں قریب آتی ہیں! 😄
محمد مصعب پالنپوری