🥰
*شہزادوں کا امتحان*
*(بچوں کے لیے دل چسپ ، حیرت انگیز اور سبق آموز کہانی )*
*قسط نمبر 10*
دریا پر جانے کے بعد شہزادہ اس کے پانی سے فائدہ اُٹھانے کے بارے میں سوچتا رہتا تھا۔ ایک دن اچانک اُس کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی۔ وہ دریا کے کنارے پر بلندی کی جانب چلنے لگا۔ چلتے چلتے وہ ایک ایسی جگہ پہنچ گیا جو اس کی بستیوں سے اونچی تھی۔ یہاں سے ساری بستیوں کو آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا۔ اُس کے دماغ میں جو ترکیب آئی تھی، اُسے عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا تھا۔ اگلے دن اُس نے اپنے منصوبے کے مطابق ساری بستیوں میں ہر گلی کے سامنے دو چھوٹی چھوٹی نالیاں اور درمیان میں نہریں کھودنے کا آغاز کر دیا۔ ان کے مکمل ہونے میں صرف ایک ہفتہ صرف ہوا۔ شہزادے نے ان کا جائزہ لیا۔ ہر بستی کی نہروں اور نالیوں کا رُخ دریا کی طرف تھا۔ اس کے بعد شہزادے نے ہر بستی کے باہر ایک بڑا سا تالاب بنوایا جس میں پانی ذخیرہ ہو سکتا تھا۔ وہ اس سارے کام کا روزانہ جائزہ لیتا رہتا اور اس میں بہتری لاتا رہتا۔ بستی کے لوگ اس منصوبے کے مقصد سے لاعلم تھے۔ آخر ایک دن شہزادے نے ساری بستیوں سے اہم لوگوں کو دعوت پر بلایا۔ اس نے اُن کو بتایا کہ ہم دریا کے پانی کا رُخ موڑ کر اسے ان نہروں اور نالیوں سے گزاریں گے جو بستیوں کے گھروں اور گلیوں میں بنائی گئی ہیں۔ اس سے عورتوں کو پانی لانے کے لیے جو مشقت اٹھانی پڑتی ہے، وہ اس سے بچ جائیں گی اور کھیتوں کے لیے بھی ہر وقت پانی دستیاب ہوگا۔ جب شہزادے کے منصوبے کے بارے میں لوگوں کو علم ہوا تو وہ شہزادے کی بہادری کے ساتھ اُس کی عقل مندی کے بھی قائل ہو گئے۔ پھر ایک دن بہت سے لوگوں کی ایک جماعت نے ایک اونچی جگہ سے دریا کے کچھ پانی کا رُخ بڑے تالاب کی طرف موڑ دیا۔ پانی اپنی پوری رفتار سے تالاب میں جمع ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بستیوں کی گلیوں میں بنی ہوئی نہروں میں بہنے لگا۔ بستیوں کے لوگوں کے دلوں سے شہزادے کے لیے بے اختیار دعائیں نکلنے لگیں۔ شہزادے کے اس اقدام سے بستیاں تیزی سے ترقی کرنے لگیں۔
ایک دن شہزادہ اپنے لیے بنائے گئے محل میں جنگی مشقیں کر رہا تھا۔ موسم بڑا سہانا ہو رہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آج شکار کے لیے پہاڑوں کی طرف جائے گا۔ اسی اثنا میں اُس کا خاص آدمی گھبرایا ہوا اندر داخل ہوا:
"جناب! ایک بری خبر ہے۔"
شہزادہ مشق چھوڑ کر اُس کی طرف متوجہ ہوا:
"کیا ہو گیا ہے؟ کیا کوئی آفت آگئی ہے؟"
شہزادے نے مذاق کے لہجے میں کہا تو وہ آدمی بولا:
"جناب! دریا پار کے ملک سے بادشاہ کا ایلچی آیا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ ان بستیوں کی حکومت ہمارے حوالے کر دی جائے، دوسری صورت میں وہ ہمیں نیست و نابود کر دے گا!"
فوراً یہ سن کر شہزادے نے کہا کہ ایلچی کو فوراً میرے سامنے حاضر کیا جائے۔ چند لمحوں بعد ایک آدمی اندر داخل ہوا۔ اس نے بہت قیمتی لباس پہن رکھا تھا اور چہرے سے مکار نظر آتا تھا۔
"کہو، کیا کہنا چاہتے ہو؟" شہزادے نے بیٹھتے ہوئے سوال کیا۔
وہ آدمی تکبر سے بولا:
"میں دریا پار کے ملک سے آیا ہوں اور وہاں کے بادشاہ کا خاص ایلچی ہوں۔ بادشاہ کا حکم ہے کہ آپ یہاں کی حکومت ہمارے حوالے کر دیں، اسی میں آپ کا فائدہ ہے۔"
اس کی باتیں سن کر شہزادے کو خطرے کا احساس ہونے لگا:
"اگر ہم ایسا نہ کریں تو تمہارا بادشاہ ہمارا کیا بگاڑ لے گا؟"
شہزادے نے اسے غصہ دلا کر ان کا منصوبہ جاننے کی غرض سے کہا۔
وہ بولا:
"ہمارا بادشاہ بہت طاقت ور ہے، اور اُس کے پاس جادوگروں کی طاقت بھی ہے، جو اپنے جادو کے زور سے ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔"
اس نے فخر سے کہا اور شہزادہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ایک نیا اور مشکل امتحان اس کے سامنے کھڑا تھا۔
*بادشاہ کی دعا*
بادشاہ کو اپنا تخت و تاج چھوڑے ہوئے پانچ مہینے ہو چکے تھے۔ بادشاہ اور ملکہ ایک ایک دن گن کر گزار رہے تھے۔ محنت مزدوری کرتے کرتے دونوں کی حالت خراب تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کہیں میں نے شہزادوں کو امتحان میں ڈال کر غلطی تو نہیں کر دی؟ ملکہ اس کی ڈھارس بندھاتی، مگر بادشاہ ہر وقت شہزادوں کو یاد کرتا رہتا۔ اسے اپنے ملک کے خراب ہوتے ہوئے حالات اور رعایا کی فکر تھی۔ ملک میں امن و امان کی حالت خراب تھی۔ غذاروزیر کے لوگ رعایا کو ناحق تنگ کرتے تھے اور اُن کی جائیدادوں پر قبضہ کر لیتے تھے۔ جب بادشاہ کسی گاؤں یا شہر کی طرف ہو جاتا تو لوگ اُسے یاد کر رہے ہوتے۔ وہ دعا کرتے کہ اللہ انہیں اپنا بادشاہ دوبارہ واپس کر دے۔ بادشاہ اپنی رعایا سے بہت محبت کرتا تھا لیکن انہیں اپنا راز بتانے سے قاصر تھا۔
اب تو غذاروزیر کے ساتھی سرِ عام دن کے وقت بھی لوٹ مار کرنے لگے تھے اور جو شخص مزاحمت کرتا، اُسے قتل کرنے سے بھی دریغ نہ کرتے۔ بادشاہ سے رعایا کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی تھی اور وہ اپنے آپ کو اس ساری صورت حال کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔ رات کو اپنی کٹیا میں واپس آ کر وہ زار و قطار روتا اور اللہ سے مدد کی دعا کرتا۔ چھے مہینے پورے ہونے میں کچھ زیادہ دن باقی نہیں تھے۔ اسے معلوم تھا کہ جب شہزادے واپس آئیں گے تو ان تینوں میں بہادری، عقل مندی اور رحم دلی جیسی تمام خصوصیات پیدا ہو چکی ہوں گی۔
*رحم دل شہزادہ اور ناگ جن*
تلوار رحم دل شہزادے سے تھوڑی دور گری تھی۔ اندھیرے کی وجہ سے صرف دو چیزیں نظر آ رہی تھیں۔ ایک تلوار اور دوسری ناگ کی غصیلی آنکھیں۔ شہزادے اور تلوار کے درمیان کالا ناگ پھن پھیلائے کھڑا تھا اور کسی بھی لمحے اُسے ڈس سکتا تھا۔ موت کو سامنے دیکھ کر شہزادے میں طاقت آ گئی۔ جب ناگ نے اُسے ڈسنے کے لیے چھلانگ لگائی تو شہزادے نے آخری کوشش کے طور پر کھسک کر تلوار کی طرف چھلانگ لگا دی۔ ناگ اپنے ہی زور میں غار کی دیوار سے جا ٹکرایا۔ اس دوران شہزادے نے تلوار پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس نے فوراً ناگ کی دم پر تلوار کا وار کر دیا۔ دم کٹتے ہی غار میں بھونچال آ گیا۔ ہر طرف "آدم بو، آدم بو، آدم بو" کی آوازیں گونجنے لگیں۔ شہزادہ سمجھ گیا کہ ناگ کے زخمی ہوتے ہی جن کو اس کی خبر ہو گئی ہے اور وہ یہاں پہنچنے والا ہے۔ اس کی جان ناگ میں تھی اور اب ناگ کا خاتمہ جلد از جلد کرنا تھا۔ زخمی ناگ بل کھا کر مڑا اور شہزادے پر چھلانگ لگا دی۔ شہزادے نے اُس کی آنکھوں کا نشانہ لے کر تلوار کو پوری طاقت سے گھمایا۔ ناگ کا سر کٹ کر اندھیرے میں غائب ہو گیا اور ہر طرف سے پتھر گرنے لگے۔ شہزادہ غار کے دہانے پر تھا۔ وہ غار سے باہر کود گیا۔ باہر بھی ایک طوفان کا سماں تھا۔ تیز ہواؤں کے بگولے اُٹھ رہے تھے، جو آسمان کی بلندی تک جاتے تھے۔ زمین ہلنے لگی اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ٹوٹ ٹوٹ کر اُڑنے لگے۔ شہزادے کے ذہن پر بھی تاریکی چھانے لگی اور پھر وہ چکرا کر گر پڑا۔ اُسے کسی چیز کا کوئی ہوش نہ رہا تھا۔
*را بیل جادوگر کا خوفناک منصوبہ*
رحم دل شہزادے کی روانگی کے بعد را بیل کے دربار میں نامی گرامی جادوگر جمع تھے۔ وہ شہزادے کو ظالم جن کی جان والے کالے ناگ کے خاتمے کے لیے چھوڑ آئے تھے۔ انہیں شہزادے کی کامیابی کا پورا یقین تھا۔ اس کامیابی کے بعد وہ اپنا آئندہ کا منصوبہ بنانے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ ایک جادوگر نے را بیل کو دریا کے پار بننے والی نئی بستیوں کے بارے میں بتایا تھا۔ اس کے مطابق یہ بستیاں چار پانچ مہینوں کے اندر اندر مال و دولت سے بھر گئی تھیں۔ وہاں کی بستیوں کا بادشاہ ایک نوجوان تھا، جس نے ان سب کو متحد کر دیا تھا۔ اس جادوگر نے دریا کے پار آباد بستیوں کی تمام خصوصیات سے را بیل کو آگاہ کیا۔ بستیوں کی فصلوں اور باغات کے بارے میں سن کر را بیل کے شیطانی ذہن میں ایک خطرناک منصوبہ تیار ہو گیا۔
اس نے اپنے خاص خاص جادوگروں کو بلا کر اس منصوبے کو مکمل کرنے کے بارے میں مشورے لینے شروع کر دیے۔ جادوگروں کے استاد نے را بیل کو کہا کہ سب سے پہلے ایک جادوگر کو ایلچی بنا کر وہاں کے نوجوان بادشاہ کے پاس بھیجا جائے۔ اگر وہ خود اپنی بستیاں ہمارے حوالے کرنے پر رضا مند ہو جائے تو ٹھیک ہے۔ دوسری صورت میں ہمارے جادوگروں کی فوج وہاں کے لوگوں پر جادو کر کے انہیں پتھر کا بنا دے گی۔ پھر ان کے دماغ پر قابو پایا جائے گا، جس کی وجہ سے وہ سب ہمارے فرماں بردار بن جائیں گے۔
را بیل کو بوڑھے جادوگر کی تجویز پسند آئی۔ بستیوں کے نوجوان بادشاہ کو پیغام دینے کے لیے ایک مکار جادوگر کو منتخب کیا گیا۔ اسی دوران انہیں جن کی موت کی خبر مل گئی۔ بوڑھا جادوگر خوشی سے ناچنے لگا اور وہاں جشن منایا جانے لگا۔ پھر را بیل کو شہزادے کا خیال آیا۔ بوڑھے جادوگر نے مشورہ دیا کہ اب وہ انسان ہمارے کام کا نہیں رہا، اس لیے اُس کو واپس لانے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن را بیل نے کہا کہ شاید پھر بھی ضرورت پڑ جائے، لہٰذا اسی وقت ایک جادوگر کو شہزادے کی واپسی کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ جلد ہی جادوگر کی واپسی ہو گئی۔ شہزادہ بے ہوش تھا اور جادوگر نے اُسے کندھے پر ڈال رکھا تھا۔ شہزادے کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر سب چونک اٹھے۔ ہر کوئی یہی سمجھ رہا تھا کہ ہو سکتا ہے کسی جادوگر نے اسے تلوار دی ہو، مگر کسی نے تلوار کے متعلق سوال نہیں کیا۔ را بیل کے حکم پر شہزادے کو اسی حالت میں ایک کمرے میں لٹا دیا گیا اور مکار جادوگر پیغام دینے روانہ ہو گیا۔
*جاری ہے ۔۔۔۔۔////*
🌸🤲🌼🌹♥️