کن لوگوں کی عید واقعی عید ہے؟ 
امیدِ قوی ہے کہ آپ سب حضرات خیر و عافیت کے ساتھ ہوں گے۔ ہم سب اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ عید کے بابرکت اور مسرت بھرے لمحات نہایت قریب آ چکے ہیں، گویا چند گھڑیاں، چند لمحے بلکہ شاید ایک دن ہی باقی رہ گیا ہے۔ ایسے نازک اور اہم موقع پر دل یہ چاہتا ہے کہ کچھ باتیں آپ حضرات کی خدمت میں پیش کی جائیں، تاکہ ہم سب نہ صرف عید کی تیاری کریں بلکہ اپنے اعمال، اپنی نیتوں اور اپنی عبادتوں کا بھی گہرائی کے ساتھ جائزہ لے سکیں اور یہ سمجھ سکیں کہ عید کی اصل خوشی کن لوگوں کے لیے ہے۔
سب سے پہلی اور نہایت اہم بات یہ ہے کہ آخر عید منانے کا حق دار کون ہے؟ کون لوگ ہیں جن کی عید واقعی عید ہوتی ہے اور کن لوگوں کے لیے یہ صرف ایک رسم یا ظاہری خوشی بن کر رہ جاتی ہے؟ اگر ہم انصاف کے ساتھ اپنے دل سے پوچھیں تو جواب بالکل واضح ہے کہ عید انہی لوگوں کی ہے جنہوں نے رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت ایام کو صحیح معنوں میں اللہ کی رضا کے لیے گزارا ہو۔ وہ خوش نصیب لوگ جنہوں نے خلوصِ دل کے ساتھ روزے رکھے، شریعتِ مطہرہ کے احکام کی پابندی کی، پانچ وقت کی نماز کو وقت کی پابندی کے ساتھ ادا کیا، باجماعت نماز کا اہتمام کیا، تراویح کو تسلسل کے ساتھ ادا کیا اور ایک بھی رکعت کو ہلکا نہیں سمجھا، اور جنہوں نے آخری عشرے میں اعتکاف کی سعادت حاصل کر کے خود کو اللہ کی عبادت میں مشغول رکھا یقیناً یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے عید ایک حقیقی خوشی اور انعام کی صورت رکھتی ہے۔
یہی نہیں بلکہ وہ حضرات جنہوں نے رمضان کے پورے مہینے میں اپنے نفس کو قابو میں رکھا، گناہوں سے بچنے کی کوشش کی، اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم کے آگے جھکا دیا، اور اللہ و رسول کی اطاعت میں پورے اخلاص کے ساتھ عبادت کرتے رہے، قرآنِ مقدس کی تلاوت کو اپنا معمول بنایا، اپنی زبان، اپنی نگاہ اور اپنے دل کی حفاظت کی دراصل یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں امید کی جا سکتی ہے کہ ان کے اعمال بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئے ہوں گے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ عید اسی قبولیت کا ایک ظاہری اظہار ہے، گویا عید انعام ہے اُن عبادتوں کا جو رمضان میں کی گئیں۔
یعنی جن کے روزے قبول ہوئے، جن کی نمازیں قبول ہوئیں، جن کی تراویح اللہ کے ہاں مقبول ٹھہری، جن کا اعتکاف خالص اللہ کی رضا کے لیے تھا اور قبول ہوا، اور جنہوں نے پورا رمضان شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے گزارا۔ اصل میں عید منانے کا حق انہی لوگوں کو ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے چہروں پر عید کی خوشی حقیقی معنوں میں سجتی ہے، کیونکہ ان کے دل مطمئن ہوتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے حکم کو بجا لانے کی کوشش کی۔
ہمارے معاشرے کا ایک نہایت افسوسناک اور قابلِ غور پہلو یہ بھی ہے کہ دین کو ہم نے سنجیدگی کے بجائے رسم و رواج تک محدود کر دیا ہے۔ عبادت کا اصل مقصد، اس کی روح اور اس کی حقیقت کہیں پیچھے رہ گئی ہے، جبکہ ظاہری نمائش اور وقتی جذبات نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی اصل ذمہ داریوں سے غافل ہو کر صرف وہ چیزیں اختیار کر لیتا ہے جو آسان ہوں، جن میں محنت کم ہو اور دکھاوا زیادہ ہو۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور یہ دیکھیں کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ کیا ہم واقعی اللہ کی رضا کے لیے جیتے ہیں یا پھر ہم نے دین کو بھی اپنی سہولت کے مطابق ڈھال لیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جب انسان اپنے نفس کی پیروی کرنے لگتا ہے تو پھر وہ آہستہ آہستہ صحیح اور غلط میں فرق کھو دیتا ہے۔ اسے وہی چیز اچھی لگتی ہے جو اس کے مزاج کے مطابق ہو، چاہے وہ دینی اعتبار سے کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔
اسی لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ وقت نکال کر خاموشی کے ساتھ اپنے دل سے سوال کرے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ وہ کس راستے پر چل رہا ہے؟ اس کے دن اور رات کن کاموں میں گزر رہے ہیں؟ کیا اس کے اعمال اسے اللہ کے قریب کر رہے ہیں یا اس سے دور لے جا رہے ہیں؟ یہ سوالات بظاہر سادہ ہیں لیکن اگر انسان ایمانداری کے ساتھ ان پر غور کرے تو اس کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔
یہ دنیا ایک عارضی ٹھکانہ ہے، یہاں کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ نہ دولت ساتھ جائے گی، نہ شہرت، نہ عہدہ اور نہ ہی کوئی رشتہ انسان کے ساتھ اگر کچھ جائے گا تو وہ اس کے اعمال ہوں گے۔ اسی لیے سمجھدار وہی ہے جو اپنی آخرت کی تیاری کرے، اپنے ہر قدم کو سوچ سمجھ کر اٹھائے اور یہ خیال رکھے کہ اسے ایک دن اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اصلاح صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اپنے گھر، اپنے بچوں اور اپنے اردگرد کے ماحول تک بھی اس کا اثر پہنچانا چاہیے۔ ایک اچھا انسان وہی ہے جو نہ صرف خود سیدھے راستے پر چلے بلکہ دوسروں کے لیے بھی آسانی اور بھلائی کا ذریعہ بنے۔ اپنے گھر میں اچھا ماحول قائم کرنا، بچوں کو دین کی صحیح تعلیم دینا، اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا یہ سب ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
مزید یہ کہ انسان کو اپنی زبان، اپنے رویّے اور اپنے معاملات پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عبادتیں تو کی جاتی ہیں لیکن اخلاق درست نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے انسان دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بن جاتا ہے۔ یاد رکھیں، نرم مزاجی، سچائی، امانت داری اور حسنِ سلوک وہ صفات ہیں جو انسان کو حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جھوٹ، دھوکہ، حسد، بغض اور تکبر انسان کے اعمال کو برباد کر دیتے ہیں اور اسے اندر سے کھوکھلا بنا دیتے ہیں۔
زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، نہ یہ معلوم ہے کہ کب اور کہاں اس کا اختتام ہو جائے۔ اسی لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان ہر حال میں خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہے، اپنے گناہوں پر ندامت محسوس کرے اور بار بار اللہ کی طرف رجوع کرے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ اپنے بندے کی ایک سچی توبہ کو بھی قبول فرما لیتا ہے، بشرطیکہ دل میں اخلاص ہو اور ارادہ پختہ ہو۔
آخر میں یہی عرض ہے کہ ہم سب کو چاہیے کہ اپنی زندگی کو سنوارنے کی فکر کریں، اپنے اندر عاجزی پیدا کریں، اور ہر حال میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھیں۔ یہی راستہ کامیابی کا ہے، یہی سکون کا ذریعہ ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ، نیک عمل اور اخلاصِ نیت عطا فرمائے، اور ہمیں اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 

تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری 
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا 
22/03/2026