جہادی داستانیں
مجاہدہ
حماس........
1983 میں وہ پانچ سال کی معصوم بچی تھی اس سال دو واقعات ہوئے تھے دونوں واقعات زندگی کی آخری رات تک شیشے پر پڑے بال کی طرح اسکے خافظے میں محفوظ رہے وہ بچی تھی چینی کی نرم اور نازک گڑیا کی طرح فلسطین کے شہر غزہ کی پٹی پر انکا گھر ہوتا تھا وہ اپنی ماں کے ساتھ گھر سے مارکیٹ کی طرف چلی گئ اسکی ماں کے ہاتھ میں کجھور کے پتوں کی ٹوکری تھی اچانک شور اٹھا دو نوجوان لڑکے بھاگتے ہوئے مارکیٹ میں داخل ہوئے ان کے جس سے خون نکل رہا تھا کپڑے پھٹے ہوئے تھے ابھی چند ہی لمحے گزرے تھے کے گولی چلنے کی آواز آئی کمانڈرز مارکیٹ میں داخل ہوئے انہوں نے لوگوں کو فرش پر لیٹنے کا حکم دیا اسکی ماں نے چینخ ماری اسے اٹھا کر فرش پر گرایا اور خود اسکے اوپر لیٹ گئی گولیاں چلنے کی آواز آئی انتہائی خوفناک چیخیں ابھریں ایک سیال مادہ سا اسکے کپڑوں اور بالوں اور اسکے چہرے کو رنگتا ہوا چلا گیا مارکیٹ سے "موو" کی گرجدار آواز آئی لوگ جلدی سے باہر نکلنے لگیں مگر وہ بچی "موو" کا مطلب نہیں سمجھتی تھی لہذا اس نے مڑ کر آخری بار ان دو نوجوانوں کو دیکھا جو فرش پر گرے پڑے تھے انکے جسم سے خون ابل ابل کر زمین پر رینگ رہا تھا اس نے خوف اور دہشت سے وہ اپنی ماں کے سینے میں چھپ گئ یہ اسکی زندگی کی پہلی بے ہوشی تھی اسکی ماں بتاتی تھی کے ہفتہ ہفتہ بے ہوشی کا شکار رہی اسے شدید بخار تھا اس بخار نے مرتے دم تک اسکا ساتھ نا چھوڑا جب بھی گولی کی آواز آتی کوئ چیںخ سنتی اسکا جسم بخار میں جلنے لگتا وہ ہفتوں نیم بے ہوشی میں پڑی رہتی- وہ تندرست ہوئ تو دو نعشیں اور خون میں بھیگا ایک فراک اسکا اثاثہ ہو گیا یہ فراک بھی زندگی کی آخری سانس تک اسکے ساتھ رہا تھا بلکہ جب اس نے "شہید مجاہدہ" کا رتبہ حاصل کیا تو یہ فراک بھی اسکے جسم پر بندھا ہوا تھا ۔۔ جب اس نے ماں سے ان دونوجواں کے بارے میں پوچھا اس ماں نے "اللّٰہ کے دوست" کہہ کر چپ کروا دیا ۔۔
دوسرا واقعہ اسی سال اکتوبر میں اسکے گھر تھوڑا دور بستی میں ہوا چند فلسطینی نوجوانوں نے ٹرک میں بارود میں بارود بھرا اور وہ ٹرک بیروت کے امریکی ہیڈکوارٹر سے جا ٹکرایا ایک فلک شگاف دھماکہ ہوا سیکڑوں اسرائیلی ہلاک ہو گئے دھماکے کے چند گھنٹے بعد اسرائیلی فوجیوں نے اس بستی کو گھیرے میں لے لیا اور سب کو کھلے آسمان تلے اکھٹا کیا اور دو درجن نوجوانوں کو الگ کیا انہیں سب کے سامنے گولی مار دی ساتھ ہی حکم دیا سب لوگ مسلسل دو گھنٹے ان نعشوں سے نظریں نہیں ہٹائیں گیں- .ورنہ وہ خود نعش بن جائے گا اس نے ایک بار پھر ماں کے سینے میں پناہ لے لی- دو ہفتے بعد جب اسکی حالت سنبھلی تو اس نے ماں سے پوچھا میدان میں پڑی نعشیں کن کی تھی؟ ماں نے آہستہ سے کہا "اللہ کے دوستوں کی" اس کے ننھے معصوم ذہن سے سوال ابھرا اللہ کے دوستوں کو کس نے مارا؟ ماں نے جواب دیا- "اللّٰہ کے دشمنوں نے" یہ اس کی معصوم ذہن کی دوسری یاد تھی جو اس کی زندگی کی آخری سانس تک ساتھ رہی--
    *حماس میں شمولیت*
بہت بعد جب سولہ سال کی عمر میں اس نے "حماس" میں شمولیت اختیار کی تو اس مے 1983ء کی فائلیں نکلوا کر دونوں واقعات تفصیل سے معلوم کیے اسے معلوم ہوا شہید ہونے والے وہ نوجوان یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔ انہوں نے دوسرے طالب علموں کے ساتھ مل کر پر امن ریلی نکالی، اسرائیلی فوجیوں نے ان کا راستہ روکا انہوں نے پتھراؤ،کیا فوجیوں نے آنسو گیس کے شیل چلائے نوجوان بھاگ کھڑے ہوئے ۔ یہ دونوں نوجوان کمانڈوز کے نرغے میں اگئے۔ان سے جھڑپ ہوئ یہ وہاں سے بچ کر مارکیٹ پہنچ کر مارے گئے یہ فلسطینی تحریک کے ابتدائی شہیدوں میں سے تھے ۔
