دل کی فہرست پے توجہ ۔۔

 زندگی کو دشمن مت بناؤ 
زندگی مشکل نہیں تھی۔ ہم نے اسے مشکل بنایا ہے۔
ہم نے معمولی باتوں کو انا کا مسئلہ بنا دیا، چھوٹی غلطیوں کو کردار کا فیصلہ، اور وقتی ناانصافی کو ذاتی جنگ۔
‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌ ‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌  ‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌‌
کسی نے بات کاٹ دی — ہم نے دل میں دشمن پال لی۔
کسی نے آگے بڑھ کر کامیابی لے لی — ہم نے اسے غرور کا نام دے دیا۔
کسی نے ہماری توقع پوری نہ کی — ہم نے اسے اپنی زندگی سے خارج کر دیا۔
تم خود سوچو، کیا واقعی ہر بات کا جواب دینا ضروری ہے؟
کیا ہر چوٹ کا بدلہ لینا فرض ہے؟
یا یہ صرف تمہاری انا ہے جو تمہیں لڑوا رہی ہے؟
ہم عبادت بھی کرتے ہیں، مگر دل میں فہرست بنی ہوتی ہے:
اس نے یہ کیا تھا، موقع ملا تو چھوڑوں گی نہیں۔”
یہ عبادت نہیں، یہ خود کو دھوکہ دینا ہے۔
اگر واقعی “اینٹ کا جواب پتھر” ہی قانون ہوتا، تو پھر یومِ حساب کی ضرورت ہی کیا تھی؟
ہر فیصلہ یہیں ہو جاتا، ہر قصہ یہیں ختم ہو جاتا۔
مگر اللہ نے ایک دن رکھا ہے — تاکہ تم ہر معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے کچھ چیزیں اس کے حوالے کرو۔
صبر بدلے کا انتظار نہیں ہے۔
صبر یہ نہیں کہ تم خاموش رہو مگر اندر بدلہ پکاؤ۔
صبر یہ ہے کہ تم چھوڑ دو۔ واقعی چھوڑ دو۔
دل سے بوجھ اتار دو۔
کہو: “
یا اللہ، میں نے معاملہ تیرے حوالے کیا۔”
تم اپنی زندگی کا آدھا سکون صرف اس لیے کھو دیتے ہو کیونکہ تم ہر بات کو ذاتی بنا لیتے ہو۔
ہر چھوٹا مسئلہ اگر تم بڑھاؤ گے تو وہ تمہیں ہی کھا جائے گا۔
زندگی خوبصورت ہے، مگر شرط ایک ہے:
ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں۔
ہر بات ثابت کرنا ضروری نہیں۔
ہر انسان کو جواب دینا ضروری نہیں۔
کچھ چیزیں اللہ پر چھوڑ دو۔
کچھ باتیں بھول جاؤ۔
اپنے دماغ سے یہ مسلسل شور نکال دو۔
ورنہ تم دنیا سے نہیں ہارو گے —
تم اپنی ہی نفرتوں سے ہار جاؤ گے۔
عائشہ ❤