ایک روایت میں آیا ہے کہ جہنمی جہنم میں ایک ہزار سال تک روتے رہیں گے، حتی کہ ان کی آوازیں کتوں کے بھونکنے جیسی آوازیں بن جائیں گی، مگر اللہ رب العزت کو پھر بھی ترس نہیں آئے گا۔
اے دوست! آج تیری آنکھ کا ایک آنسو اللہ کی رحمت کو کھینچ سکتا ہے، تو دو آنسو بہائے گا تو اللہ تعالی تیرے گناہوں کو دھو کر رکھ دیں گے، اگر آج اس دنیا میں نہیں روئے گا تو پھر جہنم میں ہزاروں سال رو رو کر بھونکنے والے کتوں جیسی آواز بن جائے گی مگر اللہ تعالی کو پھر بھی رحم نہیں آئے گا.

جہنم کی ایک غار کا منظر:

حضرت عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ جہنم میں کچھ غار بنے ہوں گے جن میں بچھو ہوں گے، ایک آدمی کو فرشتہ پکڑ کر اس بچھوؤں والی غار میں لے جائے گا، وہ اس غار کا دروازہ کھول کر اس آدمی کو اندر دھکیل دے گا اور دروازے کو بند کر دے گا، کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ بچھو اس آدمی کے جسم پر ایسے چڑھ دوڑیں گے جس طرح شہد کے چھتے پر شہد کی مکھیاں بیٹھی ہوتی ہیں، اتنے بچھو ایک وقت میں اس کے جسم پر کاٹیں گے، یہ روئے گا، چلّائے گا، فریادیں کرے گا، مگر وہاں تو کوئی فریاد سننے والا نہیں ہوگا، کوئی آنے والا نہیں ہوگا، اکیلا ہوگا۔
آج تو ایک مکھی کاٹتی ہے تو اتنا واویلا کرنا شروع کر دیا جاتا ہے، کل اتنے بچھو کاٹیں گے مگر اس وقت یہ ہزاروں سال تک تکلیف برداشت کرنی پڑ جائے گی، سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج تو انسان معمولی لذتوں کی خاطر، معمولی آسائشوں کی خاطر، معمولی نفس پرستی کی خاطر آخرت کے ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب کو گلے لگا لے تو پھر اس سے زیادہ بدبختی اور شقاوت کیا ہو سکتی ہے. (اللھم احفظنا منه)

از: حضرت مولانا پیر ذوالفقار صاحب نقشبندی دامت برکاتہم