      *دوسرا اہم واقعہ:*
دوسرا واقعہ بیروت میں پیش آیا ۔ بیروت میں امریکہ اور اس کے اتحادی آبیٹھے انہوں نے کیمپ بنا رہے تھے ۔
کچھ نوجوانوں نے انہیں بیروت سے نکالنے کا فیصلہ کیا امریکہ کے پاس بھی اسلحہ زیادہ تاج اور وسائل بھی انکے کے پاس کچھ نوجوان تھے ان نوجوانوں نے فدائیوں کا اسکواڈ بنایا اسے امریکیوں کو پبنا سے نکالنے کا ٹارگٹ دیا ان فدائیوں نے تین بڑے آپریشن کیے ایک فدائی نے 18 اپریل 1983 کو دو سو کلو گرام بارود بھرا اس پر لوہے کے ٹکڑے بچھائے،ٹرک کے تمام کیل،پیچ اور قبضے نرم کر کئے اور وہ ٹرک بیروت میں موجود امریکی سفارتخانے سے جا ٹکرایا۔ دھماکہ ہوا 65 امریکی اہلکار ہلاک ہو گئے ہلاک ہونے والوں میں سی آئی اے کا ڈائریکٹر بھی شامل تھا۔ 120 زخمی ہوئے جن میں 57 باقی زندگی معذوری میں گزار دی ۔ دورے واقعات میں 23 اکتوبر 1983 کو ہوئے ۔ دو فدائیوں نے ٹرکوں میں بارود بھرا ایک ٹرک امریکی ہیڈکوارٹر سے جا ٹکرائا دوسرا ٹرک بیروت میں موجود فرانسیسی کیمپ سے جا ٹکرایا اس دھماکے میں 61 فرانسیسی فوجی ہلاک ہو گئے تین سو گیارہ زخمی ہوئے۔ ان دھماکوں کا فوری طور پر اثر ہوا۔ نومبر 1983 کے پہلے عشرے میں امریکا اور فرانس نے بیروت خالی کر دیا ۔
      *فدائی بننے کا فیصلہ* 
اس نے یہ واقعات پڑھنے کے فوراً بعد *"فدائی"* بننے کا فیصلہ کیا ۔ یوں جنوری 2000 میں فلسطینی تنظیم حماس میں فدائی سیکشن بنا اور وہ اس سیکشن کی امیر بنی ۔
    *وفا ادریس نے فدائی حملہ* *کر کے ایک مثال قائم کر* *دی*
یہ کہانی نابلس کی النجاہ یونیورسٹی کی گریجویٹ وفا ادریس کی ہے ۔ وفا ادریس نے 27 جنوری 2002 کو بیت المقدس میں فدائی حملہ کر کے فسلطینی تحریک کو نیا موڑ دیا ۔ اس مجاہدہ کی شہادت کے بعد فلسطین میں فدائیوں کے تیرہ اسکواڈ سامنے آئے جن میں بیسوں نوجوانوں نے بھارتی ہو کر وفا ادریس کا کشن جاری رکھنے کا عزم کیا۔ جنوری 2002 سے 9 مئی تک اسرائیلی علاقوں میں 21 فدائی حملے ہوئے جن میں مجموعی طور پر 231 اسرائیل مارے گئے جبکہ 514 زخمی ہوئے۔ ان حملوں سے اسرائیل کا سیکورٹی بجٹ دوگنا ہو گیا۔ امریکہ نے اپنا ایک سیٹلائٹ اسرائیل کے لئے مختص کر دیا جو چوبیس گھنٹے اسرائیل کو فوکس کر کے بارود کی نقل و حرکت کی اطلاع دیتا رہتا ہے ۔ اسرائیل نے بازاروں شاپنگ سینٹروں ریلوے اسٹیشنوں مارکیٹوں پارکوں میں سیکورٹی آلات لگا دیئے۔ لیکن اس کے باوجود فدائی حملوں میں کمی واقع نہیں ہوئی ہوئی۔ روز کسی نا کسی جگہ فلسطینی نوجوان سامنے آتا ہے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتا ہے اپنے پیٹ پر بندھے بم کا دھماگہ کھینچ کر بیسوں اسرائیلیوں کو اڑا دیتا ہے ۔ 
فدائی حملوں نے پوری دنیا کا مزاج بدل کر رکھ دیا ۔

آئیے ہم بھی یہ عہد کرتے ہیں کہ اسلام کی خاطر 
شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر 
مسجد اقصیٰ کی خاطر 
اپنے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کروانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے