دل نہ صرف جسمانی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے بلکہ روحانی اعتبار سے بھی یہ وہ مرکزی مقام ہے جہاں سے ایمان، شعور اور انسانیت کے سوتے پھوٹتے ہیں، اور اس کی پاکیزگی ہی دونوں جہانوں میں اصل کامیابی کی ضامن ہے۔
         انسانی جسم میں دل کی حیثیت ایک بادشاہ کی سی ہے۔ اگر جسمانی دل دھڑکنا بند کر دے تو زندگی کا چراغ گل ہو جاتا ہے، لیکن اگر روحانی دل مردہ ہو جائے تو انسان جیتے جی اپنی حقیقت کھو بیٹھتا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں دل محض خون پمپ کرنے والی مشین نہیں، بلکہ یہ وہ 'آئینہ' ہے جس میں ہماری نیتوں کا عکس دکھائی دیتا ہے۔
جسمانی حیات اور روحانی بقا
          میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ دل کی صحت کا انحصار متوازن غذا اور ورزش پر ہے۔ لیکن خالقِ کائنات کا فرمان ہے کہ روح کی صحت کا دارومدار "ذکرِ الٰہی" اور "صفائیِ معاملات" پر ہے۔ جس طرح شریانوں میں چربی جم جائے تو دل کا دورہ پڑتا ہے، بالکل اسی طرح اگر دل میں کینہ، بغض اور تکبر جم جائے تو روحانی موت واقع ہو جاتی ہے۔

نبی کریم ﷺ کی بصیرت
          رسول اللہ ﷺ نے اس حقیقت کو ایک جامع حدیث میں بیان فرمایا:
"خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست رہتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے۔ سن لو! وہ 'دل' ہے۔" (صحیح بخاری)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ہمارے اخلاق، ہمارا لہجہ (جیسا کہ ساس بہو کے معاملے میں ہم نے دیکھا) اور ہمارے اعمال سب اسی ایک مرکز کے تابع ہیں۔

قرآن کے آئینے میں دل کی اقسام
       قرآنِ مجید ہمیں بتاتا ہے کہ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، سوائے اس کے جو "قلبِ سلیم" (سلامتی والا دل) لے کر آیا۔ اللہ کے نزدیک وہ دل قیمتی ہے جو:
خوفِ خدا سے لرز جائے (قلبِ وجل)
اللہ کی طرف رجوع کرے (قلبِ منیب)
ذکر سے سکون پائے (قلبِ مطمئن)
اس کے برعکس وہ دل جو انا، بدگمانی اور دوسروں کو دکھ پہنچانے میں مصروف ہو، وہ "قلبِ مریض" کہلاتا ہے، جو بظاہر دھڑکتا تو ہے مگر حق کو محسوس کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔

          آج کے دور میں جہاں ہم اپنے چہروں کو نکھارنے اور جسم کو سنوارنے پر گھنٹوں صرف کرتے ہیں، وہاں چند لمحے اپنے "اندر" جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارا دل صاف ہے، تو ہماری زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کسی کی روح کو زخمی نہیں کریں گے، بلکہ مرہم بنیں گے۔

از قلم:زا-شیخ