سلیقے سے ہواؤں میں وہ خوشبو گھول سکتے ہیں 
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں 

محترم قارئین! اردو برصغیر پاک و ہند کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے۔ جبکہ بھارت کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ 2001ء کی مردم شماری کے مطابق اردو کو بطور مادری زبان بھارت میں 5.01 فیصد لوگ بولتے ہیں اور اس لحاظ سے ہی بھارت کی چھٹی بڑی زبان ہے۔ جبکہ پاکستان میں اسے بطور مادری زبان 9.25 فیصد لوگ استعمال کرتے ہیں یہ پاکستان کی پانچویں بڑی زبان ہے۔ زبان اردو کو پہچان و ترقی اس وقت ملی جب برطانوی دور میں انگریز حکمرانوں نے اسے فارسی کے بجائے انگریزی کے ساتھ شمالی ہندوستان بطور دفتری زبان نافذ کیا۔ سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں: 
" اردو زبان کا پیدا ہونا کسی ایک قوم یا قوت کا کام نہیں بلکہ یہ مختلف قوموں اور زبانوں کے میل جول کا ناگزیر اور لازمی نتیجہ ہے "
ہندوستان بھر میں اردو زبان کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انگریزوں نے اپنے اہلکاروں کو اردو زبان سکھانے کے لیے 1820ء میں لندن میں ایک کالج ادارہ شرفیہ قائم کیا جبکہ 1800ء میں فورٹ ویلیم کالج کولکاتہ کا قیام بھی اسی غرض و غایت سے عمل میں لایا گیا تھا۔ پروفیسر رنگا لکھتے ہیں:
" اردو ایک تہذیبی زبان ہے اس کو برقرار رکھنا چاہیے یہ دستور کی چودہ زبانوں میں سے ایک ہے "
مہاتما گاندھی نے کہا ہے:
" میں اردو کی ترقی چاہتا ہوں میرا خیال ہے کہ سب ہندوستانی اردو سیکھیں "
اردو زبان کو چار چاند لگانے میں شاعروں، ادیبوں، مفکروں، علماء اخبارات، ریڈیو، اور کشمیر وغیرہ نے زبردست کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔
اور علماء کرام نے اس زبان کو تدبر اور سائنستگی سے مزین کیا ہے۔