Translation unavailable. Showing original.
دوامِ عمل ہی کام یابی کا راز !
28 مارچ، 2026
مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند میں سالانہ امتحان کی تیاری کے پیش نظر جیسے ہی انجمن کے تحت ہونے والے ہفتہ وار پروگراموں کا سلسلہ موقوف ہوتا ہے، فوراً ہی مضمون نگاری کا سلسلہ بھی منقطع ہو جاتا ہے ، اور پھر اس کارواں کو آگے بڑھانے کے لیے کافی ہمت اور پختہ عزم و ارادہ درکار ہوتا ہے؛ لیکن اس ارادے کو عملی جامہ پہناتے پہناتے تعلیمی ایام دوبارہ شروع ہو ہی جاتے ہیں ، اس طرح تقریباً دو ماہ کا طویل عرصہ بنا قلم اٹھائے گزر جاتا ہے ، اتنی لمبی مدت کے بعد قلم کو جنبش دینا اور منتشر خیالات کو یکجا کر کے اوراق کے حوالے کرنا کوئی اسان کام نہیں ہوتا ۔
میرا بھی حال یہی ہے کہ مضمون نگاری کا جو شوق آغازِتعلیم سے ہی سمایا تھا ، وہ شوق تو سلامت رہا ؛ لیکن ٹوٹے پھوٹے انداز میں لکھنے کا جو سلسلہ جاری تھا، وہ سالانہ امتحان کے قریب بالکل ختم ہو گیا ، ایامِ تعطیل میں جو کچھ لکھنے پڑھنے کا ارادہ لے کر گھر آیا تھا ، اولا تو دل دوز اور اچانک پیش آمدہ حادثات نے اس ارادے پر پانی پھیر دیا، اور پھر تراویح اور فصل کی کٹائی کی الجھن نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔
اب بہت دنوں کے بعد خداوندِ قدوس کی جانب سے قلم اٹھانے کی توفیق ہوئی ، تو کچھ لکھ نہیں پا رہا ہوں ، الفاظ ساتھ نہیں دے رہے ہیں ، ذہن منجمد سا ہو گیا ہے ، کسل مندی اور سستی سر پر سوار ہے اور قلم اٹھانا کسی وبال جان سے کم نہیں لگ رہا ہے ۔ ایسے میں وجہِ تخلیقِ کائنات جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان”أحَبُّ الأعمالِ إلى اللهِ أدومُها وإن قَلَّ “
(معرفة السنن والآثار ٥١٩٧) کی حقیقت و معنویت اور زیادہ واضح ہوجاتی ہے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ کیوں قرار دیا ، جس پر دوام اور ہمیشگی اختیار کی گئی ہو ؟ اس لیے کہ جب درمیان میں سستی و کاہلی اور غفلت حائل ہوجائے ، تو ازسرنو کسی کام کے لیے کمر کسنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ اس لیے چاہے کوئی بھی کام ہو، قطع نظر اس کے کہ وہ چھوٹا ہے یا بڑا ، اس کو مسلسل کرتے رہنا چاہیے، چاہے رکاوٹوں کے پہاڑ ہی راہ میں کیوں حائل نہ ہو جائیں ۔ تمام رکاوٹوں، تمام موانع اور جملہ حوادثات کا سامنا کر کے اس کام کو پابندی اور دوام کے ساتھ کرتے رہنا چاہیے، تب ہی جا کر کشتی کشتی ساحل سمندر پر پہنچ سکتی ہے ، اورہم کام یابی سے ہم کنار ہوسکتے ہیں ۔
✍️: محمد شاہد گڈاوی